آبنائے ہرمز عالمی معیشت میں سب سے زیادہ نتیجہ خیزاور اہمیت رکھنے والے پوائنٹس میں سے ایک ہے۔ اس خطے میں تناؤ پیدا ہوناپھر مقامی سطح پر محدود نہیں رہ سکتا۔
آبنائے ہرمز۔ تصویر:آئی این این
مغربی ایشیا میں تصادم کو۱۰۰؍دن سے زیادہ کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران ایک مفروضہ یہ کھڑا کیا گیا ہے کہ ایران علاقائی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ یہ ایک مفروضہ ہے جو اس قدر بار بار دہرایا گیا ہے کہ اس نے حقیقت کا درجہ حاصل کر لیا ہے۔ اس کے باوجود حالیہ برسوں کے واقعات ایک مختلف منظر نامہ سامنےلاتے ہیں۔اس مدت میں جو کچھ سفارتی کوششیں ہوئی ہیں،ان سے ظاہرہوتا ہےکہ تہران امن کی راہ میں رکاوٹ بالکل نہیں ہو سکتا بلکہ اس کی ذمہ دار بنجامن نیتن یاہو کی سیاسی اور تزویراتی ترغیبات ہو سکتی ہیں۔روایتی بیانیہ میں نیتن یاہو ایک ایسے لیڈر کے طور پرسامنے آتے ہیں جو امن کو قبول کرنے سے پہلے زیادہ سے زیادہ حفاظتی ضمانتوں کے خواہشمند ہیں، لیکن، ان کا ’مسلسل جنگ‘ کا نقطہ نظر امن کا راستہ نہیں ہو سکتا۔ یہ وہ طریقہ کارزیادہ نظر آتا ہے جس کے ذریعے امن کے سارے امکانات غیر معینہ مدت تک ملتوی کردئیے جائیں اور ساری کوششیں مبہم ہوکر رہ جائیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جنگ بندی کا کوئی معاہدہ ان سوالات کو دوبارہ کھڑا کردے گا جو جنگ جاری رہنے کے سبب پس پردہ چلے جاتے ہیں۔ ان سوالات کا تعلق سیاسی احتساب، اتحادی عدم استحکام اور ان قانونی چیلنجوں سے ہے جو برسوں سے نیتن یاہو کی وزارت عظمیٰ کوگھیرے ہوئے ہیں۔یہ اسرائیل کیلئے منفرد نہیں ہے۔ تاریخ ایسے لیڈروں سے بھری پڑی ہے جوبہت سے معاملات میں اس بات کے قائل رہے ہیں کہ ان کے سیاسی مستقبل کیلئے تنازعات کا خاتمہ، ان کے جاری رہنے سے زیادہ خطرناک ہے۔ لیکن مغربی ایشیا کا یہ تنازع اور اس کے نتائج آج اسرائیل کی سرحدوں سے کہیں آگے نکل چکے ہیں۔ فلسطینی، لبنانی، ایرانی، اور خلیجی عرب آبادی یکساں طور پر اپنے آپ کو ایک ایسے تنازع میں پھنسی ہوئی ہے جس کے جاری رہنے سے زندگی اور معیشت ایک سنگین خطرے سے دوچارہوچکی ہے۔
عالمی معیشت جھلس رہی ہے اور ہندوستان بھی اقتصادی بحران سے محفوظ نہیں ہے۔اس تنازع اور بحران سے نکلنے کا واشنگٹن کے پاس واقعی ایک قابل فہم راستہ ہوسکتا ہے۔ ڈونالڈ ٹرمپ حالانکہ معاملات میں رکاوٹ ڈالنے کا مزاج رکھتے ہیں لیکن ان کے لئے یہ کام بڑا آسان ہےکہ وہ جنگ میں فتح کا اعلان کردیںاوراپنے معاملات میں آگے بڑھیں۔ ایک سفارتی اقدام جس سے یہ یقینی ہوکہ ایران افزودگی کو محدود کرلے، خلیج میں تناؤ اور براہ راست تصادم کے خطرے کو کم کرسکتا ہے اور اس اقدام کو آسانی سے فتح کے طور پر پیش کیا جا سکتا ہے۔ پابندیوں میں ریلیف کو ایران کے لئے مراعات کے طور پر بیان کیا جا سکتا ہے۔ سمندری ضمانتیں امریکی طاقت کے ثبوت کے طور پر پیش کی جا سکتی ہیں۔حالانکہ ایسا ہو، یہ ممکن یا ا تنی جلد ممکن نظر نہیںآتا۔
اس بحران میں اب سے اگرامریکہ اور ایران اپنی شمولیت کو محدود کرتے ہیںتو دونوں کے مفادات پورے ہوسکتے ہیںلیکن نیتن یاہو کیلئےایسا کرنا ان کی حکومت وسیاست میںایرانی خطرے کی اہمیت کو کم کرنے کے مترادف ہوگا اور اس سے اسرائیلی فوج کی کارروائی کی آزادی محدود ہو جائے گی جو اسے فی الحال اس جنگ میں حاصل ہے۔ اس سے (اسرائیل کا)یہ دعویٰ بھی کمزور ہو جائے گا کہ مستقل ہنگامی صورتحال خطے کیلئے واحد قابل عمل اسٹریٹجک فریم ورک ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس طرح کے بحران میںبگاڑ کو برقرار رکھنے والا ذہن اہمیت رکھتا ہے یا توجہ کا مرکز ہوتا ہے۔ بگاڑ کو بر قرار رکھنے والے یہ عناصر در اصل تنازعات کے نتائج سے زیادہ امن کے نتائج سے خوفزدہ ہوتے ہیں۔ ضروری نہیں کہ وہ براہ راست مذاکرات کی مخالفت کریں، اس کے بجائے، وہ ایسے نئے حالات متعارف کراتے ہیں اورنئے بیانیے تشکیل دیتے ہیں، مقاصد کو ایسا رخ دیتے ہیں اورایسے موقف پیش کرتے ہیں جو سمجھوتہ کو مشکل بنا دیتے ہیں۔خرابی پیدا کرنے والے کومساعی امن کو شکست دینا ضروری نہیںہوتا ، اسے صرف یہ یقینی بنانا ہوتا ہےکہ امن قائم ہی نہ ہو۔
امریکہ میں اس سے قبل جو بھی حکومتیں آئیں،انہو ںنے ایران کے ساتھ اگر براہ راست تصادم کا راستہ اختیارکیا تو اس میںبھی وہ محتاط رہے۔اس کی ایک وجہ ہے۔ ایران عراق یا لیبیا نہیں ہے۔ یہ سمندری راستوں، توانائی کی گزرگاہوں، پراکسی(پس پردہ) نیٹ ورکس اور اقتصادی تعلقات کے جال کے مرکز میں بیٹھا ہوا ہے جو اس کی سرحدوں سے بہت آگے تک پھیلے ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز عالمی معیشت میں سب سے زیادہ نتیجہ خیزاور اہمیت رکھنے و الے پوائنٹس میں سے ایک ہے۔ اس خطے میں تناؤ پیدا ہوناپھر مقامی سطح پر محدود نہیںرہ سکتا ۔پھرکشیدگی کی زد میںیکے بعد دیگرے خطے کے سبھی ممالک آتے ہیں۔
اس جنگ میں جو مراعات زیربحث آرہی ہیںیاآسکتی ہیں اور ان کا تعلق جن اہم سیاستدانوں سے ہے،اس سے بھی معاملات مخالف سمت میں جاتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔ اکثر دیکھا گیا ہےکہ سیاسی کریئر اور مخلوط حکومتیں تنازعات پرمنحصرہوتی ہیں ۔ ایسے ماحول میں امن کیلئے خطرہ برقراررہتا ہے ۔ آگے کا راستہ، اگر کوئی اب بھی موجود ہے، تو اس کے لئے ایک اور سفارتی اقدام کی ضرورت ہے۔اس میں فریقین کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش ہونی چاہئے کہ سیاسی بقا مستقل بحران سے الگ چیز ہے۔ یہ ایک مشکل کام ہے۔ اس سے کسی ڈرامائی پیش رفت اور کامیابی کی امید نہیںکی جاسکتی لیکن یہ ایک پریشان امکان کو تسلیم کرنے سے شروع ہوتا ہے۔ اس پورے بحران سے یہ بھی سامنے آتا ہےکہ بعض اوقات کسی تنازع سے نکلنے میں سب سے بڑی رکاوٹ میز پر موجود مخالف نہیں بلکہ آپ کے ساتھ کھڑا اتحادی ہوتا ہے اور ایسے دوست کی موجودگی میںدشمن کی ضرورت نہیںرہ جاتی ۔n
(بشکریہ ا نڈین ایکسپریس )