موسم باراں اس سال تاخیر سے شروع ہوگا۔ اس موسم کےتصور کے ساتھ ہی سیلاب کا تصور بھی اُبھرتا ہے بالخصوص اُن علاقوں میں جہاں ہر سال یہ مصیبت آتی ہے۔ بارش، پانی، سیلاب، تباہی، یہ مضمون انہی باتوں کا احاطہ کرتا ہے۔
گنگاندی۔ تصویر:آئی این این
اِس عنوان کا تعلق اُس وقت اور موسم سے ہے جب گنگا کا پانی بہت اونچا ہو گیا ہو۔ پانی کی بلندی کنارے پر کھڑے شخص کو کس قدر ڈراتی ہے۔’’ندی کا کنارہ اور چنچل ہو‘‘ ایک مشہور فلمی نغمے کا ٹکڑا ہے۔ اسے سن کر مسرت و شادمانی کا احساس ہوتا ہے لیکن ندی کا کنارہ، دیکھتے دیکھتے پانی میں شامل ہو جاتا ہے۔ لفظ کنارہ ہماری زندگی میں کتنی اہمیت کا حامل ہے۔ کسی کو تمام عمر کنارہ نہیں مل پاتا اور کوئی بہت کم وقت میں کنارے تک پہنچ جاتا ہے۔
دیکھا جائے تو لفظ کنارہ کا بنیادی رشتہ ندی سے ہے۔ کنارہ ساحل بھی ہے اور اسی سے ساحلی علاقہ ذہن میں ابھرتا بھی ہے۔ مجھے گنگا کی لہروں کا خیال جون کی تپتی ہوئی دھوپ اور موسم میں کیوں آیا، اس سوال کا جواب دینا ضروری نہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جو کچھ آس پاس کی دنیا میں ہو رہا ہے اس کا بھی کوئی موسم نہیں ہے، جیسے ہماری آنکھیں کبھی بے سبب بھر آتی ہیں لیکن آنسو یہ بھی کہتے ہیں کہ ان کے آنے کا سبب ضرور ہے لہٰذا خشکی کے موسم میں برسات اور سیلاب کا ذکر دراصل زندگی کی اس ناقابل بیان دشواری اور مصیبت کو یاد کرنا ہے جسے باڑھ اپنے ساتھ لاتی ہے۔
سیلاب کے بارے میں بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ پچھلے دنوں ہندی میں ایک کتاب شائع ہوئی جس کا تعلق بہار کے سیلاب سے ہے۔بہار کی ایک بڑی آبادی سیلاب سے متاثر ہوتی ہے۔ سیلاب کے دنوں میں سیلاب سے متاثر ہونے والوں کا ذکر کرنا ایک رسمی اور رواجی عمل بن گیا ہے۔ سیلاب کو روکنے کی کوششوں کے ساتھ ساتھ متاثر ہونے والوں کی بنیادی ضرورتوں کا خیال، یہ وہ باتیں ہیں جن کا رشتہ انسانی اقدار سے ہے۔ لوگ امداد کرتے ہیں یہ سوچے بغیر کہ ان کا مذہب کیا ہے اور ان کی برادری کیا ہے۔
ہر سال اپنے وقت پر سیلاب آتا ہے، رسمی اور رواجی باتیں شروع ہو جاتی ہیں۔اگر خشکی کے موسم میں ساحلی علاقوں کا سفر کیا جائے تو حقائق کے تئیں ہمارا لائحہ عمل زیادہ ٹھوس اور حساس ہو سکتا ہے۔ ندی سے اٹھنے والی لہریں کنارے تک آتے آتے تھک جاتی ہیں۔مگر لہریں تازہ دم بھی ہوتی رہتی ہیں۔ ایک مرتبہ جو لہر کنارے تک آتی ہے، وہ دوبارہ تو نہیں آتی۔ لیکن ندی کے کٹاؤ سے جو انسانی آبادی بے گھر ہوتی ہے، وہ بہت کم دوبارہ پھر وہاں آباد ہوتی ہے۔ یہ آبادی بھی گنگا سے اٹھنے والی اُس لہر کی طرح ہے جو بس ایک مرتبہ کنارے تک آتی ہے۔ لہروں کے بارے میں یہ بھی کہا گیا کہ یہ کنارے پر اپنا سر پیٹتی ہیں۔ کنارے پر کھڑے ہو کر ندی کی لہروں کو دیکھنا ایک ایسا عمل ہے جسے خوف سے بھرا ہوا کہا جا سکتا ہے لیکن اس کی حیثیت تہذیبی بھی ہے۔ تہذیب کا دائرہ اتنا پھیلا ہوا ہے کہ اس میں لہریں بھی شامل ہیں۔ یہ لہریں بہت کچھ کہتی ہیں۔ کہا جاتا ہے اور تاریخ یہ بتاتی ہے کہ تہذیب کا ارتقا ساحلی علاقوں میں پہلے ہوا اور تیزی کے ساتھ ہوا۔ خشکی محرومی کے سوا اور کیا ہے۔ لیکن خشک موسم میں سیلاب سے نہائے اور ڈوبے ہوئے انسانوں اور مکانوں کو یاد کرنا، ایک انسانی اور اخلاقی عمل ہے البتہ صرف یاد کرنے سے کیا ہوتا ہے۔ بار بار یہی ہوتا ہے کہ ابھی وہ آبادی، جو برباد ہوگئی، دوبارہ آباد بھی نہیں ہو سکی کہ پھر سیلاب کا موسم آ جاتا ہے۔
سیلاب کی وجہ سے ساحلی علاقے لوگوں سے خالی کرا لئے جاتے ہیں۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سیلاب آ جاتا ہے اور سامان وہیں رہ جاتا ہے۔ لوگ ڈوب بھی جاتے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ عام طور پر سیلاب رات میں آتا ہے۔ وہ رات کتنی خوفناک ہو جاتی ہے پانی کے شور سے، جیسے کہ پانی کا شور زمین کا زلزلہ بھی ہو۔
اصل بات تو ساحلی علاقوں سے بے دخل کئے جانے والے لوگوں کو دوبارہ آباد کرنا ہے۔لوگ ہر سال سیلاب سے بے گھر ہوتے ہیں اور پھر یہ خواہش بھی رکھتے ہیں کہ انہیں دوبارہ وہیں آباد کیا جائے۔ کبھی یہ خواہش پوری ہوتی ہے اور اکثر یہ خواہش پوری نہیں ہو پاتی۔ سوچنے کا یہ بھی ایک غیر انسانی انداز ہے کہ سیلاب کو روکا نہیں جا سکتا، اس میں کسی کا کیا قصور ہے۔ برسات پانی کی سطح کو بڑھا دیتی ہے، اور یہ خوف بڑھتا جاتا ہے کہ آنے والی شام اور رات ،پانی کی سطح کو کچھ اور اونچا کر دے گی۔ ایک رات ہے جو ختم ہونے کا نام نہیں لیتی۔ یہ وہی رات ہے جسے سیلاب کی رات کہا جا سکتا ہے۔
عام طور پر دن کے اجالے میں سیلاب کی رات کو دیکھنے کی کوشش کی گئی۔ یہی وجہ ہے کہ ندی کے کنارے بسنے والوں کی زندگیاں آج بھی پناہ گاہ کی تلاش میں ہیں۔ جو تحریری حقائق موجود ہیں، انہیں ضرور دیکھا جائے لیکن اصل حقائق تو ان افراد کی جھوپڑیوں میں موجود ہیں، جنہیں بے گھری کا احساس کچوکے لگاتا رہتا ہے۔ساحلی علاقے اپنی گیلی اور نرم مٹی کے ساتھ کتنے پرکشش معلوم ہوتے ہیں۔ یہ علاقے پرندوں کو بھی اپنی جانب بلاتے ہیں۔ گنگا نے زمینوں کے ساتھ ساتھ ذہنوں کو بھی تراوٹ بخشی ہے۔ گنگا کے ساتھ جو اخلاقی اور روحانی تصور وابستہ ہے، اس کا احساس بھی بے گھری کے ساتھ موجود رہتا ہے لیکن یہ بات دہرانا چاہتا ہوں کہ سیلاب کی رات کو دن کی روشنی میں دیکھنے کے بجائے اسے رات میں بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔
سیلاب سے اجڑنے والے گھروں کو دوبارہ تعمیر کرنے کی آواز اٹھتی رہی ہے۔ یہ آواز کس نے نہیں سنی ہے؟
غم دنیا میں غم جاں کی حقیقت کیا ہے
دوسرے چپ ہوں تو کچھ اپنی صدا بھی آئے
(عرفان صدیقی)
کبھی ایک فرد کی آواز پوری انسانیت کی آواز بن جاتی ہے۔مگر آواز کی بھی اپنی تنہائی ہے۔جب سیلاب کا پانی اپنے بہاؤ، اور شور کے ساتھ ساحلی علاقوں کو بہا لے جاتا ہے، تو اس وقت بھی ایک آواز فضا میں ابھر رہی ہوتی ہے۔ اسی لئے مجھے خیال آتا ہے، سیلاب کے شور کا اور ندی کے کنارے کا۔ سچ یہ ہے کہ ہم آج بھی ندی کے کنارے کھڑے ہو کر پانی کی لہروں کا نظارہ کر رہے ہیں۔ کاش ندی کے کنارے کی وہ آبادی پھر آباد ہو جائے
’’جس کی امید میں کوئی جیتا رہا کوئی مرتا رہا!‘‘