مجوزہ قانون کیا کہتا ہے، اس کے آئینی اثرات کیا ہوں گے، مختلف طبقات پر اس کے عملی نتائج کیا ہوں گے اور کیا اس کے نفاذ سے پہلے کافی مشاورت ہوئی ہے؟ جیسے سوالات کے جوابات تلاش کرنا ضروری ہے؟
EPAPER
Updated: September 21, 2026, 3:08 PM IST | Professor Mushtaq Ahmed | Mumbai
مجوزہ قانون کیا کہتا ہے، اس کے آئینی اثرات کیا ہوں گے، مختلف طبقات پر اس کے عملی نتائج کیا ہوں گے اور کیا اس کے نفاذ سے پہلے کافی مشاورت ہوئی ہے؟ جیسے سوالات کے جوابات تلاش کرنا ضروری ہے؟
ہندوستان کی موجودہ سیاسی فضا کو محض ایک واقعے، ایک بیان یا ایک سیاسی جماعت کے فیصلے سے سمجھنا شاید ممکن نہیں۔ ایک طرف نوجوان نسل کے درمیان مختلف مسائل کو لے کر بے چینی اور احتجاج کا ماحول ہے، دوسری طرف سیاست کے ایوانوں میں ایسے موضوعات دوبارہ مرکزی اہمیت حاصل کر رہے ہیں جن کے سماجی اور سیاسی اثرات دور رس ہوسکتے ہیں۔ ایسے ماحول میں یکساں سول کوڈ، یعنی یونیفارم سول کوڈ (یو سی سی) کے بارے میں مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کا تازہ اعلان ایک اہم سیاسی واقعہ بن کر سامنے آیا ہے۔ واضح ہو کہ ۱۳؍ ستمبر ۲۰۲۶ء کو ممبئی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران امیت شاہ نے کہا کہ ۲۰۲۹ء سے پہلے بی جے پی کی قیادت والے این ڈی اے کی حکومت والی تمام ۲۱؍ ریاستوں میں یکساں سول کوڈ نافذ کیا جائے گا۔ ان کے مطابق بعض ریاستوں میں یہ پہلے ہی نافذ کیا جا چکا ہے اور آئندہ اسے دیگر این ڈی اے ریاستوں تک توسیع دی جائے گی۔ یہ اعلان اپنی جگہ اہم ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ اہم اس کا بہار کی سیاست پر پڑنے والا فوری اثر ہے۔
بہار میں بی جے پی اور جنتا دل (یونائیٹڈ) ایک ہی این ڈی اے اتحاد کا حصہ ہیں، مگر یکساں سول کوڈ کے مسئلے پر دونوں کے سیاسی لہجے میں فرق نمایاں دکھائی دے رہا ہے۔ جے ڈی یو نے فوری طور پر نہ تو اس مسئلے کی قطعی مخالفت کو اپنا سرکاری حتمی موقف قرار دیا اور نہ ہی مرکزی اعلان کی غیر مشروط تائید کی۔ پارٹی کے سینئر لیڈر وبہار کے نائب وزیر اعلیٰ وجئے چودھری نے کہا ہے کہ پہلے مجوزہ قانون اور اس کے مسودے کو دیکھا جائے گا اور حساس معاملے پر وسیع مشاورت ضروری ہے۔ جے ڈی یو کے قومی ورکنگ صدر سنجے جھا نے وزیر داخلہ سے ملاقات کا وقت بھی مانگا ہے، تاکہ پارٹی اپنی تشویش اور موقف ان کے سامنے رکھ سکے۔ دوسری طرف پارٹی کے جنرل سیکریٹری شیام رجک نے اس سے زیادہ سخت زبان استعمال کرتے ہوئے کہا کہ بہار میں یو سی سی نافذ نہیں ہونے دیا جائے گا۔
یہ بھی پڑھئے:تکارام منڈے نے کھانوں کو موضوع بنایا لیکن بی جے پی کی طرح نہیں
یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا این ڈی اے جیسا اتحاد ہر معاملے میں یکساں سیاسی موقف رکھ سکتا ہے؟ یا اتحادی جماعتوں کو اپنے مخصوص سماجی اور علاقائی پس منظر کے مطابق الگ رائے رکھنے کی گنجائش بھی ہونی چاہئے؟ بہار کے تناظر میں یہ سوال خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یو سی سی کے مسئلے پر نتیش کمار کا موقف کوئی اچانک پیدا ہونے والی سیاسی الجھن نہیں ہے۔ جے ڈی یو کے لیڈروں نے حالیہ دنوں میں اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی ہے کہ جب نتیش کمار وزیر اعلیٰ تھے تو انہوں نے لا کمیشن کے سامنے یو سی سی کے بارے میں اپنی تشویش ظاہر کی تھی۔ پارٹی کے مطابق وہ موقف اب بھی جے ڈی یو کے لئے ایک رہنما اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔ جے ڈی یو کے لیڈر نیرج کمار نے کہا ہے کہ نتیش کمار کے سابقہ خط میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ ملک کے مختلف مذہبی اور سماجی طبقات کے جذبات کا احترام کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ابھی یو سی سی کا کوئی حتمی سرکاری مسودہ سامنے نہیں آیا ہے۔ یہی وہ نکتہ ہے جہاں بہار کی سیاست پیچیدہ ہوجاتی ہے۔ ایک طرف بی جے پی کی مرکزی قیادت ۲۰۲۹ء سے پہلے ۲۱؍ این ڈی اے ریاستوں میں یو سی سی نافذ کرنے کا ہدف پیش کر رہی ہے، دوسری طرف اس کے بعض اہم اتحادی پہلے مسودہ، مشاورت اور ریاستی و سماجی حساسیت کو سمجھنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ اصل سوال صرف یہ نہیں کہ یو سی سی آئیگا یا نہیں، سوال یہ بھی ہے کہ وہ کس طریقے سے، کس مشاورت کے بعد اور کن قانونی دفعات کے ساتھ آئیگا۔ یو سی سی کا تعلق بنیادی طور پر ان معاملات سے ہے جو ذاتی قوانین کے دائرے میں آتے ہیں، مثلاً شادی، طلاق، وراثت اور گود لینے کے معاملات۔ تصور یہ ہے کہ مذہب کی بنیاد پر مختلف شخصی قوانین کے بجائے شہریوں کیلئے ایک مشترک قانونی نظام ہو۔ آئین ہند کے آرٹیکل ۴۴؍ میں ریاست سے کہا گیا ہے کہ وہ پورے ملک میں شہریوں کیلئے یکساں سول کوڈ حاصل کرنے کی کوشش کرے۔ لیکن یہ بات بھی اتنی ہی اہم ہے کہ آرٹیکل ۴۴؍ بنیادی حقوق کے باب میں نہیں بلکہ ریاستی پالیسی کے رہنما اصولوں میں شامل ہے۔ آرٹیکل ۳۷؍ کے مطابق یہ اصول حکمرانی کیلئے بنیادی ہیں لیکن عدالت کے ذریعے براہِ راست قابلِ نفاذ نہیں ہیں۔ اسی لئے یو سی سی کی بحث محض سیاسی نعرے کی بحث نہیں ہے۔ اس میں آئینی قانون، شخصی قانون، مذہبی آزادی، صنفی مساوات، قبائلی اور علاقائی روایات، وفاقی ڈھانچے اور سماجی تنوع جیسے کئی پہلو شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ان دنوں’ جین زی‘ کی بہت باتیں ہورہی ہیں، ملئے ’جین زی‘ اساتذہ سے اور جانئے ان کے تاثرات
دوسری طرف بی جے پی کا موقف یہ ہے کہ اس کے اتحادیوں کے خدشات کو بات چیت کے ذریعے دور کیا جاسکتا ہے اور اس سلسلے میں اتراکھنڈ کے یو سی سی ماڈل کا حوالہ بھی دیا جا رہا ہے۔ یہ صورتحال این ڈی اے کے اندر اتحادی سیاست کی ایک بڑی آزمائش بھی ہے۔ ٹی ڈی پی سمیت بعض دیگر اتحادی جماعتوں نے بھی یو سی سی پر مسودہ دیکھنے اور وسیع مشاورت کی ضرورت کی بات کی ہے۔ بہار میں ایل جے پی (رام ولاس) کے رہنما چراغ پاسوان نے بھی ہندوستان کے سماجی تنوع، مختلف روایات اور متعلقہ آئینی تحفظات کی طرف توجہ دلائی اور کہا کہ مسودہ سامنے آنے کے بعد تمام متعلقہ فریقوں کے مفادات کو دیکھنا چاہئے۔ بہار میں جدیو کے سامنے صورتحال پیچیدہ ہے۔ وہ این ڈی اے کا حصہ ہے، مگر اس کے سامنے ریاست کے مخصوص سماجی تناظر اور اس کے اپنے سابقہ موقف کا سوال بھی موجود ہے۔ دوسری طرف بی جے پی کے سامنے اپنے بڑے اتحادیوں کو اعتماد میں لینے کا مسئلہ ہے۔ نوجوان نسل کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ حکومت سے اپنے بنیادی سوالات پوچھے، اور مذہبی و سماجی طبقات کو بھی یہ حق حاصل ہے کہ وہ کسی بڑے قانونی تغیر پر اپنی تشویش بیان کریں۔ جمہوریت کا حسن یہی ہے کہ مختلف آوازیں ایک دوسرے کو ختم کرنے کے بجائے آئینی مکالمے کا حصہ بنیں۔ یکساں سول کوڈ پر آنے والے دنوں میں بہار کی سیاست یقیناً مزید گرم ہوگی۔ مگر اس بحث کی اصل کامیابی تب ہوگی جب سیاسی شور کے درمیان قانون، آئین، سماجی انصاف، شہری مساوات اور ہندوستان کی کثرت پسند تہذیب کے بنیادی سوالات دبنے نہ پائیں۔ یہی وہ مقام ہے جہاں حکومت، اپوزیشن، اتحادی جماعتوں، مذہبی و سماجی نمائندوں اور سب سے بڑھ کر نوجوان شہریوں کی ذمہ داری ایک دوسرے سے جڑ جاتی ہے، اختلاف ضرور ہو، مگر مکالمہ ختم نہ ہو۔ اقلیت طبقے کو بھی آئینی تقاضوں کے ساتھ ساتھ ہم خیال اکثریت طبقے کے سنجیدہ افراد کے ساتھ اس مسئلے پر گفت و شنید کی ضرورت ہے تاکہ یہ حساس مسئلہ فرقہ واریت کا رنگ اختیار نہ کرسکے اور آئینی تحفظ کی صدا بن جائے۔