مغربی بنگال کے انتخابات اور پھر حکومت کی تبدیلی کے بعد بہت سی باتیں ذہن میں آئیں۔ بالخصوص یہ کہ کیا یہ ریاست پہلے جیسی رہ جائیگی؟ نہ جانے کتنے شہروں کے نام بدل دیئے جائیں۔ یہ بھی خیال آیا کہ کیا کلکتہ، کلکتے جیسا رہ جائیگا جس کی بڑی ثقافتی اہمیت رہی ہے!
حکومتیں بدلتی ہیں تو حالات بھی بدلتے ہیں اور حالات بدلتے ہیں تو حکومتیں بھی بدلتی ہیں ۔ یہ جتنا درست ہے اُتنا ہی یہ بھی درست ہے کہ بعض اوقات حکومتیں حالات کو ازخود بدلنے یا بحال رہنے دینے کا موقع نہیں دیتیں بلکہ اپنے حامیوں کو اعتماد میں لینے کیلئے اپنے طور پر اور اپنے انداز میں بدلنے کی شعوری کوشش بھی کرتی ہیں ۔
اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کبھی تو اداروں ، سڑکوں اور چوراہوں کے نام بدلے جاتے ہیں اور کبھی کلچر، تہذیب و ثقافت کو ہدف بنایا جاتا ہے۔ کہہ نہیں سکتے کہ مغربی بنگال، مغربی بنگال جیسا رہ جائے گا یا نہیں ۔اس کی راجدھانی کلکتہ (اب کولکاتا) بھی پہلے جیسی رہ جائیگی یا نہیں ۔ مغربی بنگال کے اور بھی کئی شہر ہیں مگر کلکتہ کا نام اس لئے ذہن میں آیا کہ یہ شہر اپنی بہت سی خصوصیات کیلئے عالمی شہرت رکھتا ہے۔
یہاں کی ٹرامیں اب عوامی آمد و رفت کا واحد ذریعہ نہیں رہ گئی ہیں اس کے باوجود کلکتہ کا ذکر ہو تو تصور کے پردے پر ٹرامیں دوڑتی دکھائی دیتی ہیں ۔ اسی طرح کلکتہ کا مدرسۂ عالیہ یاد آتا ہے جو اب یونیورسٹی کے منصب کو پا چکا ہے۔ غور کیجئے یہ ادارہ ۱۷۸۰ء میں قائم کیا گیا تھا جس کے تین کیمپس تالتلہ، پارک سرکس اور نیو ٹاؤن میں واقع ہیں ۔ سنتے ہیں کہ اب یونیورسٹی کی حالت خراب ہے مگر حالت کا کیا، وہ تو بہت سوں کی خراب ہے اس کے باوجود تغیر کی کوئی کرن کہیں پھوٹتی ہوئی نظر نہیں آتی، عجب بے حسی ہے۔
عالمی حالات روز بہ روز مائل ِ خرابی ہیں ۔ ایسے میں کیا کچھ بدل جائے کہا نہیں جاسکتا۔ کلکتہ کی بہت سی خصوصیات میں سے ایک یہ ہے کہ یہاں مولانا ابو الکلام آزادنے مستقل قیام کیا۔ اپنی پنشن کے مقدمے کے سلسے میں غالب بھی کلکتہ گئے اور واپسی کے بعد کلکتہ کو یاد کرتے رہے۔ اسی لئے کہا تھا: ’’کلکتے کا جو ذکر کیا تو نے ہم نشیں = اک تیر میرے سینے میں مارا کہ ہائے ہائے‘‘ (اس کے مزید چھ مصرعے بھی پڑھنے سے تعلق رکھتے ہیں )۔ کلکتہ کی نئی نسل کو غالب سے کوئی علاقہ ہے یا نہیں ، اس کا علم، اس شہر کے سرسری دورہ سے نہیں ہوسکتا، وہاں چند روز گزاریں ، اُردو اداروں سے رابطہ کریں ، اسکولوں اور مدرسوں میں اُردو کی صورت حال کا جائزہ لیں تب ہی کوئی حتمی رائے قائم کی جاسکتی ہے مگر دیگر شہروں مثلاً ممبئی، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، دہلی وغیرہ ، جو کبھی اُردو کے اہم مراکز ہوا کرتے تھے، کی اُردو کی صورتحال کو سامنے رکھیں اور کلکتہ کے بارے میں بھی کچھ ایسی ہی رائے قائم کریں تو شاید غلطی نہیں ہوگی۔
مَیں اپنی بات کہوں تو کہہ سکتا ہوں کہ مجھ میں کلکتہ کے دورہ کا اشتیاق محض اس لئے پیدا ہوا تھا کہ غالب نے اس کا ذکر کیا تھا، یا، مولانا آزاد کا کلکتے سے گہرا تعلق تھا۔ افسوس کہ اب چیزوں کی طرح شہروں کو بھی ادب میں اُن کے تدکرہ کے ذریعہ یاد نہیں رکھا جاتا۔ ادب پڑھتا ہی کون ہے؟ جن کو ادب کا ذوق تھا وہ ادب پڑھنے کے بجائے ادب دیکھنے لگے ہیں ۔ ’’ادب دیکھنا‘‘ نیا مشغلہ ہے۔ ادب میں شہروں کا تذکرہ پڑھ کر اُن شہروں کی سیر کے ارادہ پر یاد آیا کہ جب اس مضمون نگار نے پہلی بار لکھنؤ جانے کا قصد کیا تھا تب شکیل بدایونی کا وہ نغمہ ذہن میں گونجا تھا جس کے ابتدائے مصرعے یہ تھے:
اے شہر لکھنؤ تجھے میرا سلام ہے=تیرا ہی نام دوسرا جنت کا نام ہے
کلکتہ کا کتاب بازار بھی معرکہ کی چیز ہے۔ کالج اسٹریٹ جو ’’بوئی پارہ‘‘ کہلاتی ہے، میں ہر دن کتابوں کا دن ہوتا ہے۔ اسے کالج اسٹریٹ اس لئے کہا جاتا ہے کہ آس پاس کئی اہم اور معروف تعلیمی ادارے مثلاً پریسیڈنسی کالج اور یونیورسٹی آف کولکاتا واقع ہیں ۔ اس کتاب بازار کی شہرت دور دور تک ہے۔ بتانے والے بتاتے ہیں کہ یہ ایشیاء کا سب سے بڑا کتابوں کا بازار ہے۔ یہاں کی داس گپتا اینڈ کمپنی پرائیویٹ لمیٹیڈ کتابوں کا قدیم مرکز ہے (قائم شدہ ۱۸۸۶ء) جس کی دیکھ بھال اب اس کے بنیاد گزار گریش چند داس گپتا کی پانچویں نسل کے ذمہ ہے۔ جب کبھی کلکتہ جانا ہو اور آپ تلاش کرتے ہوئے اس دکان پرپہنچیں تو یہ جان کر نہ تو آپ کو حیرت ہوگی نہ ہی آپ کی زبانی سن کر کسی اور کو، کہ چھٹی پشت اسے ایک شاپنگ مال میں تبدیل کرنے کی خواہشمند ہے۔ ایسا کہاں کہاں ہوا ہے؟ اس سوال کے جواب میں اتنا کہہ دینا کافی ہے کہ ایسا کہاں نہیں ہوا ہے۔ یہ تو مسلسل ہورہا ہے۔ کتابیں انسانی زندگی سے نکلتی جارہی ہیں اور مطالعہ کسی کسی کا مشغلہ رہ گیا ہے۔ کتب فروشی کے علاوہ ہر کاروبار میں منافع دکھائی دیتا ہے، کتب فروشی میں نہیں ۔ کتاب کو منافع سمجھنے کا مزاج اور نظریہ نہیں رہ گیا ہے تو وہی سب ہوگا جو ہورہا ہے۔
پہلے یہ ہوتا تھا کہ حالات بدلتے تھے۔ اب حالات نے بدلنا نہیں بگڑنا سیکھ لیا ہے۔ یہ بگاڑ اب مصنوعی ذہانت کے ذریعہ لکھنے پڑھنے کے اسلوب میں در آنے کو ہے۔ہر سوال کا جواب مشین سے حاصل کرنے کی عادت بھی پختہ ہوتی جارہی ہے۔مشین غلط بتائے یا صحیح اسے مان لینے کی روِش عام ہوگئی ہے۔
کلکتہ کا ذکر ہو اور وہاں کے مشہور کافی ہاؤس کو یاد نہ کیا جائے یہ ممکن نہیں ہے۔ اس کی شہرت محض کافی کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ مفکروں ، شاعروں ، ادیبوں ، فنکاروں اور دانشوروں کی آماجگاہ رہا ہے۔ ان میں رابندر ناتھ ٹیگور اور ستیہ جیت رے جیسے نام شامل ہیں ۔ یہاں ادبی اور سیاسی بحثیں کوئی آج کی بات نہیں ہے۔ لوگ گھنٹوں بیٹھتے اور کافی پر کافی پیتے مگر بات سے بات نکلتی چلی جاتی۔ مجھے یہ علم نہیں کہ کافی ہاؤس کو وقار بخشنے والوں میں قاضی نذر الاسلام بھی شامل تھے یا نہیں مگر کلکتے کے ذکر پر قاضی نذر الاسلام (جو نام کے مخفف ’’نذر ل‘‘ سے مشہور ہیں ) کو یاد نہ کرنا سخت ناانصافی ہوگی۔ نذرل (پیدائش: ۱۸۹۹ء) نے بنگلہ زبان میں شاعری کی مگر اُن کا کلام اُردو میں بھی ترجمہ کیا گیا جو آج بھی دستیاب ہے اگر کسی کو ان کے مطالعہ سے دلچسپی ہو۔ جبر و استبداد اور انسان کی تحقیر کے خلاف آواز اُٹھانے والے نذرل کو بنگلہ زبان کے بلند قامت شاعر کے طور پر شہرت حاصل ہے۔انہوں نے کم و بیش ۵۰۰؍ نظمیں اور ڈھائی ہزار گیت لکھے۔ ان کی کئی نظموں نے بنگال کے ادبی حلقوں میں اس قدر ہلچل مچائی کہ مہینوں تک اخبارات میں ان کا چرچا رہا۔ بعد میں نذرل بنگلہ دیش منتقل ہوگئے جہاں اُنہیں قومی شاعر تسلیم کیا گیا۔ اب نذرل کو کلکتہ کتنا یاد کرتا ہے، شاید سوچنا بھی بے سود ہے۔