صدر امریکہ نے چند روز پہلے ہی اسٹیٹ آف یونین ایڈریس دیا ہے جسے ہم سالانہ صدارتی خطاب کہہ سکتے ہیں۔ اس کی بڑی اہمیت ہے۔ زیر نظر مضمون میں اس خطاب کی بابت چند باتو ںکا احاطہ کیا گیا ہے جو عام طور پر نہیں جانی جاتیں۔
امریکی آئین کی دفعہ II؍ شق ۳؍ میں صدر مملکت پر لازم کیا گیا ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً ملک کی صورت حال سے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کو مطلع کرے اور یہ بتائے کہ آئندہ کیلئے کون سے اقدامات ضروری ہوں گے۔ آئین میں وقتاً فوقتاً لکھا ہے مگر امریکی صدور نے سال میں ایک مرتبہ کی روایت بنالی ہے۔ اسی خطاب کو ’’اسٹیٹ آف یونین ایڈریس‘‘ کہا جاتا ہے۔ اس میں اسٹیٹ کا معنی صورت حال یا حالات ہے۔ ۱۹۳۴ء تک یہ خطاب دسمبر میں ہوتا تھا مگر اس کے بعد جنوری یا فروری میں ہونے لگا۔ ڈونالڈ ٹرمپ کے پیش رَو بائیڈن نے جنوری فروری کی روایت بھی توڑ دی او ر مارچ میں خطاب کیا (۲۰۲۲ء، اس کے بعد ۲۰۲۴ء میں )۔ ٹرمپ نے، جو جنوری ۲۵ء میں دوسری بار صدر بنے، اسی روش کو برقرار رکھا اور دوسرے دور کے پہلے سال کے خطاب کیلئے مارچ ہی کی تاریخ مقرر کی البتہ اِس سال (۲۰۲۶ء) یہ خطاب گزشتہ دنوں یعنی فروری میں ہوا جس میں ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک گھنٹہ ۴۸؍ منٹ تک تسلسل کے ساتھ اظہارِ خیال کا ریکارڈ بنایا۔ اسے امریکہ کی حالیہ تاریخ کا طویل ترین خطاب قرار دیا جارہا ہے۔ طوالت و اختصار کے پیش نظر بتایا جاتا ہے کہ اولین صدر جارج واشنگٹن کا خطاب اپنے اختصار اور جامعیت کے اعتبار سے اہم ہوتا تھا۔ ۱۷۹۰ء میں اُنہوں نے جو خطاب کیا تھا وہ ۱۰۸۹؍ الفاظ پر مشتمل تھا۔
یہ اخبار اپنے قارئین کو دیگر کالم میں بتا چکا ہے کہ اسٹیٹ آف یونین ایڈریس کیلئے جب صدر ایوانِ پارلیمان میں آتا ہے تو خواہ وہ کتنی ہی دیر رُکے، کسی بھی لمحہ بیٹھتا نہیں ہے۔ وہ تقریر نہ کررہا ہو تب بھی بیٹھتا نہیں ہے، تقریر کے دوران بھی بیٹھتا نہیں ہے اور تقریر کے بعد بھی۔ اگلے وقتوں میں محاورہ مشہور تھا: کھڑے پیر کا روزہ رکھنا۔ سالانہ خطاب کیلئے صدر جب ایوانِ پارلیمان میں وارد ہوتا ہے تو کھڑے پیر کا روزہ رکھ کر آتا ہے۔ لطف کی بات یہ ہے کہ ایوان میں نائب صدر، اعلیٰ عہدیدار، فوجی افسران اور دیگر مسند نشین ہوتے ہیں مگر صدر کی نشست نہیں ہوتی۔گویا نشستن، گفتن، برخاستن میں اُسے گفتن اور برخاستن کی اجازت ہوتی ہے نشستن کی نہیں ۔
امریکہ میں اس خطاب کو خاصی اہمیت حاصل ہے اور اس حوالے سے پوری دُنیا کی نگاہیں اس پر ہوتی ہیں کہ صدر امریکہ اپنے سالانہ خطاب میں کن موضوعات کا احاطہ کریگا، کیا کہے گا، کیا نہیں کہے گا اور اُس کی کس بات کو کس زاویئے سے دیکھنا چاہئے۔ چونکہ اس کی کافی اہمیت ہے اس لئے تجزیہ کار کئی پہلوؤں سے اس کا جائزہ لیتے ہیں ۔ یہی نہیں دیکھا جاتا کہ کس نے کتنی طویل یا کتنی مختصر تقریر کی بلکہ اس کا تجزیہ بھی کیا جاتا ہے کہ تقریر کتنی جامع تھی، اس میں کئے گئے کتنے دعوے اور اعدادوشمار مبنی پر حقائق تھے اور کتنے اس کے برخلاف، زبان و بیان کے اعتبار سے اس کا معیار کیا تھا اور مکمل خطاب کتنے الفاظ پر مشتمل تھا۔
آگے بڑھنے سے قبل یہ جاننا مناسب معلوم ہوتا ہے کہ امریکہ کے جس شہر کو ہم نیویارک کے نام سے جانتے ہیں اور جو ۱۷۸۵ء سے ۱۷۹۰ء تک امریکہ کی راجدھانی تھا، اُس کی ایک عرفیت بھی ہے۔ یہ ’’دی بِگ ایپل‘‘ (بڑا سیب) بھی کہلاتا ہے۔ اسپورٹس رائٹر جان فٹز گیرالڈ نے یہ نام اس لئے دیا تھا کہ یہ شہر پُرجوش ہے، یہاں مواقع ہیں اور اس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کبھی نہیں سوتا (کیا یہ سیب کے فوائد ہیں ؟ شاید!)۔ امریکہ کے پہلے صدر جارج واشنگٹن نے اولین صدارتی خطاب دی بگ ایپل ہی میں دیا تھا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ وقت کے ساتھ اسٹیٹ آف یونین ایڈریس لسانی اعتبار سے کمزور ہوا ہے کیونکہ صدور نے اس موقع کو عوام سے خطاب کا ذریعہ بنالیا ہے اس لئے وہ آسان زبان کا استعمال کرتے ہیں ۔ یونیورسٹی آف کیلی فورنیا کے برکلے اسکول آف انفارمیشن کے مطابق دوسری عالمی جنگ سے پہلے کے صدور کا خطاب کالج کی سطح کا ہوتا تھا جو اکیسویں صدی میں آٹھویں نویں جماعت کی سطح کا ہوگیا ہے۔ لسانی ماہرین نے ووڈرو وِلسن اور فرینکلن روزویلٹ کے خطابات کو زیادہ نمبرات دیئے ہیں اور کلنٹن، بش، اوبامہ اور ٹرمپ کو کم نمبرات۔ اس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ وہ ملک جو اپنی خارجہ پالیسی کے معاملے میں پوری دُنیا میں بدنام ہے اور جس کے موجودہ صدر کی وجہ سے فی الحال بیشتر ممالک چیں بہ جبیں ہیں ، اس کا اندرونی نظام کتنا مستحکم ہے اور اس نظام میں کن کن باتوں کا خیال رکھا جاتا ہے۔ اسی ملک میں جب ٹرمپ پہلی مرتبہ صدر بنے تھے تب کتنے ہی مظاہرین نے یہ کہتے ہوئے احتجاج کیا تھا کہ ’’آپ ہمارے صدر نہیں ہیں ‘‘۔ دیگر کن ملکوں میں ایسا ہوسکتا ہے یہ تحقیق طلب ہے مگر امریکہ میں تو ایسا ہوا ہے۔
اسٹیٹ آف یونین ایڈریس کے بارے میں یہ بھی جان لینا چاہئے کہ ایک دور ایسا بھی تھا جب صدر اپنا پیغام تحریری شکل میں قانون سازوں کے حوالے کردیتا تھا اور باقاعدہ خطاب نہیں کرتا تھا۔ یہ تھامس جیفرسن کے دور میں ہوا تھا لیکن ۱۹۱۳ء میں صدر ووڈرو وِلسن نے باقاعدہ خطاب کی روایت کا احیاء کیا جو اَب بھی برقرار ہے۔
تجزیہ کارو ں نے اب تک کے خطابات میں سے بہترین دس اور بہترین پانچ کی درجہ بندی بھی کی ہے۔ ویسے تو کئی خطابات بہت مشہور ہیں مگر ان میں سب سے زیادہ شہرت روزویلٹ کے جنوری ۱۹۴۱ء کے خطاب کی ہے جس میں ’’چار آزادیوں ‘‘ (فور فریڈمس) کی نشاندہی کی گئی تھی۔ آزادیٔ اظہار رائے، آزادیٔ مذہب، معاشی آزادی اور خوف سے آزادی۔ شہرت اپنی جگہ مگر کیا کسی صدر نے روزویلٹ کی بیان کردہ ’’چار آزادیوں ‘‘ کی پاسداری کی؟
اس کا جواب نفی میں ہے۔ امریکی دُہرے معیار کے بےشمار شواہد میں سے ایک یہ ہے کہ اس کے اہل اقتدار اندرونِ ملک تو جمہوریت کو پختہ اور توانا رکھنے کی ہر ممکن کوشش کرتے ہیں مگر بیرونِ مملکت نہ تو اظہار رائے کی آزادی کو مانتے ہیں نہ کسی اور آزادی کو۔ چونکہ امریکہ خود کو سپر پاور مانتا ہے اور داروغہ ٔ عالم بنا پھرتا ہے اس لئے یہاں کا صدر ’’اسٹیٹ آف یونین‘‘ کے ساتھ ’’اسٹیٹ آف دی ورلڈ‘‘ پر بھی اظہار خیال کرے کہ اُس کا ملک کہاں کہاں دھاندلی کررہا ہے، کہاں جنگ کررہا ہے اور اس نے کس کس کا گلا دَبا رکھا ہے۔