Inquilab Logo Happiest Places to Work

بنگال: تشدد میں اضافہ کا اندیشہ، ہاوڑہ میں بمباری

Updated: May 08, 2026, 10:31 AM IST | Kolkata

شوبھندو ادھیکاری کے معاون کے قتل کے بعد حالات مزید ابتر، کولکاتا کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بھگوا بائک سواروں کی شرانگیزی سے خوف و ہراس۔

Lakhs of central paramilitary forces are deployed in Bengal but are surprisingly ineffective in controlling the violence. Photo: INN
بنگال میں مرکزی نیم فوجی دستوں کے لاکھوں جوان تعینات ہیں مگر حیرت انگیز طور پرتشدد پر قابو پانے میں نا کام ہیں۔ تصویر: آئی این این

بنگال میں اسمبلی الیکشن میں کامیابی کے بعد جشن کے نام پر شر پسندی کے بیچ بدھ کی رات بی جےپی لیڈر اور وزارت اعلیٰ کے دعویدار شوبھندو ادھیکاری کے ذاتی معاون ( پی اے ) چندرناتھ رتھ کے قتل کےبعد حالات کے مزید ابتر ہونے کا اندیشہ بڑھ گیاہے۔ پولیس جانچ میں دعویٰ کیاگیاہے کہ بدھ کی رات ساڑھے ۱۱؍ بجے کے آس پاس ہونےوالا یہ قتل منصوبہ بند سازش کا نتیجہ تھا اور حملہ آور کئی کلو میٹر دوری سے اُن کی گاڑی کو تعاقب کررہے تھے۔ 

 معاون کے قتل پرشوبھندو کا الزام

 شوبھندو ادھیکاری نے اپنے معاون کے قتل کا الزام ٹی ایم سی پر عائد کرتے ہوئے جمعرات کو کہا ہے کہ ’’چندرناتھ رتھ کو صرف اس لئے قتل کیاگیا کہ میں نے ممتا بنرجی کو ہرایا ہے۔‘‘ دوسری طرف ٹی ایم سی کے تمام بڑے لیڈروں نے رتھ کے قتل کی مذمت کی ہے۔ قتل کو ’’ منصوبہ بند‘‘ قرار دیتے ہوئے ادھیکاری نے الزام لگایا کہ کی مدھیام گرام میں چندرناتھ گولی مار کر قتل کرنے سے پہلے کئی دن تک ان کی نگرانی کی گئی۔ بدھ کی دیر رات اسپتال پہنچنے کے بعد ادھیکاری نے کہاکہ’’اگر وہ میرا پی اے نہ ہوتا اور میں بھوانی پور سے نہ جیتا ہوتا تو شاید اسے قتل نہ کیا جاتا۔ اس کا واحد قصور یہ تھا کہ وہ سویندو ادھیکاری کا پرسنل اسسٹنٹ تھا۔ اس کی موت یقینی بنانے کیلئے اس پر ۵؍گولیاں چلائی گئیں۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ’’الیکشن کمشنر کا آزاد اور خود مختار ہونا ضروری‘‘

 پُر امن الیکشن کے دعوے ہوا ہوگئے

انتخابی نتائج کے بعد ضابطہ اخلاق نافذ ہونے اور مرکزی فوجی دستوں کے لاکھوں جوانوں کے تعینات ہونے کے باوجود بنگال میں بے قابو تشدد نے الیکشن کمیشن کے ان دعوؤں کی ہوا نکال دی ہے کہ اس بار الیکشن تشدد سے پاک رہا۔ عالم یہ ہے کہ نتائج کے بعد پوری ریاست سیاسی تشدد کی زد پر ہے اور ہر طرف خوف اور مایوسی پھیلی ہوئی ہے۔ 

پیشہ ور شوٹروں کے ملوث ہونے کا شبہ

تفتیش کاروں کو شوبھندو کے معاون کے قتل میں پیشہ ور شوٹروں کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ پولیس نے جعلی نمبر پلیٹ والی گاڑیاں برآمد کی ہیں۔ اس قتل نے ریاست میں انتخاب کے بعد کی سیاسی کشیدگی کو مزید گہرا کر دیا ہے۔ بی جے پی اور ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے درمیان الزام تراشی کا نیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔رتھ کی غمزدہ والدہ نے بھی الزام لگایا کہ ان کے بیٹے کا قتل بھوانی پور میں شوبھندو ادھیکاری سے ممتا بنرجی کی ہار کا نتیجہ ہے۔ انہوں نے صحافیوں سے گفتگو میں کہاکہ ’’اگر وہ کسی حادثے میں مر جاتا تو شاید مجھے اتنا دکھ نہ ہوتا۔ اسے اس لیے نشانہ بنایا گیا کیونکہ وہ ادھیکاری کیلئےکام کرتا تھا۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: ناگپور ریت مافیا: نائب تحصیلدار جے سی بی پر لٹکا رہا اور ڈرائیور اسے دوڑاتا رہا

قتل کی جانچ میں کیا سامنے آیا؟

 ابتدائی جانچ کے مطابق، ایک چھوٹی گاڑی نے پہلے رتھ کی ایس یو وی کی رفتار کم کروائی، پھر موٹر سائیکل پر سوار ایک حملہ آور گاڑی کے قریب آیا اور بہت قریب سے اندھادھندکئی گولیاں چلائیں۔بعد میں پولیس نے وہ چھوٹی گاڑی لاوارث حالت میں برآمد کر لی اور معلوم ہوا کہ اس کی نمبر پلیٹ جعلی تھی۔ ایک سینئر افسر نے کہا، ’’چیسس نمبر اور انجن نمبر مٹا دیئے گئے تھے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ قتل کی منصوبہ بندی پہلے سے کی گئی تھی۔‘‘

ریاست بھر میں حالات کشیدہ

چندرناتھ رتھ کے قتل کے بعد ہاوڑہ میں بی جے پی کارکنوں کو مبینہ طور پر نشانہ بنا کر بم حملہ کیا گیا، جس میں ۵؍کارکن شدید زخمی ہوگئے۔ زخمیوں کو فوری طور پر آر جی کر اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ان کا علاج جاری ہے۔ بنگال میں انتخابی نتائج کے بعد پھوٹ پڑنےوالے تشدد میں جمعرات تک ۵؍ افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: پولیس بھرتی امتحانات کے سوالیہ پرچے میں نجی پبلشر کی کتاب کے سوالات ہو بہو شائع

اس بیچ جمعرات کو بھی ٹی ایم سی لیڈروں نے مختلف علاقوں کے ویڈیوز شیئر کرتے ہوئے بھگوا عناصر کی شرانگیزیوں کو اجاگر کیا کہ کس طرح ٹی ایم سی کارکنوں کو دوڑا دوڑا کر مارا جارہاہے۔ ٹی ایم سی کی اس ہار کے بعد مسلمانوں کو بھی بطور خاص نشانہ بنایا جارہاہے۔ ٹائمز آف انڈیا نےا طلاع دی ہے کہ کولکاتا کے مسلم اکثریتی علاقوں میں بائک سوار بھگوا عناصر نے دہشت پھیلا رکھی ہے۔ یہ لوگ ’’جے شری رام‘‘ کا نعرہ بلند کرتے ہوئے مسلم محلوں سے گزر تے ہیں اور خوف وہراس کا ماحول پید اکرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK