مضمون میں انسان کی تخلیق اور ارتقاء پر بات کی گئی ہے۔ ’ہیومن آر ناتھ فرام دی اَرتھ‘ کی مصنف ڈاکٹر ایلس سلور نے اپنی کتاب میں انسان کی تخلیق پر کئے سوالات قائم کئے ہیں جیسے کہ ہم دُنیا میں کب، کیوں اور کیسے آئے؟ جن کے جوابات قرآن حکیم کی مختلف آیات میں ملتا ہے۔ مضمون میں چند آیات کے ذریعہ انسان کی تخلیق کے متعلق بتایا گیا ہے۔
انسان کی تخلیق کے سلسلے میں جو مختلف نظریے ہیں انہیں عمومی حیثیت میں دو حصوں یا نوع میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پہلا سائنسی اور دوسرا مذہبی۔ سائنسی نظریوں میں سب سے زیادہ مشہور ڈارون کا نظریہ ہے جس کے مطابق تمام انسان اور انسان جیسے دکھائی دینے والے جانداروں کی بناوٹ (Anatomy) میں ہی نہیں ڈی این اے میں بھی کافی مشابہت ہے۔ مذہبی نظریے الگ الگ بھی ہیں اور ان میں کہیں کہیں مشابہت بھی ہے۔ قرآن حکیم کی مختلف آیات میں انسان کی تخلیق کا ذکر آیا ہے مگر ابھی امریکہ کے Wisconsin سے تعلق رکھنے والے Dr Ellis Silver کی کتاب Human Are Not From The Earth پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ یہاں میں عرض کر دوں کہ میں اُردو کا شیدائی بھی ہوں اور طالب علم بھی۔ اس کے باوجود مجھے یہ کہنے میں عذر نہیں کہ اُردو ادب و علم کے زوال کی طرف سفر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ موضوع اور طرز تحریر دونوں اعتبار سے اُردو زبان اچھا لکھنے والوں سے محروم ہوتی جارہی ہے۔ اچھا لکھنے والوں سے محروم ہوجانے کا ہی نتیجہ ہے پڑھنے والوں سے بھی محروم ہوجانا۔ اس لئے پڑھنے اور سننے والوں کے کم یا ختم ہوجانے کا ماتم کرنے کے بجائے اس سوال پر غور کرنا ضروری ہے کہ اُردو کتابوں یا تحریروں کو لوگ کیوں اور کیسے پڑھیں ؟ اب آئیے اصل موضوع پر۔ ہمارا عقیدہ ہے کہ انسان کے جد حضرت آدمؑ جنت سے زمین پر بھیجے گئے تھے۔ اقبال کا شعر بھی ہے؎
باغِ بہشت سے مجھے حکم سفر دیا تھا کیوں
کار جہاں دراز ہے اب میرا انتظار
مذکورہ کتاب کا نام ہے Human Are Not From The Earth یعنی بنی نوع انسان زمین سے تعلق نہیں رکھتی۔ کتاب کا حاصل یہ ہے کہ تمام مخلوقات آرام سے رہتی ہیں سوائے انسان کے۔ انسان کو آب و ہوا کی تبدیلیوں میں اپنا وجود قائم رکھنے کے لئے سو قسم کے جتن کرنے پڑتے ہیں ۔ اس نے کئی سوالات قائم کئے مثلاً ہم دُنیا میں کب، کیوں اور کیسے آئے؟ ہم دیگر مخلوقات کی طرح نہ تو ہر جگہ سو سکتے ہیں نہ رہ سکتے ہیں تو پھر ہم کہاں سے آئے ہیں ۔ ہم ایسی مخلوق سے ناواقف ہیں جس کو Aliens کہتے ہیں ۔ ہمارے ڈی این اے اور آر این اے کے متعلق ہماری معلومات بھی انتہائی محدود ہیں ۔ ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ ہمارا ڈی این اے اسی زمین پر تشکیل یا تخلیق پایا کہ کہیں اور؟ انسان یا انسانی زندگی کے ارتقاء کے بارے میں جتنے بھی نظریات ہیں ان کا تعلق بیشتر افریقہ سے ہے۔ دنیا کے دوسرے حصوں کے انسانوں کے ارتقاء سے صرفِ نظر کیا گیا ہے۔ ان سوالوں کے جو جوابات کتاب کے مصنف ڈاکٹر ایلس سلور نے دیئے ہیں وہ یہ ہیں :
l انسان کے علاوہ باقی مخلوقات کو اسی زمین یا دنیا کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس لئے وہ سردی گرمی برسات کو برداشت بھی کر لیتی ہیں اور جیسے چاہیں رہ بھی لیتی ہیں ۔ ان مخلوقات کو کھانا بھی قدرت کی طرف سے مہیا ہوتا ہے جبکہ انسان کو گدا اور بستر چاہئے اور بھوک مٹانے کے لئے اس کو من پسند کھانا بھی خود ہی تیار کرنا پڑتا ہے۔
l سبھی مذاہب تسلیم کرتے ہیں کہ اچھے کاموں کا انعام اور بُرے کاموں کی سزا متعین ہے اور ہمیں کہیں اور منتقل بھی ہونا پڑتا ہے مثلاً جنت، جہنم، سورگ، نرک، Paradise یا Hell میں ۔
l وہ انسان ہے جو طرح طرح کے مسائل کا سامنا کرتا اور بیماریوں سے جوجھتا ہے جبکہ دیگر مخلوقات کیلئے ایسا کچھ بھی نہیں ہے۔
اس قسم کے سوالوں کو قائم کرنے کے بعد ڈاکٹر سلور نے جو جوابات دیئے ہیں وہ کئی ہیں اور وہ بھی ایسے کہ ان کے جواب دینا مشکل ہے۔ حاصل گفتگو یہ ہے کہ انسان کی تخلیق کسی اور Planet پر ہوئی اور اس کو سزا کے طور پر زمین پر بھیج دیا گیا۔ ۶۴۴؍ صفحات کی یہ کتاب جو ۲۰۱۷ء میں منظرعام پر آئی زمین پر انسانی زندگی کے ارتقاء اور اس کے بارے میں سائنسی نظریات کے سلسلے میں بہت کچھ سوچنے پر مجبور کرتی ہے۔ ہمارے ذہنوں میں جو سوالات پیدا ہوتے ہیں ان کے جوابات کسی سائنسی نظریے میں نہیں بلکہ اسلامی عقیدے اور قرآنی بیانات میں موجود ہیں ۔ ان سے ظاہر ہوتا ہے کہ قرآن حکیم تَوہّم کو نہیں بلکہ غور و فکر کے مادے کو بڑھاوا دیتا ہے۔
سورہ المومن میں ان تمام مراحل کا ذکر ہے جن سے انسان پیدا ہو کر گزرتا اور بالآخر موت کا شکار ہوجاتا ہے۔
سورہ الانسان (سورہ الدہر) میں بیان کیا گیا ہے کہ ’’بے شک ہم نے انسان کو ملے جلے نطفے سے امتحان کے لئے پیدا کیا اور اس کو سننا اور دیکھنا سکھایا۔‘‘
اور پھر دوسری جگہ مختلف مراحل کا بھی ذکر کیا (سورہ المومن: ۶۷) ’’وہ وہی ہے جس نے تمہیں مٹی سے پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا اور بچے کی صورت میں نکالا یا نکالتا ہے۔ وہی تم کو بڑھاتا ہے کہ تم اپنی پوری قوت کو پہنچ جاؤ حتیٰ کہ بوڑھے ہو کر فوت ہوجاؤ۔ بعض اس سے پہلے یعنی بڑھاپے سے پہلے بھی مر جاتے ہیں ۔‘‘
یہ ضروری نہیں کہ مَیں نے جو لکھ دیا اس پر یقین کر لیا جائے البتہ یہ ضروری ہے کہ انسان کی تخلیق اور ارتقاء کے بارے میں قرآن حکیم کے ارشادات کا مطالعہ کیا جائے وہ بھی الگ الگ نقاط نظر سے۔ قرآن ایک ہے مگر اس کی تفاسیر مختلف ہیں ۔ ہر شخص کو حق ہے کہ وہ چاہے جس تفسیر، اگر وہ اسلاف کے طریقے پر ہو، سے اتفاق کرے مگر مسئلہ قرآن سے ہی دریافت کرے اور قرآن کے ہی بیان کو حتمی سمجھے۔ میں تو مولانا آزاد، مولانا مودودی، مولانا محمد شفیع.... وغیرہ کی تفاسیر سے استفادہ کرتا ہوں ۔