ڈنمارک نے ڈاک خانے کے نظام کوختم کرنے کا جوفیصلہ کیا ہے،اس میں یہ گنجائش باقی ہے کہ کسی اور کمپنی کے ذریعے فی الحال خط اور پارسل کو بھیجنے کا سلسلہ جاری رکھا جا سکتا ہے۔
یہ جملہ، جو اس مضمون کا عنوان ہے، ٹیگور کے ڈرامے دی پوسٹ آفس (ڈاک گھر) کا ہے۔ ڈرامے کے کردار’’امل‘‘ کی زبان سے نکلنے والا یہ جملہ، اپنی تاریخ سے بہت آگے نکل آیا ہے۔ ڈنمارک ایسا پہلا ملک بن گیا ہے جس نے ڈاک خانے کے نظام کو ختم کرنے کا اعلان کر دیا۔ یہ خبر میں نے کل اور آج پڑھی ہے۔ ٹیگور نے ۱۹۱۲ء میں یہ ڈرامہ بنگلہ زبان میں لکھا تھا۔ آٹھ سال کا ’’امل‘‘ ایک لاعلاج بیماری کی گرفت میں ہے۔ وہ صرف کھڑکی سے باہر کی دنیا کو دیکھ سکتا ہے۔ آنے جانے والوں سے وہ بات بھی کرتا ہے مگر اس کی زندگی ایک کمرے تک محدود ہے، گویا بیماری اس کی زندگی بھی ہے اور اس زندگی کو پناہ دینے والا کمرہ اور کائنات بھی ہے۔ ٹیگور کے ذہن میں ڈاک گھر کا جو تصور تھا وہ پہلی مرتبہ ہماری تہذیبی زندگی میں ایک فن پارے کا روپ دھارن کر کے زندگی کی رنگا رنگی کا اشاریہ بن گیا۔ ڈاک گھر اپنے خطوط کے ساتھ مختلف کرداروں اور جذبوں سے مالا مال ہے۔ زندگی کے اتنے رنگ خطوط کی صورت میں موجود ہیں ، جو چھپے ہیں لیکن ان کا چھپا ہوا ہونا ہی ان کا حسن ہے۔ یہ ڈاک گھر اس زمین کا ایک خاص علاقہ ہے، جہاں لوگ خطوط کی صورت میں موجود ہیں ۔ یہ موجودگی یوں تو غیر حاضری کی ہے لیکن لفافے موجودگی کی جو تعریف متعین کرتے ہیں ، ان کا رشتہ ہماری زندگی کے ٹھوس اور نازک دونوں احساسات سے ہے۔ایک دن میرا خط مجھے مل جائے گا۔ معلوم نہیں وہ خط لکھا گیا یا نہیں لکھا گیا اور اگر لکھا گیا تو وہ کب موصول ہوا۔ڈیجیٹل دنیا جس تیزی کے ساتھ ترقی کر رہی ہے، اس کی زد میں کتاب بھی ہے اور خط بھی۔ڈنمارک کی پوسٹل سروس پوسٹ بورڈ نے اطلاع دی تھیکہ ۹۰؍ فیصد کی گراوٹ خطوط اور پارسل میں دیکھی گئی۔ ڈنمارک کا شمار دنیا کے اہم ترین ڈیجلائزڈ ملکوں میں ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دھیرے دھیرے ڈیجیٹل نظام نے ڈاک خانے کے نظام کو یہ ایک سست رفتار اور کلاسیکل نظام کے طور پر نہ صرف پیش کیا بلکہ بہت خاموشی اور تیزی کے ساتھ اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوشش کی۔ ڈنمارک میں ڈاک خانے کی روایت ۴۰۰؍ سال پرانی تھی۔ وہ لوگ جنہوں نے ڈاک گھر اور ڈاک کے نظام کو اپنی زندگی کی ایک بڑی ضرورت کے طور پر دیکھا تھا، اس موقع پر ان سے اظہار خیال کی گزارش کی جائے۔ ڈاک گھر جو اپنے لال لیٹر باکس کے ساتھ ترسیل اور پیغام رسانی کا اتنا بڑا وسیلہ تھا اور ہے۔ ابتدا میں برطانیہ نے لیٹر باکس کا رنگ ہرا رکھا تھا۔ یہ اشارہ تھا فطرت کی طرف بھی، مگر اسے نمایاں کرنے کیلئے لال رنگ اختیار کیا گیا اور برطانیہ نے جو کالونی بنائی وہاں بھی لیٹر باکس کا رنگ لال رکھا گیا۔ اس میں ہمارا ملک بھی شامل ہے۔ڈاک کا اچھا نظام نو آبادیاتی ایجنڈے کا ایک حصہ تھا۔ ڈنمارک حکومت کی جانب سے اس کے بند کیے جانے کا اعلان، ایک نئی اور جدید ٹیکنالوجی کو تہذیبی ضرورت کے طور پر پیش کرنا ہے۔ خط لکھنے میں وقت بھی زیادہ لگ رہا ہے اور پیسہ بھی خرچ ہو رہا ہے۔ڈیجیٹل دنیا اتنی تیز ہے کہ اب کوئی بھی جدید معاشرے میں انتظار کرنا نہیں چاہتا۔ اس درمیان بعض لوگوں نے ڈیجیٹل دنیا سے وابستہ افراد کی جلد بازی کو دیکھتے ہوئے انہیں توازن قائم رکھنے کا مشورہ بھی دیا۔ اخبار’’دی گارجین‘‘ کی اطلاع کے مطابق نوجوانوں میں ۱۸؍سے۳۴؍ سال کی عمر کے افراد میں ، دو سے تین گنا زیادہ خط لکھنے کی روش پائی گئی ہے۔ یہ اطلاع بھی دی گئی کہ بعض شواہد سے پتہ چلتا ہے کہ نوجوانوں میں خط لکھنے کا رواج بڑھ سکتا ہے۔ ڈنمارک نے جو فیصلہ کیا ہے، اس میں یہ گنجائش باقی ہے کہ کسی اور کمپنی کے ذریعے فی الحال خط اور پارسل کا سلسلہ جاری رکھا جا سکتا ہے۔ اس کے ہمسایہ ملک سویڈن میں ڈیجیٹل سہولت کم ہے یعنی لوگ بھی اس سے کم کم آشنا ہیں لہٰذا وہاں خطوط اور پارسل پہنچائے جا سکتے ہیں ۔ بنیادی بات خط اور پارسل کے تعلق سے لوگوں کی دلچسپی کا کم ہونا ہے۔ جن کی دلچسپی ان میں اب بھی باقی ہے، ان کا احترام بھی باقی رکھا گیا ہے، کمپنی نے یہ پیغام ضرور دے دیا ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں ہمیں اپنے ذوق اور مزاج میں تبدیلی لانی پڑے گی۔ ذوق کا تعلق تو ڈاک گھر کو ایک تہذیبی ادارے کے طور پر دیکھنے سے ہے۔ڈاک خانے کے نظام کو ختم کرنے کے اسباب بہت سامنے کے ہیں ۔ انہیں جذبات سے بلند ہو کر دیکھنے کا رویہ، دراصل خود کو عقلی اور عملی بنانا ہے۔ خط نویسی اور پھر ڈاک کا نظام، ان دونوں کے تعلق سے ہماری جذباتی وابستگی، شعر و ادب کا موضوع ہو سکتی ہے مگر حقیقت کی دنیا کچھ اور ہے۔جو جذباتی حقیقت ڈاک گھر کے نظام سے وابستہ ہے اس کی طرف توجہ کم ہو رہی ہے۔ کبھی لیٹر باکس کو دیکھ کر جذباتی قربت کا احساس ہوتا تھا، وہ کہیں کہیں پھر بھی باقی ہے۔ لیکن اب مشکل ہی سے لیٹر باکس دکھائی دیتا ہے جس میں لیٹر کو اپنے ہاتھوں سے روانہ کرنے میں لذت اور حلاوت تھی، وہ اب کہاں ؟ ڈاکیہ دور سے ہاتھ ہلاتا تھا اور کبھی دروازے کی زنجیر ہلاتا۔ ایک خاص کی ٹوپی اور کپڑوں کے ساتھ اس کا وجود کس قدر حوصلہ بخش اور ترسیلی تھا۔خطوں کی پیشانی پر لکھے ہوئے پتے اور ان کی ترتیب منطقی تھی مگر اس میں کیسا جذبہ شامل تھا۔’’ڈاکیہ کیا لکھے گا‘‘یہ جملہ ڈاکیہ کی اہمیت کو کم کرتا ہے مگر اس کا سیاق کچھ اور ہے۔پوسٹ مین ہونا اعزاز کی بات تھی۔ اس کا ایک خاص مقام تھا معاشرے میں ۔ عام طور پر پوسٹ مین سائیکل کی سواری کرتا تھا۔ پوسٹل ڈپارٹمنٹ میں ملازمت کرنا صبح سے شام تک، خطوں کو دیکھنا تھا۔ اسے اپنے خط کا انتظار تو نہیں رہتا تھا مگر ان لوگوں کی بے چینی اور بے قراری کا اسے شدید احساس تھا کہ کوئی اس کا انتظار کر رہا ہے۔ ڈاکیہ کیا لکھے گا۔ مگر غور کیجئے کہ ڈاکیہ لکھے ہوئے کو کتنا اہم بنا دیتا تھا۔چارلس بکو وسکی کا ناول پوسٹ آفس ۱۹۷۱ء میں شائع ہوا۔ پوسٹ آفس پر یہ پہلا ناول ہے جس میں پوسٹ آفس کے تجربات کو بیان کیا گیا ہے۔ اسے سوانحی ناول کے طور پر بھی پڑھا جا سکتا ہے۔ہماری شاعری میں نامہ بر کی ایک روشن روایت رہی ہے۔ اس حوالے سے کتنے خوبصورت اشعار کہے گئے۔ ان سے لطف اندوز ہونے کیلئے اسی ذوق کی ضرورت ہے، جس کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔ مصحفی کا شعر ہے:
بدنامی کے ڈر سے سر مکتوب پر اس نے
نام اپنا تو کیا نام مرا بھی نہیں لکھا
غالب نے کہا: دے کے خط منہ دیکھتا ہے نامہ بر
کچھ تو پیغام زبانی اور ہے
ایسے ہی شاد عظیم آبادی کا شعر دیکھیے:
زبان حال خط شوق سے زیادہ ہے
یہ بات کان میں قاصد کے ڈال دیتے ہیں
’’میں سوچتا ہوں کہ ایک دن ایک خط مجھے ملے گا‘‘