غزہ جنگ، روس یوکرین جنگ اور ایران مخالف جنگ، ادھر کئی ہفتوں اور مہینوں سے جنگ کے بارے میں پڑھتے اور غور کرتے ہوئے ذہن کسی اور موضوع کی طرف منتقل نہیں ہوتا۔ یہ بھی کتنی عجیب بات ہے کہ کسی کتاب کا موضوع کچھ بھی ہو مگر نگاہ جنگ کے تعلق سے کہیں مرکوز رہتی ہے۔
کبھی انسانوں کے سیلاب میں کوئی ایسی کشتی مل جاتی ہے جس میں ایک خاموشی ہے اور تنہائی بھی۔ بظاہر تو یہ بات کچھ غیر حقیقی معلوم ہوتی ہے لیکن تجربہ یہی بتاتا ہے کہ شور سے بھری اس دنیا میں کوئی ایک ایسی دنیا بھی ہے جس میں سناٹا ہے اور خاموشی۔ پچھلے اتوار کو بک بازار، دریا گنج مہیلا ہاٹ میں سرویشور دیال سکسینہ کی شاعری کا مجموعہ ’’ایک سونی ناؤ‘‘ مل گیا۔ سرویشور دیال جی کی شاعری سے تھوڑی سی واقفیت چلی جاتی ہے لیکن پہلی مرتبہ ان کے مجموعے کو پڑھتے ہوئے معلوم ہوا کہ جیسے شاعری عام زندگی کے اظہار میں کبھی اتنی دور نکل جاتی ہے کہ اس کی واپسی ممکن نہیں ہو پاتی۔ واپسی کی تمنا وہی لوگ کرتے ہیں جنہیں معلوم ہوتا ہے کہ اپنے وقت کے ساتھ جینے اور مرنے کا مطلب کیا ہے۔ یہ جو اپنا وقت ہے وہ بہت دھوکہ دیتا ہے۔ کسی اور کا وقت اپنا ہو جاتا ہے اور اپنا وقت کسی اور کا۔ ادھر کئی ہفتوں اور مہینوں سے جنگ کی بابت پڑھتے اور غور کرتے ہوئے ذہن کسی اور موضوع کی طرف مشکل سے منتقل ہو پاتا ہے۔ یہ بھی کتنی عجیب بات ہے کہ کسی کتاب کا موضوع کچھ بھی ہو مگر نگاہ جنگ پر مرکوز رہتی ہے۔ جہاں لفظ جنگ ہے وہاں تو جنگ ہے ہی مگر جہاں لفظ جنگ نہیں ہے وہاں بھی جنگ داخلی سطح پر موجود ہے۔ زیر نظر مجموعے میں بھی جنگ کی صورتحال کا بیان ہے اور جہاں یہ بیان نہیں ہے وہاں بھی کہیں کہیں زندگی لہو لہان نظر آتی ہے۔ شاعر کا تجربہ عام انسانوں کے تجربے سے وہاں قریب ہو جاتا ہے جہاں وہ شہر اور اس کے حادثات کا ذکر کرتا ہے۔ شہر میں حادثوں کا ہونا شہر کو ایک معنی عطا کرتا ہے کیونکہ شہر کسی کی پروا نہیں کرتا، وہ اپنی سرمستی کے ساتھ ہوتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ترنمول مکت بنگال بنانے کا ارادہ؟
جس سونی ناؤ کا ذکر اوپر آیا ہے وہ شہر میں کبھی کبھی اور کہیں کہیں دکھائی دیتی ہے اور جس کے مقدر میں ٹھہراؤ ہے، وہ سرویشور کی تٹ پر رات کے اندھیرے میں لوٹ آتی ہے۔ اس پر کوئی سوار نہیں ہے، لگتا ہے کہ جیسے سب لوگ اِس پار سے اُس پار ہو گئے اور ندی کو لگتا ہے کہ کشتی آتی جاتی رہے۔ سونی ناؤ رات کے سناٹے میں جو فضا قائم کرتی ہے، اسے زندگی کا واحد رنگ نہیں کہا جا سکتا۔ شہر اور حادثہ کے درمیان کوئی رشتہ ہے جو گزرتے وقت کے ساتھ مضبوط ہوتا ہے:
ایک شہر/ چپک رہا ہے میرے جوتوں میں/ میں لوٹنا چاہتا ہوں/ ہاتھوں میں پسی کچے مسالے کی خوشبو / میرے پیچھے پیچھے گھوم رہی ہے / اور رومال ہوٹلوں میں چھوٹ گئے ہیں/ یوں چھوڑنے کو مَیں/ یہ جوتے بھی چھوڑ سکتا ہوں/ بلوں اور بس کے ٹکٹوں پر/ پیر رکھتا ہوا/ راہ موڑ سکتا ہوں / پر دکانیں بند ہیں/ اور مجھے اپنی قیمت چکانی ہے / یہ زندگی ہے جو قدموں سے لپٹی ہوئی ہے۔
زندگی گزارنے والا شہر میں زندگی کی کتنی قیمت ادا کرتا ہے۔ ’’مجھے اپنی قیمت چکانی ہے‘‘ یہ جملہ ہر شخص کی ایک کہانی سناتا ہے جس کے کردار ہر جگہ موجود ہیں۔ یہ جوتے کیا ہیں، دکانوں کا کھلا ہونا ضروری ہے۔ انہی سے زندگی کا کبھی کبھی سراغ ملتا ہے۔ کیا کسی مزدور کے پاؤں میں اتنی طاقت ہو سکتی ہے کہ وہ راہ کو موڑ سکتا ہو۔ نظم میں تو بہرحال اس کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ تمام ممکنات کا تعلق دکان کے کھلے رہنے سے ہے۔ سرویشور دیال کی ایک نظم ’’جنگ کی حالت‘‘ ہے۔ اس میں جنگ کا رخ باہر کی طرف نہیں، اندر کی طرف سے ہے۔ جنگ بندی کا اعلان کتنا خوش کر دیتا ہے، چہروں پر زندگی رقص کرنے لگتی ہے۔ اس کا اعلان کرنے والا خود کو خوش نصیب تصور کرتا ہے کہ اسے اس بات کا موقع ملا۔ نظم اس طرح شروع ہوتی ہے:
میں زندہ رہنا چاہتا ہوں/ اسی لئے ہر سمے / کسی نہ کسی جنگ میں شریک ہوں/ ایک جنگ ہر لمحے / میں اپنے بھیتر لڑتا ہوں / دھرتی کو بڑا کرنے کے لئے/ اور مناظر کو خوبصورت/ جمالیات کو فراخ دل کرنے کے لئے/ اور عقیدوں کو سمندر/ ایک جنگ میں ہر لمحہ/ اپنے بھیتر لڑتا ہے / تمناؤں کو پھولوں سے بھرنے کے لئے۔
یہ بھی پڑھئے: کیا یورپ بالآخراسرائیل کو سمجھ چکا ہے؟
یہ نظم جنگ کا بہت ہی افسوسناک بیانیہ ہے۔ متکلم کے یہاں غصہ بہت ہے ۔وہ جنگ کی تباہی کو مختلف حوالوں سے دیکھتا ہے۔ اپنے آپ سے جنگ لڑنے والا بڑھتے بڑھتے یہ بھی لکھتا ہے کہ مجھے جنگ سے نفرت ہے، کیوں ہے وہ اس کے اسباب بتاتا ہے۔ اسباب بتاتے ہوئے اپنی بھاشا کو زمین سے اٹھنے نہیں دیتا۔ بمباری کا ذکر کرتا ہے تو پھر اسے کچھ دکھائی نہیں دیتا اسلئے کہ بمباری تو بمباری ہے۔ جو دھواں اٹھتا ہے وہ کسی مذہب یا برادری کو نہیں دیکھتا۔ نظم کے مصرعے دیکھئے: میں نفرت کرتا ہوں اس جنگ سے / جو بیڑیاں کھولنے کی جگہ/ بیڑیاں پہناتا ہے/ دیواریں ڈھانے کی جگہ/ دیواریں اٹھاتا ہے/ آدمی کے دل کے/ میدانوں کو چھوٹا کرتا ہے/ ریگستانوں کو بڑھاتا ہے۔ نظم غصے اور جھنجلاہٹ کے ساتھ بڑھتی ہے اور پھر شاعری کی بھاشا پھٹ پڑتی ہے: جس کے پیر میں تم جوتے نہیں دے سکتے/ اس کے ہاتھ میں تمہیں / بندوق دینے کا کیا حق ہے/ میں ہر لمحہ ان فوجیوں سے لڑتا ہوں/ جو ایک ڈلیا میں اپنے / نئے بچے کو چھپائے گھبرائی بھاگتی/ عورت کے پیچھے بندوق اٹھائے دوڑ رہے ہیں / میں ہر لمحہ فوجیوں کو روکتا ہوں/ جو بھوکے پیاسے پیچھے سے آتی کسی آواز کی للکار پر / دوسرے کے خدا کو مار کر / اپنے خدا کو با وقار کرنے کیلئے جوجھ رہے ہیں۔
یہ جنگ اندر بھی جاری ہے اور باہر بھی۔ یہاں آ کر اندر اور باہر کا فرق مٹ جاتا ہے۔ ہمارا تعلق زندگی کے کسی شعبے سے ہو سکتا ہے مگر یہ بھی غور کرنے کا مقام ہے کہ داخلی طور پر ہماری جو الجھن ہے اس کا رشتہ زمانے سے کچھ ہے یا نہیں۔ ایک عجیب تماشہ ہے اس نظم میں جاری۔ دیکھتے دیکھتے متکلم یعنی بیان کرنے والا محسوس کرتا ہے کہ اسے ایک ایسی جنگ میں جھونکا گیا ہے جس سے نکلنے کی کوئی راہ نہیں ہے۔ اس سے یہ بھی لگتا ہے کہ وہ دنیا کے مقابلے میں بہت چھوٹا ہے مگر دنیا بھی کبھی اس سے چھوٹی دکھائی دیتی ہے۔ ایک جنگ جو اپنے وجود کے اندر جاری ہے وہ گویا باہر کی جنگ کیلئے خود کو تیار کر رہا ہے۔ میں نے جنگ پر ایسی نظم پہلے کبھی نہیں پڑھی۔ جنگ کا سیاق اور پس منظر بدل جاتا ہے مگر شاعر کا خیال ہے کہ انسانیت مرتی ہے اور انسان انسانیت کیلئے لڑتا ہےیہ پس منظر کبھی نہیں بدلتا۔
نظم کچھ اس طرح ختم ہوتی ہے۔/ میں خود ایک جنگ ہوں / میری کسی اور جنگ کے لئے/ تعمیر مت کرو/ میں زندہ رہنا چاہتا ہوں/ اسی لئے ہر وقت/ کسی نہ کسی جنگ میں شریک ہوں۔