Inquilab Logo Happiest Places to Work

گجرات: سابق کونسلر کا چند گھنٹوں میں یوٹرن، کانگریس سے بی جے پی میں واپسی

Updated: April 10, 2026, 5:02 PM IST | Bhavnagar

گجرات کے شہر بھاو نگر میں ایک سابق خاتون کونسلر کے چند گھنٹوں میں سیاسی جماعت تبدیل کرنے کے واقعے نے ہلچل مچا دی ہے۔ سیجل بین گوہیل نے بی جے پی چھوڑ کر کانگریس میں شمولیت اختیار کی، تاہم چند گھنٹوں بعد بی جے پی میں واپسی کا اعلان کر دیا۔ اس اچانک تبدیلی کے بعد دونوں جماعتوں کے درمیان الزامات اور جوابی بیانات کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے، جبکہ واقعہ مقامی سیاست میں ایک بڑی بحث بن گیا ہے۔

Photo: X
تصویر: ایکس

گجرات کے شہر بھاو نگر میں ایک غیر معمولی سیاسی پیش رفت نے مقامی سیاست کو گرما دیا ہے، جہاں ایک خاتون کونسلر نے چند گھنٹوں کے اندر دو مختلف سیاسی جماعتوں کے درمیان اپنا رخ تبدیل کیا، جس کے بعد سیاسی حلقوں میں شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ ودوا (بی) وارڈ سے تعلق رکھنے والی سابق کونسلر سیجل بین گوہیل نے ابتدا میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کانگریس میں شمولیت اختیار کرنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر انہوں نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’میں نے پارٹی چھوڑنے کا فیصلہ اس لیے کیا کیونکہ مجھے اپنے فرائض کی انجام دہی کے دوران مناسب تحفظ حاصل نہیں تھا، اور مجھے اپنے حلقے میں بعض عناصر کی جانب سے دھمکیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ اگر ایک منتخب نمائندہ خود کو محفوظ محسوس نہیں کرتا تو عام شہریوں، خصوصاً خواتین، کے لیے صورتحال مزید تشویشناک ہو جاتی ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ہمایوں کبیر اور بی جے پی کے بڑے لیڈروں کے درمیان کروڑوں روپے کی ڈیل کا دعویٰ

ان کے اس بیان کو مقامی سطح پر ایک اہم سیاسی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا تھا، خاص طور پر اس لیے کہ یہ اعلان بلدیاتی انتخابات سے قبل سامنے آیا۔ تاہم اس اعلان کے چند ہی گھنٹوں بعد سیجل بین نے اپنا مؤقف تبدیل کرتے ہوئے بی جے پی میں واپسی کا اعلان کر دیا۔ واپسی کے موقع پر انہوں نے کہا کہ ’’مجھے گمراہ کیا گیا تھا اور کچھ بیانات دینے کے لیے دباؤ ڈالا گیا، تاہم میں نے صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد اپنی غلطی کا احساس کیا اور اپنے اصل پلیٹ فارم پر واپس آنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ انہیں بعض وعدوں اور ترغیبات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی گئی تھی، تاہم بعد میں انہیں محسوس ہوا کہ یہ فیصلہ درست نہیں تھا۔
اس اچانک یوٹرن کے بعد کانگریس کی جانب سے بھی ردعمل سامنے آیا۔ بھاو نگر سٹی کانگریس کے صدر منہر سنگھ گوہیل نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’’وہ خود اپنے حامیوں کے ساتھ پارٹی دفتر آئی تھیں اور شمولیت کی خواہش ظاہر کی تھی۔ ہم نے انہیں واضح کیا تھا کہ اس میں کوئی شرط شامل نہیں ہے، اور انہوں نے اپنی مرضی سے پریس کانفرنس میں گفتگو کی تھی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پارٹی کی جانب سے ان پر کسی قسم کا دباؤ نہیں ڈالا گیا اور نہ ہی انہیں مخصوص بیانات دینے کی ہدایت دی گئی۔

یہ بھی پڑھئے: بیڑ میں این سی پی لیڈرعزیز کچھی پر قاتلانہ حملہ، بری طرح زخمی

خیال رہے کہ یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب بھاو نگر میونسپل کارپوریشن کے انتخابات قریب ہیں، اور مختلف سیاسی جماعتیں اپنی پوزیشن مضبوط کرنے میں مصروف ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق چند گھنٹوں کے اندر اس نوعیت کی تبدیلی نے نہ صرف مقامی سیاست میں سوالات کو جنم دیا ہے بلکہ دونوں بڑی جماعتوں کے درمیان لفظی جنگ کو بھی تیز کر دیا ہے۔ یہ واقعہ اب شہر کی سیاست میں ایک نمایاں موضوع بن چکا ہے، جہاں مختلف حلقے اس کے پس منظر اور اثرات پر اپنی رائے کا اظہار کر رہے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK