Inquilab Logo Happiest Places to Work

دفاعی شعبے میں مقامی ٹیکنالوجی اپنانے سے ۳؍ برس میں روزگار ۵؍ گنا بڑھنے کا امکان

Updated: June 12, 2026, 1:43 PM IST | New Delhi

سروے کےمطابق ملک کا دفاعی اور داخلی سلامتی کا شعبہ تیزی سے خود انحصاری کی جانب بڑھ رہا ہے، آئندہ ۳؍ برس میں اس شعبے میں مقامی ٹیکنالوجیز کے استعمال میں۳۵؍ فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے۔

The Ministry of Defense is continuing its efforts to achieve self-reliance in the defense sector. Photo: INN
وزارت دفاع کی جانب سے دفاعی شعبے میں خود انحصاری کی کو ششیں جاری ہیں۔ تصویر: آئی این این

دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور سیکوریٹی چیلنجوں کے درمیان دفاعی شعبے میں مقامی (سودیشی) ٹیکنالوجی کو اپنانے سے آئندہ ۳؍برسوں میں روزگار کے مواقع میں ۵؍ گنا اضافے کا امکان ہے۔

یہ بات نیکس جین ایگزیبیشنز پرائیویٹ لمیٹڈ (این ای پی ایل) کے ایک سروے میں سامنے آئی ہے۔ جمعرات کو جاری کردہ سروے رپورٹ کے مطابق ملک کا دفاعی اور داخلی سلامتی کا شعبہ تیزی سے خود انحصاری کی جانب بڑھ رہا ہے۔ آئندہ ۳؍ برس میں اس شعبے میں مقامی ٹیکنالوجیز کے استعمال میں۳۵؍ فیصد تک اضافہ ہو سکتا ہے جس کے نتیجے میں روزگار کے مواقع۵؍ گنا تک بڑھنے کی توقع ہے۔ سال۲۰۲۵ء میں اس شعبے میں تقریباً ۱۰؍ ہزار باقاعدہ ملازمتیں موجود تھیں جبکہ اگلے ۵؍ برس میں یہ تعداد بڑھ کر تقریباً ۵۰؍ ہزار تک پہنچنے کا اندازہ ہے۔

یہ سروے دہلی، ممبئی، بنگلور، چنئی اور پونے میں۱۵؍سو سے زائد دفاعی ماہرین، دفاعی ٹیکنالوجی اسٹارٹ اپس، تکنیکی ماہرین اور صنعت کے نمائندوں کے درمیان کیا گیا تھا۔ ان میں سے۶۸؍ فیصد شرکاء کا ماننا تھا کہ مقامی ٹیکنالوجیز کے بڑھتے ہوئے استعمال سے دفاع اور داخلی سلامتی کے شعبوں میں روزگار کے مواقع میں نمایاں اضافہ ہوگا۔ ان کے مطابق یہ مارکیٹ سال۲۰۲۵ءکے۲۷؍ ارب ڈالر سے بڑھ کر اگلے ۳؍ برس میں۳۶ء۴۵؍ ارب ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: آدتیہ برلا سن لائف انشورنس انمول اکشے نامی لائف انشورنس کی نئی پیشکش

دوسری جانب۳۴؍ فیصد شرکاء نے قومی سلامتی کو مقامی ٹیکنالوجیز کو اپنانے کی سب سے بڑی وجہ قرار دیا۔ مرکزی حکومت کی ’آتم نربھر بھارت‘پہل کو۲۹؍فیصد شرکاء نے بنیادی محرک قراردیا۔ اس کے علاوہ لاگت میں کمی، درآمدات پر انحصار گھٹانے اور تکنیکی خود کفالت کو بھی اہم عوامل کے طور پر اجاگر کیا گیا۔

سروے کے مطابق نگرانی اور انٹیلی جنس نظام، سائبر سیکوریٹی، مواصلاتی نظام، ڈرون اور اینٹی ڈرون ٹیکنالوجی، نیز جدید جنگی سازوسامان ایسے شعبے ہوں گے جہاں مقامی ٹیکنالوجیز کا سب سے زیادہ اثر دیکھنے کو ملے گا۔

نیکس جین ایگزیبیشنز کی منیجنگ ڈائریکٹر سنگیتا بنسل نے کہا، ’’ملک کا وژن۲۰۴۷ءاور ’آتم نربھر بھارت مہم‘ دفاعی اور داخلی سلامتی کے شعبوں میں مقامی ٹیکنالوجیز کو نئی سمت فراہم کر رہے ہیں۔ قومی سلامتی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ یہ اقدام روزگار کی تخلیق، اختراع اور عالمی مسابقت میں ملک کی پوزیشن کو بھی مستحکم کرے گا۔ حکومت، صنعت اور اسٹارٹ اپس کے درمیان تعاون اس تبدیلی کی کلید ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ہندوستانی زرعی برآمدات ریکارڈ سطح پر پہنچ گئیں

دفاع اور سلامتی کے شعبے میں مقامی اختراعات کو فروغ دینے کے مقصد سے۱۱؍واں بین الاقوامی پولیس ایکسپو اور ۱۰؍واں انڈیا داخلی سلامتی ایکسپو۲۴؍ اور ۲۵؍ جون کو نئی دہلی کے بھارت منڈپم میں منعقد کیا جائے گا۔ اس میں۲۵؍ سے زائد ممالک کے نمائندے، سیکوریٹی ماہرین، سرکاری افسران، دفاعی سازوسامان بنانے والے ادارے اور ٹیکنالوجی کمپنیاں شرکت کریں گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK