حکومت گجرات ماڈل کومثالی بناکر پیش کرتی ہےاوربہت سی ریاستیں اس ماڈل کی پیروی کررہی ہیںلیکن حقیقت یہ ہےکہ یہ ماڈل ناکام ہوچکا ہے، اس میںانسانی ترقی کوکم اورسرمائےکو زیادہ ترجیح دی گئی ہے ۔
بی جےپی تقریباً۳۰؍برسوں سے مسلسل گجرات پر حکومت کرتی آرہی ہے ۔سمجھا جاتا ہےکہ گجرات میں دو پارٹیوں (بی جےپی اور کانگریس) کا سیاسی اثر ورسوخ رہا ہے لیکن بابری مسجد شہید کئے جانے سے پہلے سےاب تک کانگریس نے ریاست میں کوئی بھی الیکشن نہیں جیتا، نہ تو اسمبلی اور نہ ہی لوک سبھا ۔ اس عرصے میں بی جے پی کو ریاست میں حکمرانی اور قانون کا ڈھانچہ تشکیل دینے کی پوری گنجائش اور آزادی حاصل رہی ۔ تقریباً۲۵؍ سال پہلے۲۰۰۲ء کے قتل عام کے بعد ’گجرات ماڈل‘ کی اصطلاح عام ہوئی۔ ہم اس پر ایک نظر ڈالیں گے کہ یہ ماڈل کیا ہے اور ’نیو انڈیا‘ کے تعلق سے کئے جانے والے انکشافات اوردعوؤں سے اس کا کیاتعلق ہے ۔گجرات ماڈل کا پہلا عنصر مسلمانوں کا سیاسی ا نخلاء ہے۔ گجرات میں دہائیوں سے بی جے پی کا کوئی مسلم رکن اسمبلی یا یا وزیر نہیں ہے اور پارٹی انہیں الیکشن لڑنے کے لیے ٹکٹ تک نہیں دیتی ۔
نیو انڈیا یا نئے ہندوستان میں گجرات کے اسی طریقے کی پیروی کی جارہی ہے ۔ گزشتہ تین لوک سبھا انتخابات میں سے بی جے پی نے دومیں واضح اکثریت حاصل کی اور تیسرے میں بھی اسے نسبتاًاچھی سیٹیں حاصل ہوئیں لیکن ان میں ایک بھی مسلم رکن نہیں رہا۔ آج بی جے پی کے پاس راجیہ سبھا کے لگ بھگ۹۰؍ ممبران ہیں لیکن کوئی مسلمان نہیں ہے ۔دوسرے عنصر کا تعلق ان قوانین سے ہے جن کی آڑ میں اقلیتوں کو مظالم کا تختہ مشق بنایاجاتا ہے۔ مویشیوں کا غیر قانونی ذبیحہ بظاہر ایک معاشی جرم ہے (آئین کے آرٹیکل۴۸؍ کے تحت جس کا تعلق مویشی پالنے اور نسلوں کو بہتر بنانے سےہے) ۔لیکن، کسی معاشی نوعیت یا وہائٹ کالرجرم میں عمر قید کی سزا کا التزام نہیں ہےجبکہ گائے کے ذبیحہ کے جرم میں یہ التزام موجود ہے۔ بینکوں کے ساتھ فریب دہی اورسرمایہ کاروں کو ہزاروں کروڑ وں کا دھوکہ دینے پر بھی عمر قید کی سزا نہیں ہے لیکن گائے کے ذبیحہ پر ہے۔ اس کی وجہ صرف یہی ہےکہ مویشیوں کے ذبیحہ کو ایک مذہبی معاملہ بنا دیا گیا ہے اور یہی پیٹرن پورے ملک میں دہرایا جارہا ہے ۔ گھر میں بیف رکھنے کو جرم قرار دینے کا قانون پہلی مرتبہ ۲۰۱۵ء میں سا منے آیا ۔پہلے بی جے پی کی دو ریاستوں مہاراشٹر اور ہریانہ میں یہ قانون نافذ کیا گیا اورہجومی تشدد کے واقعات بھی شروع ہو گئے ،اس کے بعد ایسے واقعات ملک بھر میں ہونے لگے۔راجستھان کی کابینہ نے کہا ہے کہ وہ اپنے یہاں گجرات کی طرز کا ایک قانون نافذ کرے گی جو مسلم بستیوں کو محدود ومحصورکرتا ہےاورانہیں ان حدود وحصار کے باہرجائیدادیں اور املاک خریدنے یاانہیں کرائے پر لینے سے روکتا ہے۔ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان شادی کو جرم قرار دینے وا لاقانون ۲۰۱۸ء میں اتراکھنڈ میں متعارف کیاگیا جسےآج ۷؍ ریاستوں میں نافذکیاجاچکا ہے ۔ شہریت سے متعلق قانون اور مسلمانوں کو اجتماعی طورپر حق رائے دہی سے محروم کرنے سے متعلق پالیسیوں پر ان دنوں پورے ملک میں کام ہورہا ہے ۔یہ تیسرا عنصر ہے جس کاتعلق ریاستی مشینری کے ذریعے مسلمانوں کومختلف بہانوں سے ظلم و ستم کا نشانہ بنانے سے ہے ۔
نیویارک ٹائمس نے گزشتہ ہفتے رپورٹ شائع کی تھی جس میں بتایا گیا تھاکہ اتر پردیش کے سنبھل میں ایک حکومتی آلہ کار جو کبھی غیر جانبداری سے کام کرتا تھا، اس کا آج ایک اکثریتی ریاست کے ذریعے غلط استعمال کیا جا رہا ہے ۔ یہ حقیقتاً معمول بن چکا ہے۔ ۲۰۱۷ء کے آس پاس بی جے پی کی ریاستی حکومتوں نے قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جائیدادوں ،مکانوں اور دکانوں کو مسمار کرنے کیلئےبلڈوزر کا استعمال شروع کیاتھا ، ان میں زیادہ تر املاک مسلمانوں کی تھیں ۔ دو رپورٹس میں جن میں ایک میری تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل انڈیا نے اور دوسری سٹیزنس اینڈ لائرز انیشی ایٹیو نے تیار کیا ہے ، یہ بات سامنے آئی ہے کہ حکومتوں نے خود لاقانونیت کی حوصلہ افزائی کی اور پھر بلڈوزرکے استعمال سے دریغ نہیں کیا۔ نظام انصاف ان میں زیادہ تر معاملات میں خاموش تماشائی بنا رہابلکہ یہ کہنا غلط نہیں ہےکہ ریاستی مشینری بھی زیادہ تر افرادکے خلاف اس طرح کی زیادتیوں میں ملوث رہی ۔
چوتھا عنصر وہ طریقہ ہے جس کےذریعے ہندوستان اور اس میں بسنے والے مختلف فرقوں کے گرد بیانیے تشکیل دئیے جارہے ہیں ۔ دانستہ ایسی زبان استعمال کی جارہی ہے جس کا مقصد تقسیم کا زہر پھیلانا ہے ۔ ایک طبقہ یہ کام کرنے میں کامیاب رہا ہے۔ یہ ایک طریقہ ہے جس کا جائزہ لے کرہم کہہ سکتے ہیں کہ کبھی جو چیز غیر معمولی اور استثنیٰ ہوا کرتی تھی وہ آج معمول بن چکی ہے۔ مذہب اورعقیدہ کی بنیاد پرکسی فرد کو نشانہ بنانا آج عام ہوچکاہے ۔ ایسی وارداتوں پرریاست، عدلیہ اور میڈیا کا خاموش رہنا شرپسندوں کو مزید حوصلہ فراہم کرتا ہے۔ اس صورتحال کو تبدیل کرنا اورایسے واقعات کو روکنا آسان نہیں ہے ، یہ اسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہےجبکہ انہیں نہ صرف روکا جائے بلکہ پوری طرح (امن وامان ،افہام وتفہیم اوراخوت کا) ایک مختلف راستہ اختیار کیا جائے۔گجرات ماڈل کے پانچویں عنصر کا تعلق اس پہلو سے ہےجس میں انسانی ترقی کو ترجیح کم دی جاتی ہے۔ ایچ ڈی آئی انڈیکس میں گجرات کی پوزیشن آمدنی ، صحت اور تعلیم کے اعتبار سے کمزوربتائی گئی ہے۔گجرات ماڈل کی مخالفت کرنے والے اس پیمانے کو سب سے بڑی بنیادکے طورپر دیکھتےہیں اوراسکے مقابلے میں وہ کیرالا ماڈل کو بطور مثال پیش کرتے ہیں جس میں فرد کی ترقی کوترجیح دی گئی ہے ۔ گجرات ماڈل میں سرمایہ یعنی پیسہ اور اس سے وابستہ مفادات کو عوام کے مفادات پر مقدم رکھا گیا ہے ۔ چھٹا عنصر وہ ہے جس پر زیادہ بات نہیں کی جاتی لیکن یہ گجرات ماڈل کا وہ پہلوہے جو تھوڑاپیچیدہ ہے۔اس پہلوکو اس فقرہ سے مشتہر کیاجاتا ہے کہ’ یہ ضروری نہیں کہ حکومت ہرمرتبہ کارِ حکومت ہی انجام دیتی رہے۔‘ یہی وجہ ہےکہ ’سوٹ بوٹ کی سرکار‘کاسربراہ ہونے کے باوجود وزیر ا عظم مودی اکثر اپنی عاجزی اورفقیری کا اظہار کرتے رہتے ہیں ۔حکومت چند کارپوریٹ اداروں اور صنعتکاروں کے رحم و کرم پر چل رہی ہےجن میں زیادہ گجراتی ہیں ۔ اسی کانتیجہ ہےکہ عام آدمی کے جوحالات ۲۰۱۴ء میں تھے ،ان میں اب بھی کوئی قابل ذکر تبدیلی نہیں آئی ہے۔ان بنیادوں پر کہا جاسکتا ہےگجرات ماڈل قابل تقلید ماڈل نہیں ہے اوریہ بات قبول کرنا بہت مشکل ہےکہ اس پر نئے ہندوستان کی بنیاد رکھی جاسکتی ہے ۔