Updated: April 15, 2026, 8:14 PM IST
| Athens
غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی حمایت کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے وینس نے محصور فلسطینی علاقے میں انسانی بحران کی ذمہ داری جو بائیڈن کی قیادت میں سابقہ انتظامیہ پر ڈال دی۔ انہوں نے غزہ کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے انتظامیہ کے طرزِ عمل کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات نے انسانی حالات کو بہتر بنایا ہے۔
امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کو یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں واقع یونیورسٹی آف جارجیا میں ’ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے‘ پروگرام کے دوران متعدد بار مداخلت اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ مظاہرین نے غزہ نسل کشی کے حوالے سے امریکی خارجہ پالیسی پر شدید غم و غصہ کا اظہار کیا۔
پروگرام کے دوران ایک سامع نے ”عیسیٰ مسیح نسل کشی کی حمایت نہیں کرتے!“ کا نعرہ لگایا جس کے بعد ہال میں سناٹا چھا گیا۔ کچھ لمحوں بعد کئی مظاہرین نے امریکی انتظامیہ پر غزہ میں ”بچوں کو مارنے“ اور ”بچوں پر بمباری کرنے“ کا الزام لگایا۔ یہ واضح نہیں کہ مظاہرین غزہ یا ایران میں سے کس کی طرف اشارہ کررہے تھے، اس سے قطع نظر یہ الزامات امریکی فوجی کارروائیوں پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کی عکاسی کرتے ہیں۔
پہلے تبصرے کا جواب دیتے ہوئے وینس نے کہا کہ وہ اس جذبے سے اتفاق کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ”میں آپ سے اتفاق کرتا ہوں کہ عیسیٰ مسیح نسل کشی کی حمایت نہیں کرتے... میرے خیال میں یہ ایک بہت ہی آسان اصول ہے۔“ تاہم، انہوں نے غزہ کی صورتحال سے نمٹنے کیلئے انتظامیہ کے طرزِ عمل کا دفاع کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات نے انسانی حالات کو بہتر بنایا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: مذاکرات کے دوسرے دور میں بھی امریکی وفد کی قیادت وینس کے سپرد
امریکی انتظامیہ کی جانب سے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کی حمایت کے الزامات کا جواب دیتے ہوئے وینس نے محصور فلسطینی علاقے میں انسانی بحران کی ذمہ داری جو بائیڈن کی قیادت میں سابقہ انتظامیہ پر ڈال دی۔ انہوں نے کہا کہ ”جب ہم اقتدار میں آئے تو غزہ میں انسانی صورتحال مکمل طور پر تباہ ہوچکی تھی۔ غزہ میں امن معاہدہ کس نے کرایا؟ ڈونالڈ ٹرمپ نے!“
وینس نے اصرار کیا کہ صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی قیادت میں موجودہ انتظامیہ کے تحت غزہ کیلئے انسانی امداد میں اضافہ ہوا ہے۔ مظاہرین کی جانب سے مسلسل مداخلتوں کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ”اس وقت آپ غزہ میں گزشتہ پانچ برسوں کے کسی بھی وقت کے مقابلے میں زیادہ انسانی امداد کی ترسیل دیکھ رہے ہیں کیونکہ ہم نے اس صورتحال کو سنجیدگی سے لیا ہے۔“
یہ بھی پڑھئے: ۲۰؍ ہزار جوتے چپل، ایمسٹرڈیم میں غزہ کے بچوں کو یاد کیا گیا
ٹرمپ انتظامیہ کا دفاع کرنے کے باوجود، وینس نے اپنی تقریر کے آخری حصے میں مصالحانہ لہجہ اختیار کیا اور ناقدین، خاص طور پر قدامت پسندوں، سے وابستہ رہنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ ”میں یہ نہیں کہہ رہا ہوں کہ آپ کو ہر مسئلے پر مجھ سے اتفاق کرنا چاہئے... لیکن صرف اس لئے لاتعلق نہ ہوں کہ آپ ایک موضوع پر انتظامیہ سے اختلاف رکھتے ہیں۔“
اپنی تقریر میں وینس نے نوجوان امریکی ووٹرز میں پائے جانے والے عدم اطمینان کا بھی اعتراف کیا اور کہا کہ ”میں تسلیم کرتا ہوں کہ نوجوان ووٹرز مشرقِ وسطیٰ میں ہماری پالیسی کو پسند نہیں کر رہے ہیں... میں سمجھتا ہوں۔“