Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایران جنگ کے باعث عالمی سطح پر لاکھوں افراد خط افلاس سے نیچے جاسکتے ہیں: یو این ڈی پی کا انتباہ

Updated: April 15, 2026, 10:09 PM IST | New York

توانائی اور خوراک کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے پہلے ہی عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اور بجلی کے اخراجات بڑھ رہے ہیں جبکہ ضروری اشیاء کی قیمتیں بھی آسمان پر جا پہنچی ہیں۔ رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ غریب گھرانے، جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں، غیر متناسب طور پر اس بحران سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

اقوامِ متحدہ ترقیاتی پروگرام (یو این ڈی پی) نے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایران جنگ کے اثرات، جنگ سے براہ راست متاثرہ علاقوں سے کہیں دور تک پھیل رہے ہیں اور اس سے جڑے معاشی جھٹکے عالمی سطح پر ۳ کروڑ سے زائد افراد کو خط افلاس سے نیچے دھکیل سکتے ہیں۔ 

ایجنسی نے اپنی حالیہ رپورٹ میں کہا ہے کہ اس بحران کی وجہ سے عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور معاشی ترقی کی رفتار سست ہوگئی ہے، جس نے ۱۶۰ سے زائد ممالک کو متاثر کیا ہے۔ رپورٹ میں اس صورتحال کو قلیل مدتی خلل کے بجائے ”ساختی جھٹکا“ (structural shock) قرار دیا گیا ہے۔ یو این ڈی پی کے ایڈمنسٹریٹر الیگزینڈر ڈی کرو نے کہا کہ ”جنگ دراصل ترقی کا الٹ عمل ہے۔ ایسے تنازعات ممالک کی برسوں کی محنت اور ترقی کو ہفتوں میں تباہ کرسکتے ہیں۔“

یہ بھی پڑھئے: ایران جنگ کاا ثر، اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ

رپورٹ کے مطابق، بدترین صورتحال میں مزید ۳ کروڑ ۲۵ لاکھ (۵ء۳۲ ملین) افراد غربت کی لپیٹ میں آسکتے ہیں۔ سب صحارا افریقی، جنوبی ایشیائی اور چھوٹے جزیرہ نما ممالک کی معیشتوں کو درآمدی ایندھن اور خوراک پر انحصار کی وجہ سے خاص طور پر خطرے سے دوچار قرار دیا گیا ہے۔

یو این ڈی پی نے بحران کے پیچھے ”تہرے جھٹکے“ (triple shock) کی نشان دہی کی ہے جن میں توانائی کے اخراجات میں اضافہ، خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتیں اور کمزور پڑتی معاشی ترقی شامل ہیں۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا نے بھی متنبہ کیا ہے کہ محدود مالیاتی صلاحیت کے حامل غریب ممالک کو سب سے زیادہ دباؤ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

یہ بھی پڑھئے: جنگ کی بنا پر یورپی لگژری برانڈس منافع میں کمی کا شکار

توانائی اور خوراک کی بڑھتی قیمتوں کی وجہ سے پہلے ہی عالمی سطح پر مہنگائی میں اضافہ ہو رہا ہے، جس سے ٹرانسپورٹ اور بجلی کے اخراجات بڑھ رہے ہیں جبکہ ضروری اشیاء کی قیمتیں بھی آسمان پر جا پہنچی ہیں۔ رپورٹ میں نوٹ کیا گیا ہے کہ غریب گھرانے، جو اپنی آمدنی کا بڑا حصہ خوراک پر خرچ کرتے ہیں، غیر متناسب طور پر اس بحران سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں۔ سپلائی چین میں رکاوٹیں اور زرعی مداخل جیسے ایندھن اور کھاد کی قیمتوں میں اضافہ سے خوراک کا عدم تحفظ کا مسئلہ مزید سنگین ہوگیا ہے۔ شدید صورتحال میں صرف ایشیاء پیسیفک خطے کو ۳۰۰ بلین ڈالر تک کے معاشی نقصانات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: یورپ پر ایران جنگ کے اثرات نظر آنے لگے، میکسیکو نے ایندھن کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کی پالیسی اپنائی

رپورٹ میں اس صورتحال پر ردعمل ظاہر کرنے کے حوالے سے حکومتوں کی صلاحیت میں واضح فرق کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ امیر ممالک، اس بحران اثرات کو کم کرنے کیلئے سبسڈی اور مالیاتی اقدامات کا سہارا لے رہے ہیں جبکہ کئی ترقی پذیر معیشتیں بھاری قرضوں اور محدود مالیاتی گنجائش کا سامنا کررہی ہیں جس کی وجہ سے وہ قیمتوں کو مستحکم کرنے اور عوامی خدمات کو برقرار رکھنے کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔

آئی ایم ایف کی حالیہ پیش گوئیوں کے مطابق، ۲۰۲۶ء میں عالمی ترقی کی شرح ۱ء۳ فیصد تک گر سکتی ہے اور حالات مزید خراب ہونے کی صورت میں مہنگائی کی شرح ۶ فیصد سے تجاوز کرسکتی ہے۔ ابھرتی ہوئی ممالک میں ترقی کی شرح ۹ء۳ فیصد رہنے کا امکان ہے جس میں مزید کمی کے خطرات موجود ہیں۔ عالمی بینک نے بھی خبردار کیا ہے کہ طویل عدم استحکام عالمی سے عالمی شرحِ نمو میں ایک فیصد کی کمی آ سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھئے: سوڈان : خوراک کا بحران،لاکھوں افراد کودن میں صرف ایک وقت کا کھانانصیب

یو این ڈی پی نے متنبہ کیا کہ بحران کی وجہ سے کئی طویل مدتی نتائج جیسے قرض میں اضافہ، صحت و تعلیم میں کم سرمایہ کاری اور بیرونِ ملک سے بھیجی جانے والی رقوم میں کمی، واقع ہوسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ، خواتین اور غیر رسمی شعبے کے کارکنوں پر سب سے زیادہ بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ ایجنسی نے کمزور آبادیوں کے تحفظ اور ترقیاتی ثمرات کو ضائع ہونے سے بچانے کیلئے ٹارگٹڈ کیش ٹرانسفرز اور مربوط بین الاقوامی کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK