Inquilab Logo Happiest Places to Work

اِک شہر دیکھا تھا کبھی اُس شہر کی کیا بات تھی!

Updated: May 11, 2026, 1:57 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | mumbai

وقت ہے کہ تیزی سے گزرا جارہا ہے اور حالات ہیں کہ وقت سے بھی زیادہ تیز رفتاری سے بدل رہے ہیں۔ اس دور کا انسان اُلجھا ہوا بھی بہت ہے۔ وہ ٹھہر کر کچھ سوچتا نہیں ہے۔ یہ مضمون ٹھہرنے اور کچھ سوچنے کی دعوت دیتا ہے۔

INN
آئی این این
کلکتہ کے بارے میں  اتنا کچھ لکھا جا چکا ہے مگر لگتا ہے کہ اب اسے دوبارہ پڑھا جائے۔ جو کچھ لکھا جا چکا ہے وہ اب کتنا اہم اور بامعنی ہے۔ کلکتہ ایک شہر ہی نہیں  ہماری تمدنی زندگی کا استعارہ بھی ہے۔ یہ پہلا شہر ہے جس نے سائنس اور ٹیکنالوجی کی برکتوں  کو دیکھا۔  اب جب کہ اس شہر پر کئی زمانے بیت گئے ہیں  تو پلٹ کر یہ دیکھنے کو جی چاہتا ہے کہ اس کے بارے میں  پہلے کس طرح لوگوں  نے سوچا اور محسوس کیا تھا۔ مجھے کلکتہ کے ایک سفر میں  آٹورکشہ کے ڈرائیور نے کہا تھا کہ ہمارا شاعر تو صرف ٹیگور ہے۔ ہم بنگالیوں کی صبح ٹیگور کے نغموں  کے بغیر نہیں  ہوتی۔ ٹیگور سے اس کی محبت چھلکی پڑتی تھی۔ پھر وہ رکشہ چلاتے ہوئے کچھ گانے لگا۔ ظاہر ہے کہ بول ٹیگور کے تھے۔ چند برس پہلے کا یہ قصہ ہے اور وہ بھلایا نہیں  جا سکا۔ مجھے پہلی مرتبہ یہ احساس ہوا تھا کہ کسی ادیب کی بین الاقوامیت کس طرح مقامیت میں  تبدیل ہو جاتی ہے اور مقامیت ہی سب سے بڑی بین الاقوامیت بن جاتی ہے۔ وہ کلکتہ جو اس ڈرائیور کی زندگی اور ذہن میں  تھا، اس میں  کتنی نرمی، آہستگی اور محبت تھی جیسے ٹیگور کی روح اس میں  منتقل ہو گئی ہو۔ یہ بات اس ڈرائیور ہی نے کہی تھی کہ جب سیاستداں  شاعر کا نام لینے لگتے ہیں  تو ایک ڈرسا ہوتا ہے۔
مجھے یہ دریافت کرنے کا موقع نہیں  مل سکا کہ اس کا سیاسی نظریہ کیا ہے مگر اس کی گفتگو سے واضح تھا کہ وہ ایک باشعور شخص ہے اور اسے زندگی، ادب اور سیاست کا گہرا شعور ہے۔ مجھے یا کسی کو یہ کہنے کا حق حاصل نہیں  کہ کوئی سیاستداں  کسی ادیب یا شاعر کا نام نہ لے۔ سوال یہ ہے کہ کسی ادیب یا شاعر کا حوالہ کس فوری ضرورت کے طور پر دیا جا رہا ہے۔ یہ ضرورت اکثر اوقات کلامِ ِشاعر کو اس کے بنیادی سروکار سے ہٹا دیتی ہے اور لازماً ایک ایسی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے جسے وقتی ضرورت کا نام دیا جا سکتا ہے۔ فوری اور وقتی ضرورت کسی معاشرہ کو فکری طور پر بلند بھی کر سکتی ہے اور پست بھی لیکن بلندی اور پستی کا خیال بھی پہلے کی طرح اب کہاں  آتا ہے۔
کلکتہ کا خیال ہماری تہذیبی زندگی کا ایک اہم حوالہ ہے اور اس حوالے کو کوئی بھی نام دیا جائے وہ کلکتہ کی تہذیبی روایت سے الگ نہیں  ہو سکتا۔اگر کلکتہ نے تاریخ میں  اپنا رنگ اگر تبدیل بھی کیا ہے تو اس کے پیچھے ایک بڑی تہذیبی ضرورت تھی جسے انگریزی حکومت کے سیاق میں  دیکھا جا سکتا ہے۔ بدلے ہوئے رنگ سے یوں  تو تہذیب کا ظاہری چہرہ بھی بدلا ہوا معلوم ہوتا ہے مگر ایک روح ہے جو اپنی جگہ پر قائم رہتی ہے۔ اس ڈرائیور کا مکالمہ اسی روح سے تھا یا وہی روح اس کے وجود کا حصہ تھی۔ اس نے ایک مختصر سی گفتگو میں  اور ایک مختصر سی مسافرت میں  کیا کچھ کہا تھا اب پوری طرح یاد نہیں  مگر یہ بات مَیں  بھولتا نہیں  ہوں  کہ سیاست دانوں  کو ادیب و شاعر کا نام نہیں  لینا چاہیے۔
ایک ڈر تھا اس رنگ کی تبدیلی کا جو کہیں  کہیں  سے اپنی موجودگی درج کرا رہا تھا پھر بھی رنگ تو رنگ ہے اسے کیوں  کرنگاہیں  کم کے ساتھ دیکھا جائے۔ مگر تنگ نظری خود ہی رنگ کی اہمیت کو کم کر دیتی ہے ورنہ رنگ کو اگر بولنے کی اجازت ہوتی تو ہمارا معاشرہ اتنا فکری طور پر نہ سمٹتا اور نہ اس میں  اتنی شدت پیدا ہوتی۔ شاید اس ڈرائیور کو تہذیبی زندگی کے شور سے بھری شدت کا احساس تھا اور ٹیگور کا نغمہ اسے انسانی اور کائناتی طور پر کسی اور عالم کی طرف لے جا رہا تھا۔
ٹیگور کی وہ روحانی دنیا اب بھی کلکتے کی فضا میں  روشن ہے مگر اس روشنی کو خطرہ شور کے اندھیرے سے ہے۔ کیا عجب کہ اس شور کے اندھیرے میں  اس ڈرائیور کی فکر مندی بھی موجود ہو اور اس کا علم شور کےاندھیرے کو نہ ہو۔ معلوم نہیں  ڈرائیور اب کہاں  ہے مگر اس نے ایک آتی ہوئی لہر کو محسوس کر لیا تھا جس میں  ٹیگور کے نغمے کی روحانیت کو دیکھنے کی آرزو تھی۔ یہ آرزو صرف اس ڈرائیور کی نہیں  تھی بلکہ اس تہذیب کی تھی جس نے وہاں  کی مجمو عی زندگی میں  روحانی اقدار کو ضروری جانا تھا۔ سوکانتا بھٹا چاریہ کی ایک نظم ستمبر ۱۹۴۶ء  ہے جو رسالہ ’’شعور ‘‘ میں  شہر کلکتہ کے عنوان سے شامل ہے۔ اس عنوان کے تحت شمیم حنفی نے بنگلہ شاعروں  کی کئی نظموں  کو اردو کا جامہ پہنایا ہے۔  نظم کے آئینے میں  موجودہ وقت کو بھی دیکھا جا سکتا ہے ۔ اس کے چند مصرعے آپ بھی دیکھئے: 
 
 
’’کلکتہ امن سے خالی ہے/ آدھی رات کو لوگوں  کی پکار/ اور ہر شام/ دل کی دھڑکن تیز ہو جاتی ہے/ دم توڑتا شہر/ اب گاؤں  کی صورت ہے/ شام ہوتے ہی سڑکیں  سنسان ہو جاتی ہیں / راستوں  پر روشن حیران بتیوں  سے/ سہمی سہمی سہمی سی روشنی برستی ہے/ کہاں  ہیں  وہ دکانیں / کہاں  گئیں  وہ ہجوم کے سمندر سے امڈتی لہریں / سڑکوں  کی بھیڑ/ اب دکھائی نہیں  دیتی/ شام کی روشنیوں  کے سیل میں / کوئی سواری نہیں / کوئی جیالا راہ گیر نہیں / رات بھر اپنی بے صبر سانسوں  کو سنبھالے شہر/ سویرے کی راہ دیکھتا ہے/ سورج کی چکا چوند روشنی/ کیا جیون کی جادوئی چھڑی لے آئے گی/ شام سے سویرے تک/ ہر پل/ گھڑی کی مسلسل آوازوں  میں / شہر کی بے قرار روح پوچھتی ہے/ کیا خنجر کی دھار اس سے سوا سفاک ہوتی ہے/ افواہیں  چمگادڑوں  کی طرح/ اندھیرے کے پروں  پر ڈولتی/ منتظر کانوں  میں  سرگوشی کرتی ہیں / شہر کا سانس اکھڑ رہا ہے/ ہر طرف جلوس، بڑھتے قدموں  کی بازگشت/ درمیان میں  رہ رہ کر گونجتی ہے/ اکتوبر پھر جولائی بن جائے/ سب پھر ایک ہوں  مضبوطی سے/ بھلا دو ستمبر اور اگست کو/ تاریخ کے ان کالے مہینوں  کو مٹا دو‘‘ ۔
یہ نظم اگرچہ کلکتہ سے متعلق ہے مگر اس میں  شہر کی ایک عمومی تصویر دیکھی جا سکتی ہے۔نظم ایک خاص تاریخی سیاق میں  کہی گئی تھی اور وہ سیاق کسی نہ کسی طور پر اپنی موجودگی درج کراتا ہے۔ بتیوں ، سڑکوں ، عمارتوں ، آوازوں  اور چمگادڑوں  کے ساتھ افواہوں  کا ہونا شہر کا مقدر ہے۔افواہ کی عمر یوں  تو زیادہ نہیں  ہوتی مگر وہ بہت کم وقت میں  نقصان بہت زیادہ پہنچاتی ہے۔ہزار اپیل کیجئے کہ افواہوں  پر دھیان نہ دیں  مگر دھیان تو چلا ہی جاتا ہے۔
kolkata Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK