Inquilab Logo Happiest Places to Work

اسے کہتے ہیں بے دِلی سے دِل ملانا!

Updated: June 11, 2026, 2:20 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

انڈیا اتحاد کی میٹنگ دو سال بعد منعقد ہوئی۔ اس کو دیکھنے کے دو زاوئیے ہیں۔ پہلا یہ کہ ’’کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے‘‘ اتنے دنوں تک ایک بھی میٹنگ نہیں ہوئی تھی، چلئے، کچھ تو ہوا۔

India Bloc.Photo:INN
انڈیا بلاک۔ تصویر:آئی این این
انڈیا اتحاد کی میٹنگ دو سال بعد منعقد ہوئی۔ اس کو دیکھنے کے دو زاوئیے ہیں۔ پہلا یہ کہ ’’کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے‘‘ اتنے دنوں تک ایک بھی میٹنگ نہیں ہوئی تھی، چلئے، کچھ تو ہوا۔ برف تو پگھلی۔ دوسرا یہ ہے کہ اس کا تنقیدی جائزہ لیا جائے کہ صاحبان محترم آپ طویل عرصہ بعد ملے تو مل کر کسی ٹھوس حکمت عملی کا اعلان کرنا چاہئے تھا تاکہ یہ اندازہ ہوسکے کہ آپ اتحاد کو قائم رکھنے میں سنجیدہ ہیں اور اس کے ذریعہ زمینی سطح پر حالات کو بدلنے کی کوشش آپ کے ذریعہ ہوگی۔ ایسا تو کچھ نہیں ہوا۔ پانچ نکات پر اتفاق رائے ہوا۔ ان پانچ نکات میں کوئی ایسا نہیں جو میٹنگ کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ وہ چاہے ایس آئی آر کے لئے چیف جسٹس کو خط لکھنے کا معاملہ ہو یا نیٹ اور سی بی ایس ای امتحانات میں بے ضابطگی کیلئے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا، مہنگائی اور بے روزگاری کا معاملہ ہو یا پارلیمنٹ کے مانسون اجلاس میں روزانہ صبح حکمت عملی طے کرنے کا۔ یہ سب تو میٹنگ کے بغیر بھی ہورہا تھا یا ہوسکتا تھا۔ تو کیا میٹنگ صرف یہ طے کرنے کیلئے ہوئی کہ اب ہر دو ماہ پر ایک میٹنگ ہوگی؟ اگر ہماری بات درست ہے تو اس کا معنی یہ ہوا کہ میٹنگ طے کرنے کیلئے میٹنگ ہوئی۔ اطلاع کے مطابق اس میں ۲۵؍ پارٹیوں نے شرکت کی۔ ۲۵؍ پارٹیوں کی شرکت کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے۔ معمولی واقعہ یہ ہے کہ اس میں ہوا کچھ نہیں۔ اس سلسلے میں کوئی پوچھ سکتا ہے کہ ہم کیا ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے تھے؟ تو اس کا جواب ہے کہ ہماری توقعات اس طرح تھیں: 
 
 
(۱) انڈیا اتحاد کا مشترکہ ایجنڈا ہوگا جس کے تحت ہر پارٹی چند مشترکہ پروگراموں کو آگے بڑھائے گی۔ (۲) انڈیا اتحاد اپنا دفتر قائم کرے گا اور اپنا کنوینر مقرر کرے گا۔ (۳) اس کی اپنی ویب سائٹ ہوگی جس کے ذریعہ ہر پارٹی اپنی اُس کارگزاری کو مشتہر کرے گی جو مشترکہ ایجنڈے کا حصہ ہوگی یا اس کا مشترکہ ٹویٹر ہینڈل ہوگا تاکہ عوام کو گاہے بہ گاہے معلوم ہوتا رہے کہ ملک کے کس حصے میں کون سی پارٹی کیا کررہی ہے۔ (۴) انڈیا اتحاد کا نوجوانوں کیلئے منصوبہ۔ کس طرح یہ اتحاد نوجوانوں کے مسائل کے حل کی جانب پیش رفت کرے گا۔ (۵) عوام کو حقیقی مسائل کی سنگینی سے آگاہ کرنے کیلئے کوئی منصوبہ بندی ہونی چاہئے تھی کہ اسٹریٹ پلے ہوں گے، سمینار منعقد کئے جائینگے، فنکاروں کو جوڑا جائے گا، خواتین کو انڈیا اتحاد کا حصہ بنایا جائے گا، اسی طرح سماج کے مختلف طبقات کو وابستہ کرنے کی حکمت عملی کیا ہوگی۔ (۶) برطانوی نظام ِ پارلیمان میں، جس سے ہم نے پارلیمانی نظام مستعار لیا ہے، ایک ’’شیڈو کیبنٹ‘‘ ہوتی ہے جس کے تحت اپوزیشن کے متعدد لیڈروں یا اراکین کو، اُن کی تعلیمی لیاقت اور مہارت کے مطابق، حکومت کی ایک ایک وزارت کی کارگزاری کا جائزہ لینے کی ذمہ داری دی جاتی ہے۔ اسے آپ پرچھائیں کابینہ یا متبادل کابینہ کہہ سکتے ہیں۔ اپوزیشن کی پارٹیاں کوئی ایسا نظم بھی قائم کرسکتی تھیں جس کی وجہ سے انڈیا اتحاد زیادہ مضبوط ہوتا۔ 
 
 
یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ دہلی میں ۸؍ جون کو منعقدہ اس میٹنگ سے ہمیں تو مایوسی ہی ہوئی ہے۔ ایک طرف ملک کے جمہوری، سیاسی، سماجی، معاشی اور تعلیمی حالات ہیں جو روز بہ روز خرابیٔ مزید کی جانب گامزن ہیں اور دوسری طرف اتنی ڈھیلی ڈھالی ملاقات اور سپاٹ گفتگو ہے۔ بظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ بے دلی کے ساتھ دل ملانے کی اس کوشش کا مقصد نتیجہ خیز ہونا تھا ہی نہیں۔ البتہ کوئی جامع حکمت عملی طے کی گئی ہے جسے فی الحال ظاہر نہیں کرنا ہے تو بات دوسری ہے۔ اس کا ہمیں علم نہیں۔ کاش ایسا کچھ ہوا ہو!

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK