آج سے ٹی۔۲۰؍ویمنز ورلڈ کپ کا آغاز،انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان پہلا میچ کھیلا جائےگا،ہندوستانی ٹیم۱۴؍جون کو پاکستان کیخلاف مہم کا آغاز کرےگی،دفاعی چمپئن نیوزی کا پہلا مقابلہ ونڈیز سے ہوگا۔
EPAPER
Updated: June 12, 2026, 2:56 PM IST | Birmingham
آج سے ٹی۔۲۰؍ویمنز ورلڈ کپ کا آغاز،انگلینڈ اور سری لنکا کے درمیان پہلا میچ کھیلا جائےگا،ہندوستانی ٹیم۱۴؍جون کو پاکستان کیخلاف مہم کا آغاز کرےگی،دفاعی چمپئن نیوزی کا پہلا مقابلہ ونڈیز سے ہوگا۔
ہندوستان، انگلینڈ اور جنوبی افریقہ جیسی ٹیمیں جمعہ سے یہاں شروع ہو رہے آئی سی سی ٹی۔۲۰؍ویمنز ورلڈ کپ میں آسٹریلیا کے روایتی غلبے کو چیلنج کر سکتی ہیں جبکہ یہ ٹورنامنٹ پہلے سے کہیں زیادہ بڑا اور سنسنی خیز ہونے کی امید ہے۔گزشتہ ۹؍ ٹورنامنٹ میں سے ۶؍ جیتنے والی آسٹریلیا کی ٹیم ساتواں خطاب جیتنے کیلئے بے تاب ہوگی لیکن اب یہ کام اس کے لئے آسان نہیں رہ گیا ہے۔
دفاعی چمپئن نیوزی لینڈ کی ٹیم بھی کافی مضبوط ہے اور پھر ہندوستان بھی ہے جس نے گزشتہ سال ۵۰؍ اوورز کے ورلڈ کپ کی شکل میں اپنا پہلا عالمی خطاب جیتا ہے۔گھریلو حالات میں اچھا مظاہرہ کرنے والے انگلینڈ اور گزشتہ ۳؍ آئی سی سی مقابلوں کے فائنل میں پہنچنے والی جنوبی افریقہ کو بھی کمزور سمجھنے کی غلطی نہیں کی جاسکتی۔
یہ بھی پڑھئے: نائٹ کلب واقعہ ایسا جرم نہیں کہ بین اسٹوکس کو فارغ کر دیا جائے: ناصر حسین
یہ ۲۰۰۹ء میں ہوئے پہلے سیزن کے بعد سے برطانیہ میں ہونے والا پہلا ورلڈ کپ بھی ہے۔ اس عالمی کپ خطاب کیلئے ۱۲؍ٹیموں میں مقابلہ آرائی ہوگی۔یہ ورلڈ کپ ۷؍مختلف اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا اور اس میں کُل ۳۳؍میچ ہوں گے۔ یہ حصہ لینے والی ٹیموں کی تعداد (۱۲) کے حساب سے بھی سب سے بڑی ہے۔ یہ توسیع اس بات کا اشارہ ہے کہ دنیا بھر میں خواتین کی کرکٹ مضبوط ہو رہی ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ خوشی کی بات یہ ہے کہ تمام ٹیموں کو برابری کا موقع مل رہا ہے اور نئی صلاحیتیں سامنے آ رہی ہیں۔
ٹی۔۲۰؍ورلڈ کپ ۲۰۲۶ء کے پہلے میچ میں انگلینڈ اور سری لنکا کی ٹیمیں آمنے سامنے ہوں گی۔ انگلینڈ کے پاس ایلس کیپسی، ٹلی کورٹین- کولمین اور فریا کیمپ جیسی نوجوان کھلاڑی ہیں جبکہ سری لنکا کی ٹیم میں وِشمی گونارتنے، امیشا دولانی، کویشا دلہاری اور کاویا کاونڈی جیسی کھلاڑی شامل ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: ٹیم ا نڈیا نے ہاری ہوئی بازی کو فتح میں بدل دیا
انگلینڈ کی خواتین ٹیم جمعہ کو یہاں گروپ’ اے‘ کے میچ میں سری لنکا کی خواتین ٹیم کے خلاف اپنی مہم کا آغاز کرے گی۔ میزبان ٹیم سے ایک مضبوط شروعات کی امید ہے لیکن اس مقابلے میں سری لنکا کی کپتان چامری اٹاپٹو کی نظریں الٹ پھیر کرنے پر ہوں گی۔ وہ انگلینڈ کیلئے سب سے بڑا خطرہ ہیں۔ انگلینڈ کی طاقت تمام شعبوں میں ان کی گہرائی ہے ٹاپ آرڈر میں ڈینی ویاٹ ہوج اور صوفیہ ڈنکلے کے جارحانہ عزائم نظر آتے ہیں جبکہ ایلس کیپسی نمبر ۳؍ پوزیشن پر استحکام اور تیزی لاتی ہیں۔ مڈل آرڈر کو ہیتھر نائٹ کے تجربے کا سہارا حاصل ہے اور وکٹ کیپر بلے باز ایمی جونز اسے مزید مضبوط بناتی ہیں۔انگلینڈ کا بولنگ شعبہ ویمنز ٹی-۲۰؍کرکٹ میں سب سے زیادہ متوازن شعبوں میں سے ایک ہے۔ صوفی ایکلسٹن کی قیادت اور چارلی ڈین کے تعاون پر مبنی اسپن شعبہ مڈل اوورز میں کنٹرول فراہم کرتا ہے، جبکہ لورین بیل اور لورین فائلر پر مشتمل تیز گیند بازی کا حملہ نئی گیند اور ڈیتھ اوورز میں وکٹیں لینے کا خطرہ پیدا کرتا ہے۔ وہیں سری لنکن ٹیم چامری اٹاپٹوکی قیادت میں انگلینڈ کو ہراکر مہم کا آغاز کرنا چاہےگی۔