Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیلفاسٹ میں ہنگامے، چاقو زنی کی ایک واردات کے بعد فساد پھوٹ پڑا

Updated: June 12, 2026, 3:02 PM IST | Belfast

سیکڑوں مظاہرین سڑکوں پر آگئے،ایک بس اور کئی کاروں کو نذر آتش کردیا گیا،وزیراعظم کیئر اسٹارمر نےچاقو زنی کی واردات کو تشویشناک بتایا۔

The image below shows a destroyed building in Belfast. Photo: INN
زیر نظر تصویر میں بیلفاسٹ کی تباہ شدہ عمارت دیکھی جاسکتی ہے۔ تصویر: آئی این این

شمالی آئر لینڈ میں تارکین وطن (اِمیگرنٹ) مخالف فساد اُس وقت پھوٹ پڑا جب چاقو زنی کی ایک واردات کے بعد سیکڑوں مظاہرین سڑکوں پر آگئے۔ ان میں سے کئی لوگ اپنا چہرا ڈھانپے ہوئے تھے جو الگ الگ مقامات پر یکجا ہوئے۔ اس دوران ایک بس اور کئی کاروں کو نذر آتش کردیا گیا جبکہ سٹی سینٹر کے قریب واقع ایک عمارت کے ایک حصے میں آگ بھی دیکھی گئی جس کے مکینوں کو فوری طور پر باہرنکالاگیا۔برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹارمر نے چاقوزنی کی واردات کو، جو شمالی بیلفاسٹ میں وقوع پزیر ہوئی، تشویشناک بتایا۔

واصح رہے کہ اس واردات سے قبل ایک حالیہ واقعہ بھی عوامی تشویش کاباعث بنا ہوا ہے جس میں پولیس کی تحویل میں ایک طالب علم کا قتل کردیا گیاتھا۔ اس کے قاتل نے غلط بیانی کرتے ہوئےاسے نسل پرستانہ حملہ قرار دیاتھا۔یہی نہیں، اس دوران کئی مظاہرے ہوئے جو بنیادی طور پر اِمیگریشن پالیسی کے خلاف تھے۔ برطانیہ کی کئی پارٹیاں کہہ چکی ہیں کہ حکومت ِ برطانیہ کی پناہ دینے کی پالیسی ناقص ہے، اس کی وجہ سے خوفناک اور خطرناک لوگ ملک میں آگئے ہیں۔گزشتہ سال بھی شمالی آئر لینڈ میں حالات اسی طرح بگڑے تھے جب جنسی حملے کا ایک واقعہ رونما ہوا تھا۔ 

یہ بھی پڑھئے: تھائی شہزادی بجراکیتیابھا کا ۳؍ سال کومے میں رہنے کے بعد انتقال، خاندان سوگوار

غیر ملکی تارکین وطن کی موجودگی کو موضوع بحث بنانے اور اُن کے خلاف ماحول تیار کرنے میں برطانیہ کی ریفارم یوکے اور ریسٹور برٹین جیسی شدت پسندپارٹیاں پیش پیش بتائی جاتی ہیں۔ شمالی آئر لینڈ کے وزیر انصاف نومی لونگ نے سوشل میڈیا پر احتجاج کرنے والوں کو متنبہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ کل تک یہ نہیں جانتے تھے کہ دُنیا کے نقشے پر بیلفاسٹ کہاں ہے، وہ حالیہ واقعات سےپیدا شدہ عوام کے خوف کو جارحیت کے رُخ پر موڑ رہے ہیں (خوف کو ہتھیار بنانے پر مجبورکررہے ہیں)۔ اُن کا کہنا تھا کہ اگر آپ کچھ لوگوں کو اُن کی جلد کی رنگت کی وجہ سے گھروں سے نکالیںگے تو اسے چاہے جو نام دیں، حقیقت چھپ نہیں سکتی کہ یہ نسل پرستی ہے۔ ایسے منفی خیال کےحامل لوگوں کو اپنا قدم پیچھے لے لینا چاہئے۔ وزیر انصاف بی بی سی ریڈیو ۴؍ کے ایک پروگرام میں اظہار خیال کررہے تھے۔ 

السٹر یونینسٹ پارٹی کے لیڈر جون بروز نے، جو مشرقی بیلفاسٹ کے بعض علاقوں سے گزر رہے تھے، سڑکوں پر ہجوم کو دیکھا۔ شرپسندوں کے چہرےماسک سے ڈھکے ہوئے تھے۔ ان کی عمر ۱۶؍سال سے کم رہی ہوگی۔ بقول جون بروز ایسا لگتا ہے کہ یہ کم عمر شرپسند غیر ملکی تارکین وطن کے مکانوںکی شناخت کرکے اُنہیں نقصان پہنچانا چاہتےتھے۔ ڈیموکریٹک ری پبلک آف کانگو کے ایک شہری نے، جو اَب آئر لینڈ میں اپنی بیوی، دو بیٹوں اور ایک بیٹی کے ساتھ لِنڈر ک اسٹریٹ پر رہتے ہیں، بتایا کہ انہوں نےفساد کے جو مناظر دیکھے وہ خوفزدہ کرنےوالے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ مجھے زیادہ تشویش اس لئے ہے کہ اگر یہی حال رہا تو کل میرا بھی نمبر آسکتا ہے۔ یہی حال رہا تو کل میرا مکان بھی جلایا جاسکتا ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: برطانیہ، آسٹریلیا اور کنیڈا کا دو ریاستی حل کیلئے مشترکہ فنڈ قائم کرنے کا اعلان

بیلفاسٹ ٹیلی گراف کی ایک رپورٹ کے مطابق، چاقو زنی میں ملوث شخص کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش کیا گیا جہاں اُسے۴؍ہفتے حراست میں رکھنے کا حکم دیا گیا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ملزم ہادی العدید ۳۰؍ سالہ سوڈانی ہے۔ وہ فروری ۲۰۲۳ء میں پیرس سے ڈبلن بذریہ طیارہ آیا،اس کے بعد آئر لینڈ کی سرحد سے شمالی آئر لینڈ میں داخل ہوا۔ ستمبر ۲۰۲۳ء میں اس نے آئر لینڈ میں پناہ حاصل کرنے کی درخواست دی جسے قبول کرتے ہوئے برطانیہ میں ۲۰۲۸ء تک قیام کی اجازت دی گئی تھی۔ جس شخص پر ہادی العدید نے حملہ کیا اس کی ایک آنکھ زخمی ہوئی اور گردن نیز پیٹھ پر چوٹیں آئی ہیں۔ اس کا نام اسٹیفن اوگلوی ہے جس کے اہل خانہ نے بعد ازاں پھوٹ پڑنے والے فساد کی مذمت کی اور کہا کہ بدامنی کا خیرمقدم نہیں کیا جاسکتا،اگر احتجاج ضروری ہے تو اسے پُرامن ہونا چاہئے۔ 

پولیس کے مطابق شمالی آئر لینڈ میں نسل پرستانہ نفرتی ترغیبات میں اضافہ ہورہا ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ء میں ختم ہونے والے سال کے دوران نسل پرستی پر مبنی ۲۳۶۷؍ واقعات رونما ہوئے۔ اس سے قبل کے سال میں اسی نوعیت کے واقعات کی مجموعی تعداد ۱۸۰۶؍ تھی۔ 

یہ بھی پڑھئے: اٹلی: جارجیا میلونی نے اسرائیلی آبادکاروں اوربین گویر پر پابندیوں کی حمایت کی

دریں اثناء لندن میں سوڈان کے سفارت خانےنےچاقو زنی میں زخمی ہونے والے شخص کےساتھ اظہار ہمدردی کیا ہے۔ اپنے پیغام میں سفارت خانےنے اس سنگین واقعہ کی مذمت کی اورکہا کہ ہم اُن لوگوں کے بھی ساتھ ہیں اور اُن کےتئیں بھی ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں جو بیلفاسٹ کے فساد کی زدپر آئے اور جن کے مکانات نذر آتش کئے گئے۔ پیغام میں یہ بھی درج تھا کہ کسی ایک شخص کے عمل کو پوری برادری یا قوم کے سر منڈھنا ٹھیک نہیں ہے، سوڈانی کمیونٹی برطانوی معاشرہ کیلئے مثبت خدمات پیش کرتی آئی ہے جس کا ریکارڈ پرانا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK