مولانا ابوالکلام آزاد کی فکری تربیت اگرچہ مکّہ، کلکتہ اور دہلی میں ہوئی، تاہم بہار کے علماء، ادباء اور سیاسی کارکنوں سے ان کے روابط نے ان کے افکار کو عوامی سطح پر وسعت دی۔اخبار’’ الہلال‘‘ اور بعد میں ’’البلاغ‘‘کے ذریعے مولانا کے انقلابی افکار بہار کے اضلاع پٹنہ، گیا، مونگیر، دربھنگہ اور رانچی وغیرہ تک پہنچے۔
برصغیر کی فکری، سیاسی اور تہذیبی تاریخ میں مولانا ابوالکلام آزادؒ کا نام ایک ہمہ جہت شخصیت کی حیثیت سے ثبت ہے۔ وہ بیک وقت ایک عظیم مفسرِ قرآن، صاحبِ طرز ادیب، صحافی، مفکر، سیاست داں اور ہندوستان کی آزادی کی تحریک کے قائد تھے۔ ان کی زندگی کا مطالعہ کرتے ہوئے عموماً دہلی، کلکتہ، علی گڑھ اور بمبئی جیسے مراکزِ علم و سیاست پر توجہ مرکوز کی جاتی ہے، لیکن ریاستِ قدیم بہار،جس میں موجودہ بہار اور جھارکھنڈ شامل ہیں،خصوصاً رانچی سے ان کا تعلق ایک ایسا پہلو ہے جس پر خاطر خواہ تحقیقی کام کم ہوا ہے۔ مولانا آزاد کے قدیم بہارسے فکری، سیاسی، صحافتی اور روحانی روابط کا جائزہ لینا وقت کی ضرورت ہے۔قدیم بہارہندوستان کی فکری تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ نالندہ، وکرم شیلا اور اودنت پوری جیسی عظیم جامعات اسی خطے میں قائم تھیں۔ بدھ مت، جین مت اور بعد ازاں اسلامی علوم و تصوف کے مراکز نے اس خطے کو ایک زرخیز علمی سرزمین بنایا۔
یہ بھی پڑھئے: ’’دُنیا کا سب سے خطرناک آدمی‘‘
انیسویں اور بیسویں صدی کے اوائل میں بہار اور جھارکھنڈ آزادی کی تحریک، سماجی اصلاح اور مذہبی بیداری کے اہم مراکز بنے۔ یہی وہ پس منظر ہے جس میں مولانا ابوالکلام آزاد کی فکری و سیاسی سرگرمیوں کو سمجھنا ضروری ہے ۔مولانا آزاد کی فکری تربیت اگرچہ مکّہ، کلکتہ اور دہلی میں ہوئی، تاہم بہار کے علماء، ادباء اور سیاسی کارکنوں سے ان کے روابط نے ان کے افکار کو عوامی سطح پر وسعت دی۔اخبار’’ الہلال‘‘ اور بعد میں’’ البلاغ ‘‘کے ذریعے مولانا کے انقلابی افکار بہار کے اضلاع پٹنہ، گیا، مونگیر، دربھنگہ اور رانچی وغیرہ تک پہنچے۔ ان اخبارات کی اشاعت پر پابندی کے باوجود بہار کے نوجوانوں اور علما ء میں ان کے مضامین خفیہ طور پر گردش کرتے تھے۔
یہ بھی پڑھئے: ایرانی خواتین کے ہاتھوں میں رہی ہیں تحریکیں
آزاد کا رانچی سے تعلق محض جغرافیائی یا وقتی نہیں بلکہ فکری اور روحانی اعتبار سے نہایت اہم ہے۔ برطانوی حکومت نے ۱۹۱۶ء میں انہیں نظر بند کر کے رانچی منتقل کیا۔رانچی اس وقت ایک نسبتاً پُرسکون، قدرتی حسن سے مالا مال مگر سیاسی طور پر حساس مقام تھا۔ انگریز حکومت کا خیال تھا کہ اس دور افتادہ مقام پر نظر بندی مولانا کی سیاسی سرگرمیوں کو محدود کر دے گی، مگر یہ قیام مولانا کے لئے فکری یکسوئی اور باطنی استقامت کا سبب بن گیا۔رانچی میں قیام کے دوران مولانا آزاد نے قرآن فہمی، اسلامی تاریخ اور فلسفہ پر گہری توجہ مرکوز کی۔یہیں ان کے فکری سفر میں ایک نیا مرحلہ شروع ہوتا ہے، جس کا عکس بعد میں ترجمان القرآن اور ان کی خودنوشت انڈیا ونس فریڈم میں دیکھا جا سکتا ہے۔رانچی کی تنہائی نے مولانا کو یہ موقع فراہم کیا کہ وہ سیاست کے ہنگاموں سے ہٹ کر امتِ مسلمہ اور ہندوستانی قومیت کے مشترکہ مستقبل پر غور رانچی میں قیام کے دوران مولانا آزاد کا قومی یکجہتی کا تصور مزید واضح اور مضبوط ہوا۔یہیں انہوں نے اس نظریے کو عملی صورت میں ڈھالا کہ ہندوستان مختلف مذاہب، زبانوں اور تہذیبوں کا مجموعہ ہے، اور آزادی کی جدوجہد کسی ایک مذہب یا طبقے کی نہیں بلکہ پوری قوم کی مشترکہ جدوجہد ہے۔یہی تصور آگے چل کر ان کے خطبہ رام گڑھ اور کانگریس کی صدارت میں ان کی پالیسیوں کا بنیادی ستون بنا۔
یہ بھی پڑھئے: سچ جھوٹ کی حفاظت نہیں کرتا!
جنگِ آزادی اور آزاد ہندوستان میں مولانا آزاد کی شخصیت ملکی سطح پر محور ومرکز کی رہی اور تاریخ اور سیاست کے ساتھ ساتھ تاریخ ادب میں بھی ان کی حیثیت ایک منفرد باب کی حامل بن گئی ۔جہاں تک بہار میں آزاد شناسی کا سوال ہے تو جنگِ آزادی کے بعد سے ہی مولانا آزاد کی ہمہ جہت شخصیت اور ان کے افکار و نظریات پر مضامین ومقالات لکھنے اور کتاب تصنیف وتالیف کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا تھا اور اب تک سیکڑوں مقالات اور درجنوں کتابیں دستیاب ہیں لیکن حال ہی میں ڈاکٹر رفیع اللہ مسعود تیمی ، استاد اردو وعربی ادب ، مدرسہ منظر العلوم ، پرسا مرجدوا ، مغربی چمپارن ، بہار نے آزاد شناسی کو نئی جہت عطا کرنے کا بیڑا اپنے سر اٹھایا ہے ۔انہوں نے مولانا آزاد کے مختلف النوع موضوعات لکھے گئے تمام مضامین کو موضوعی اعتبار سے ترتیب دینے کا کام شروع کیا ہے اور اس کی عملی صورت ’’کلّیاتِ مولانا ابو الکلام آزاد ‘‘ حصہ اول اور دوئم شائع ہو چکی ہے۔ان دونوں جلدوں میں ڈاکٹر تیمی نے اسلامیات پر مبنی مضامین کو یکجا کیاہے۔اس کلیات کی ایک خاص انفرادیت یہ ہے کہ مولانا آزاد کی موت کے بعد ان کے مختلف مضامین کو مختلف عنوانات کے تحت شائع کرنے کی روش عام ہوئی اور اس میں اغلاط کے انبار جمع ہونے لگے۔ڈاکٹر تیمی نے اصل مسودہ اور بالخصوص ’’الہلال‘‘ اور ’’البلاغ ‘‘ میں شائع شدہ مضامین کے متن کو صحت کے ساتھ اس کلیات میں مرتب کیا ہے۔جلد اول ۷۴۳؍ صفحات اور جلد دوئم ۸۶۳؍ صفحات پر مشتمل ہے۔ میرے خیال میں آزاد شناسی کے باب میں اس طرح کی علمی وادبی کاوش کرنے والے اب خال خال ہی نظر آتے ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ اب شہرت پسندی ہمارے ادبی معاشرے کا وطیرہ بن چکا ہے اور جامعاتی تحقیق بھی بس ڈگری حاصل کرنے کی کوشش تک محدود ہوگئی ہے ۔ ایسے وقت میں مولانا آزاد جیسی ہمہ جہت شخصیت اور ان کے علمی وادبی کارناموں کو اصل متن اور صحت کے ساتھ شائقینِ ادب تک پہنچانے کا کام نہ صرف قابلِ تحسین ہے بلکہ مشعلِ راہ بھی ہے۔انہوں نے بہت سے ایسے گم شدہ اوراق کو بھی جگہ دی ہے جو اب تک قارئین کی آنکھوں سے اوجھل تھے۔جلد اول میں ۲۵؍ اور جلد دوئم میں ۳۰؍ مضامین شامل ہیں اور ان مضامین کی اشاعت پر جو مباحث ہوئے تھے اسے بھی شامل کیا گیاہے ۔ اس لحاظ سے یہ کلیات آزاد شناسی میں صرف اضافہ نہیں ہے بلکہ ایک تحقیقی وتنقیدی چشم کشا تحریروں کا آئینہ ہے جس میں آزاد شناس اپنی تصویر دیکھ سکتے ہیں ۔یہ دونوں کلیات الہدیٰ ریسرچ پبلی کیشن، منشی ڈانگا ، سردارر پارہ ، کولکاتا ، مغربی بنگال سے شائع ہوئی ہے ۔اس دور عا لمیت میں جب تحقیق کے معیار ووقار پر بحث ہو رہی ہے ایسے میں ڈاکٹر تیمی کا یہ علمی وادبی کارنامہ اردو ادب کے معیار او ر وقار کی حوالہ جاتی حیثیت حاصل کر سکتا ہے۔