رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں ایک رات ایسی آتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ فرشتے اللہ کے حکم سے اس رات میں نازل ہوتے ہیں اور جو کچھ اس رات میں پایا جاتا ہے وہ عام حالات میں ممکن نہیں۔
EPAPER
Updated: March 13, 2026, 2:45 PM IST | Khurram Murad | Mumbai
رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں ایک رات ایسی آتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ فرشتے اللہ کے حکم سے اس رات میں نازل ہوتے ہیں اور جو کچھ اس رات میں پایا جاتا ہے وہ عام حالات میں ممکن نہیں۔
وقت کیا چیز ہے؟ یہ ایک ایسا معمہ ہے جس کی تہہ تک انسان آج تک نہیں پہنچ سکا ہے۔ جب زندگی کا دھارا بہتا ہے تو انسان سوچتا ہے کہ وقت کیا ہے؟ فلسفیوں نے بھی کاوشیں کیں، شعراء نے بھی مضمون باندھے اور عام انسانوں نے بھی سمجھنے کی اپنی سی کوشش کی مگر کسی کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وقت کی حقیقت کیا ہے؟ نبی کریمؐ کے ارشاد کے مطابق، وقت ہے ہی ایسی چیز جس کی حقیقت کسی کی سمجھ میں نہیں آسکتی۔ لیکن بعض چیزیں ہم خوب جانتے اور پہچانتے ہیں، مثلاً خوشی کے لمحات ہوں تو پر لگا کے اڑ جاتے ہیں، درد و غم اور پریشانی کے لمحات ہوں تو یوں محسوس ہوتا ہے کہ ٹلنے کے نہیں ہیں۔ اسی طرح بعض دفعہ چند لمحات میں برسوں کا کام ہو جاتا ہے اور بعض دفعہ برس گزر جاتے ہیں مگر چند لمحوں کی بھی پیداوار ہاتھ نہیں آتی۔ یہ تو اللہ تعالیٰ کا وہ راز ہے جس کو وہی جانتا ہے۔ اس نے خود ہی فرمایا ہے کہ ہمارا ایک دن ان ہزار سالوں کے برابر ہے جن سے تم وقت شمار کرتے ہو، اور کہیں فرمایا کہ ہمارا ایک دن ۵۰ ہزار برس کے برابر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: لیلۃ القدر انسانی شعور، خود احتسابی اور باطنی بیداری کا عظیم موقع ہے
گھڑی ایک پیمانہ ہے جو وقت بتاتی ہے ، منٹوں گھنٹوں اور دنوں میں… یہ ایک مشینی پیمانہ ہے۔ لیکن وقت کے کچھ پیمانے دوسرے بھی ہیں، جن میں ایک رات ہزار مہینوں کے برابر بھی ہو سکتی ہے اور ایک لحظہ کی غفلت منزل کو صدیوں دور کر سکتی ہے۔ وقت کا یہ وہ پیمانہ ہے جس سے ہم آپ خوب واقف ہیں لیکن اس کی حقیقت اور راز کو ہم نہیں سمجھ سکتے۔ اس پیمانے نے رمضان المبارک کے مہینے کو ،اس کی راتوں اور دنوں کو ایک عجیب حقیقت میں بدل دیا ہے۔ ایک فرض ۷۰؍ فرض کے برابر ہو جاتا ہے۔ اعمال اور مساعی اور کاوشیں یک لخت دوسرا ہی رنگ اختیار کر لیتی ہیں۔ ایک نفل فرض کے برابر ہو جاتا ہے جو شاید عام دنوں میں، کسی لمحے ، کسی حساب سے کسی مسلک کے تحت اور شریعت کے کسی بھی فارمولے سے ممکن نہیں ہے۔
رمضان المبارک وہ مہینہ ہے جس میں ایک رات ایسی آتی ہے جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ فرشتے اللہ کے حکم سے اس رات میں نازل ہوتے ہیں اور جو کچھ اس رات میں پایا جاتا ہے وہ عام حالات میں ممکن نہیں۔ ویسے تو ہر رات میں ایک گھڑی ایسی آتی ہے جس کی خبر صادق مصدوقؐ نے دی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں سے، اپنے چاہنے والوں سے قریب آتا ہے اور پکارتا ہے کہ ’’ ہے کوئی جو مجھ سے مانگنے والا ہو میں اس کو عطا کروں، ہے کوئی جو مجھ سے سوال کرنے والا ہو میں اس کا سوال پورا کروں اور ہے کوئی جو اپنے گناہ بخشوانا چاہے میں اس کے گناہ بخشنے کے لئے موجود ہوں۔‘‘
ہم میں سے جو بھی اللہ پر ایمان رکھتا ہے وہ کسی نہ کسی درجے میں اپنے دل میں چھپی ،ظاہر یا کھلی یہ خواہش ضرور رکھتا ہے کہ اسے اللہ کا قرب نصیب ہو، اس کی نگاہوں میں محبوبیت اور مقبولیت حاصل ہو۔ ٹوٹے پھوٹے اعمال، دل اور زندگیاں رکھنے کے باوجود اور ہزار ٹھوکریں کھانے کے باوجود یہ تمنا دِلوں کے اندر مچلتی رہتی ہے۔ وہ تو خود تیار بیٹھا ہے، بشرطیکہ ہم یہ جان لیں کہ وہ ہم سے کیا چاہتا ہے اور اسے کیا مطلوب ہے؟
وہ کیا چیز ہے جس سے اس کا قرب، اس کی محبت، اس کی نگاہوں میں مقبولیت اور اس کا وہ اجر عظیم ہمارے حصے میں آسکتا ہے جو اس نے اپنے بندوں کے لئے تیار کر رکھا ہے ؟ اگر ہم ویسے ہی بن جائیں جیسا وہ چاہتا ہے تو یقینا ًاس کا قرب ہمیں حاصل ہوگا۔
یہ بھی پڑھئے: شب ِ قدر: صرف دُعا کی قبولیت ہی کی رات نہیں بلکہ تمام انسانیت کیلئے شب ِنجات ہے
اللہ کیا چاہتا ہے؟ اس کا ایک جواب تو بہت تفصیل سے دیا جا سکتا ہے جس سے دین کی اور مسائل کی اور اخلاق پر دعا کی کتابیں بھری ہوئی ہیں۔ مگر ایک جواب جو بہت مختصر اور جو قرآن مجید نے دیا ہے وہ یہ ہے کہ تم صرف اللہ کے بن جاؤ اور صرف اسی کے ہو کے رہو۔ یہی راہ اس کی نظر میں قبولیت اور محبوبیت کی راہ ہے۔ اس کے لئے اس نے حنیف ہونے کا مطالبہ کیا ہے ،دعوت دی ہے ،پکارا ہے اور بار بار کہا ہے: عبادت کرو تو حنیف بن کر کرو، اللہ کی طرف رخ کرو تو حنیف بن کر کرو، صراط مستقیم کی طرف رخ کر کے چلو تو حنیف بن کے چلو، ملت ِابراہیم کو اعتبار کرو تو حنیف بن کے کرو۔ حنیف کا ترجمہ یہی ہے کہ یکسو ہو جاؤ۔ شاہ عبد القادر صاحب کے الفاظ میں: ’’اللہ کے ہو رہو۔‘‘ یعنی اس کے ہو جاؤ اور کسی کے نہ ہو۔ تمہارا دل، تمہاری زندگی، تمہارے اعمال، تمہارے مقاصد ، تمہاری کاوشیں، تمہاری کوششیں ،سب صرف اس کے لئے ہوں اور کسی کے لئے نہ ہوں۔ یہ سیدھا صاف اور چند الفاظ کا نسخہ ہے جو اللہ تعالیٰ نے بار بار بیان فرمایا ہے: ’’اور ان کو اس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں ،اپنے دین کو خالص کر کے بالکل یکسو ہو کر۔‘‘ (البینہ:۵)
یہاں بار بار حنیف ہو کر رہنے کو کہا گیا ہے۔ حنیف کا رنگ، حنیف اول سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا۔ قرآن مجید نے جب بھی حنیف کا ذکر کیا ہے تو ابراہیم ؑکی داستان کا، جو قربانی کی داستان ہے، تذکرہ کیا ہے۔ اس داستان کے کسی ورق کو اٹھا کر دیکھ لیجئے اندازہ ہو جائے گا کہ حنیف کیسا ہوتا ہے۔
پہلا ورق الٹئے۔ ستارے سامنے آتے ہیں، چاند طلوع ہوتا ہے، سورج آسمان پر چمکتا ہے ، ہر ایک میں دل اٹک جاتا ہے کہ شاید یہی اس لائق ہے کہ اس کو مقصود و محبوب بناؤں، شاید یہی میرا رب ہے۔ اس لئے کہ رب کے علاوہ کون محبوب و مقصود اور مطلوب بن سکتا ہے۔ ستارہ ڈوب جاتا ہے تو وہ کہہ دیتے ہیں: ’’ ڈوبنے والوں سے میں محبت نہیں کر سکتا۔‘‘ (الانعام:۷۶) مجھے تو کوئی ایسا مقصود چاہئے جس کے ڈوبنے کا کوئی امکان نہ ہو، جس کے لئے میں یکسو ہو جاؤں۔ چاند چمکتا ہے تو سوچتے ہیں کہ یہ اتنا نور اور روشنی لے کر آیا ہے، اتنا بڑا ہے ، شاید یہی میرا مقصود ہو۔ لیکن وہ بھی ڈوب جاتا ہے۔ جب سورج اپنی حرارت اور روشنی لے کر آسمان پر جلوہ افروز ہوتا ہے، زندگی ایک دم جاگ اٹھتی ہے، پودوں کو، انسانوں کو، ہر ایک کو زندگی کی حرارت ملنا شروع ہوتی ہے تو منہ سے نکلتا ہے: ’’یہ ہے میرا رب، یہ سب سے بڑا رب ہے۔‘‘ (الانعام:۸۷) لیکن جب وہ بھی ڈوب جاتا ہے تو فرماتے ہیں: ’’ میں نے تو یکسو ہو کر اپنا رخ اس ہستی کی طرف کر لیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘ (الانعام:۷۹) یعنی میں نے تو اپنی شخصیت کا رخ اپنا چہرہ اپنی زندگی اپنے اعمال اپنا دل سب کا رخ اس کی طرف کر لیا جس نے آسمان و زمین کو پیدا کیا۔ گویا ’’حنیف‘‘ ہو کر، سب سے کٹ کے، یکسو ہو کے صرف اسی کا ہو گیا ہوں اور اس میں بھی کسی کو شریک نہیں کرتا۔
پیدائش سے موت تک زندگی میں نہ معلوم کتنے ستارے چمکتے ہیں جن میں دل اٹک جاتا ہے، کتنے چاند ہیں جن کا نور نگاہوں کو کھینچ لیتا ہے اور کتنے سورج آسمان پر طلوع ہوتے ہیں جن کے آگے انسان سجدہ ریز ہو جاتا ہے، لیکن حقیقت بین اور حقیقت فہم نگاہ جانتی ہے کہ ان میں سے ہر شے ڈوبنے والی ہے۔ کوئی اس بات کی مستحق نہیں کہ انسان جس میں رب کائنات نے خود اپنی روح پھونکی ہے، وہ ان میں سے کسی کو اپنا مقصود و مطلوب اور محبوب بنائے۔ وہ تو ایک ہی ہو سکتا ہے جس نے آسمانوں کو پیدا کیا زمین کو پیدا کیا اور خود انسان کو پیدا کیا۔ یہ حنیف کی راہ میں پہلا قدم ہے یعنی اپنا رخ درست کر لو، اپنا قبلہ ٹھیک کر لو۔
نماز کو دیکھئے ۔ نماز تو اللہ کے بندے کی پوری زندگی کا، اگر آپ ایک کیپسول میں بند کر کے دیکھنا چاہیں ،عکس اور نمونہ ہے۔ اگر قبلہ کی طرف رخ صحیح نہ ہو تو نماز فاسد ہو جاتی ہے۔ اگر نماز پڑھتے ہوئے قبلہ غلط ہو اور یہ معلوم ہو جائے کہ صحیح قبلہ کدھر ہے تو فوراً رخ بدلنا ضروری ہے۔ نماز میں چہرہ بھی قبلہ کی طرف ہوتا ہے اور پیشانی بھی، بال بھی قبلہ کی طرف ہوتے ہیں اور نگاہیں بھی، بیٹھتے ہیں تو پاؤں کی انگلیاں بھی موڑ کے قبلہ کی طرف کر لیتے ہیں اور ہاتھ بھی رکھتے ہیں تو انگلیاں قبلہ کی طرف ہی ہوتی ہیں۔ غرض جسم کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جس کا رخ قبلے کی طرف نہ ہو۔ جو اللہ کا قرب چاہتا ہو یہی اس کی زندگی کا نمونہ ہے۔ جس طرح قبلے کی طرف صحیح رخ نہ ہو تو نماز فاسد ہو جاتی ہے، اسی طرح زندگی بھی فاسد ہو جاتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے: سنئے،جب زمین اپنے رَب کے نور سے روشن ہوجائیگی اور اعمال نامہ رکھ دیا جائیگا!
صرف رخ کر لینا کافی نہیں ہے بلکہ اللہ کی طرف لپک کے جاؤ، اسلئے فرمایا ’’پس دوڑو اللہ کی طرف۔‘‘ (الذاریات:۵۰) شوق اور بے تابی اس پر مجبور کر دے کہ تیزی کے ساتھ آگے ہو جو دوسروں کو پیچھے چھوڑ جاؤ۔ ذرا کبھی آپ ذہن میں تصویر لا کر اس آدمی کا تصور کیجئے جو کسی مقابلے کیلئے دوڑ رہا ہو۔ اس کا تو مقصد یہ ہوتا ہے کہ جلدی سے جلدی پہنچ کر اس لکڑی یا لکیر کو چھولے جس پر جیتنے والا سب سے پہلے پہنچتا ہے۔ کیا اس دوران اس کے قدم راستے سے ہٹ کر ادھر ادھر جا سکتے ہیں؟ وہ تو اپنے راستے سے ہٹ کر ایک انچ بھی ادھر ادھر نہیں جاسکتا۔ اس کی نگاہ اپنے ہدف پر جمی رہتی ہے، اسی کی طرف وہ بھاگتا رہتا ہے۔ یہی اللہ کو مطلوب ہے۔ ہم کتنا چلتے ہیں کتنے میدان مارتے ہیں کتنا گر کے پھر اٹھتے ہیں اور پھر دوڑنا شروع کرتے ہیں اور جب اٹھتے ہیں تو پھر نگاہ اس پر جمی ہوتی ہے یہ تو اس کو بڑا محبوب ہے لیکن جب نگاہ ہٹ جائے تو اُس لمحہ کیلئے فرمایا: ’’ تم اس متاع دنیا کی طرف آنکھ اٹھا کر نہ دیکھو جو ہم نے ان میں مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے۔‘‘ (سورہ الحجر:۸۸)