بہار کی سیاست میں راشٹریہ جنتا دل نے ایک اہم تنظیمی تبدیلی کرتے ہوئے تیجسوی یادو کو قومی ورکنگ صدر مقرر کیا ہے۔ یہ تقرری پارٹی کی انتخابی ناکامیوں اور یادو خاندان کے اندرونی اختلافات کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔
EPAPER
Updated: January 26, 2026, 5:14 PM IST | Patna
بہار کی سیاست میں راشٹریہ جنتا دل نے ایک اہم تنظیمی تبدیلی کرتے ہوئے تیجسوی یادو کو قومی ورکنگ صدر مقرر کیا ہے۔ یہ تقرری پارٹی کی انتخابی ناکامیوں اور یادو خاندان کے اندرونی اختلافات کے پس منظر میں سامنے آئی ہے۔
بہار کے سابق نائب وزیرِ اعلیٰ تیجسوی یادو کو اتوار کوراشٹریہ جنتا دل (آر جے ڈی) کا قومی ورکنگ صدر مقرر کیا گیا۔ اس سے قبل آر جے ڈی میں قومی ورکنگ صدر کا عہدہ موجود نہیں تھا۔ اس تقرری کا اعلان آر جے ڈی کی قومی عاملہ کی میٹنگ کے افتتاحی اجلاس کے دوران کیا گیا، جہاں پارٹی صدر لالو پرساد یادو نے سینئر لیڈرں کی موجودگی میں اپنے بیٹے کو تقرری کا خط سونپا۔ اس موقع پر بہار کی سابق وزیرِ اعلیٰ اور لالو پرساد یادو کی اہلیہ رابڑی دیوی بھی موجود تھیں۔ پارٹی نے اس تقرری کو’’نئے دور کا آغاز‘‘ قرار دیا۔ یہ تنظیمی ردوبدل۲۰۲۵ء کے بہار اسمبلی انتخابات میں آر جے ڈی کی خراب کارکردگی کے بعد سامنے آیا ہے۔ کانگریس کے ساتھ مہاگٹھ بندھن اتحاد کی قیادت کرتے ہوئے پارٹی نے ۱۴۳؍میں سے ۲۵؍نشستیں جیتیں جن پر اس نے مقابلہ کیا تھا۔ تاہم، ووٹ شیئر کے لحاظ سے آر جے ڈی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری، اور تیجسوی یادو نے اپنی راگھوپور کی نشست برقرار رکھی۔
एक नए युग का शुभारंभ!
— Rashtriya Janata Dal (@RJDforIndia) January 25, 2026
श्री @yadavtejashwi जी बनाए गए राष्ट्रीय जनता दल के कार्यकारी अध्यक्ष! @yadavtejashwi pic.twitter.com/BLFvzXJsJh
یہ پیش رفت لالو پرساد یادو کے خاندان کے اندر جاری کشیدگی کے درمیان بھی سامنے آئی ہے۔ حالیہ مہینوں میں تیجسوی یادو کے بہن بھائیوں، جن میں ان کے الگ تھلگ بڑے بھائی تیج پرتاپ یادو اور بہن روہنی آچاریہ شامل ہیں، نے عوامی بیانات دیئےہیں جو خاندان اور پارٹی کے اندر اختلافات کی نشاندہی کرتے ہیں۔ سنگاپور میں مقیم آچاریہ نے سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ میں اس تقرری پر تنقید کرتے ہوئے’’خوشامدیوں اور’درانداز گروہ‘ کو ‘شہزادے سے کٹھ پتلی بنائے گئے شخص کی تاج پوشی پر مبارکباد دی۔
جب آچاریہ کے تبصروں کے بارے میں تیج پرتاپ یادو سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا:’’ہاں، وہ جو کہہ رہی ہے وہ درست ہے۔ ‘‘تاہم، انہوں نے کہا کہ وہ آر جے ڈی سے متعلق معاملات پر کوئی تبصرہ نہیں کریں گے کیونکہ وہ اب پارٹی میں نہیں ہیں۔ تیج پرتاپ یادو، جو سابق ریاستی وزیر رہ چکے ہیں، کو مئی میں ان کے والد نے’’ذاتی زندگی میں اخلاقی اقدار کو نظر انداز کرنے‘‘ کے الزام میں چھ سال کیلئے پارٹی سے نکال دیا تھا۔ یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب تیج پرتاپ یادو کے فیس بک پروفائل سے ایک پوسٹ پر تنازع کھڑا ہو گیا، جس میں ان کی ایک خاتون انوشکا یادو کے ساتھ تصویر شامل تھی۔ اس پوسٹ میں، جو بعد میں حذف کر دی گئی، کہا گیا تھا کہ وہ اور سابق وزیر۱۲؍ سال سے تعلق میں تھے۔
یہ بھی پڑھئے: راہل گاندھی نے فضائی آلودگی کا مسئلہ اٹھایا
کئی سوشل میڈیا صارفین نے مئی۲۰۱۸ء میں تیج پرتاپ یادو کی ایشوریہ رائے سے شادی کا حوالہ دیا، جو بہار کے سابق وزیر چندریکا رائے کی بیٹی ہیں۔ انہوں نے سوال کیا کہ اگر وہ اس وقت کسی اور خاتون کے ساتھ تعلق میں تھے تو انہوں نے ایشوریہ رائے سے شادی کیوں کی۔ تیج پرتاپ یادو اور ایشوریہ رائے شادی کے چند ماہ بعد ہی الگ ہو گئے تھے اور ان کی طلاق کا مقدمہ پٹنہ کی ایک عدالت میں زیرِ سماعت ہے۔ اس وقت تیج پرتاپ یادو نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہو گئے تھے اور ان کی تصاویر کو’’غلط طریقے سے ایڈٹ کر کے مجھے اور میرے خاندان کو ہراساں اور بدنام کیا گیا۔ ‘‘ انہوں نے اپنے خیر خواہان اور فالوورز سے اپیل کی تھی کہ وہ افواہوں پر دھیان نہ دیں۔ ستمبر میں، تیج پرتاپ یادو نے جن شکتی جنتا دل کے نام سے ایک نئی پارٹی قائم کی۔