امریکی محکمہ خزانہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ سمندر میں موجود روسی تیل پر عائد پابندیوں میں ۳۰؍ دن کی عارضی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی توانائی منڈی کو مستحکم کرنا ہے۔
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 3:18 PM IST | New York
امریکی محکمہ خزانہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ سمندر میں موجود روسی تیل پر عائد پابندیوں میں ۳۰؍ دن کی عارضی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی توانائی منڈی کو مستحکم کرنا ہے۔
امریکی محکمہ خزانہ نے جمعرات کو اعلان کیا کہ سمندر میں موجود روسی تیل پر عائد پابندیوں میں ۳۰؍ دن کی عارضی چھوٹ دی جا رہی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عالمی توانائی منڈی کو مستحکم کرنا ہے، کیونکہ ایران جنگ کے باعث تیل کی قیمتیں تقریباً ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل کے قریب پہنچ گئی ہیں۔ وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے تصدیق کی کہ یہ استثنا ۱۱؍ اپریل ۲۰۲۶ء تک نافذ رہے گا، جس سے کروڑوں بیرل خام تیل خریداروں تک پہنچ سکے گا۔ اس اقدام کو ایک ہنگامی ریلیز قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران جنگ اور آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی سے پیدا ہونے والے سپلائی کے بحران کو کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
روس نے ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کو سراہا
امریکہ کی جانب سے روسی تیل پر پابندیوں میں نرمی کے اعلان کے فوراً بعد ماسکو کے اقتصادی نمائندے کریل دمترییف نے جمعہ کو کہا کہ روسی تیل کے بغیر عالمی توانائی منڈی مستحکم نہیں رہ سکتی۔انہوں نے ٹیلیگرام پر لکھا :’’امریکہ دراصل ایک واضح حقیقت کو تسلیم کر رہا ہے کہ روسی تیل کے بغیر عالمی توانائی مارکیٹ مستحکم نہیں رہ سکتی۔‘‘
ایران کی دھمکی:علاقے کے تیل و گیس کو آگ لگا دیں گے
جمعہ کو ایشیائی تجارت کے ابتدائی اوقات میں جب برینٹ خام تیل کی قیمت ۱۰۰؍ ڈالر فی بیرل سے اوپر جانے لگی اور اسٹاک مارکیٹ گرنے لگیں تو ایران نے مشرق وسطیٰ کے تیل کے وسائل پر حملہ کرنے اورآبنائے ہرمز کو بند رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔تہران کی فوجی مرکزی آپریشنل کمانڈ کے ترجمان نے بیان میں کہا کہ اگر ایران کی توانائی تنصیبات یا بندرگاہوں پر معمولی سا بھی حملہ ہوا تو وہ “پورے خطے کے تیل اور گیس کو آگ لگا دیں گے۔
یہ بھی پڑھئے:ہالی ووڈ میں کام کی کمی، اداکار اب طبی تربیت میں ’’مریض‘‘ بن رہے ہیں
روسی تیل پر پابندیاں
امریکہ اور گروپ آف سیون (جی ۷) ممالک نے۲۰۲۲ء سے روسی تیل پر سخت پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔ ان پابندیوں میں روسی تیل کی قیمت پر حد مقرر کرنا اور ماسکو کی نام نہاد شیڈو فلیٹ (ایسے بغیر شناخت والے جہاز جو پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال ہوتے تھے) کے خلاف کارروائی شامل ہے۔
یہ بھی پڑھئے:میسی کی موجودگی میں ٹرمپ نے رونالڈو کی تعریف کی
ایران جنگ کے باعث پالیسی میں تبدیلی
اس سے پہلے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ یوکرین جنگ کا ذمہ دار روسی تیل کی برآمدات کو قرار دیتے تھے، جو ۲۴؍ فروری ۲۰۲۶ء کو چار سال مکمل کر چکی ہے۔ لیکن ایران کے خلاف ٹرمپ کی جنگ کے باعث پیدا ہونے والی معاشی ہلچل اور خام تیل کی قیمتوں کے ۱۰۰؍ڈالر یا اس سے زیادہ ہونے کے بعد، امریکہ نے گزشتہ ہفتے ہندوستان کو بھی ۳۰؍ دن کی اجازت دی کہ وہ روسی تیل خرید سکے۔وزیر خزانہ بیسنٹ نے کہا کہ اس عارضی تجارت سے روس کو زیادہ مالی فائدہ نہیں ہوگا۔