Inquilab Logo Happiest Places to Work

معروف فوٹوگرافر رگھو رائے ۸۳ ؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئے

Updated: April 26, 2026, 6:07 PM IST | New Delhi

ہندوستان کے معروف فوٹوگرافر رگھو رائے ۸۳؍ برس کی عمر میں انتقال کر گئے ، ایک فوٹو جرنلسٹ کے طور پر، رائے نے آزادی کے بعد کے ہندوستان کے کئی اہم واقعات کو اپنے کیمرے میں قید کیا۔

India`s renowned photographer Raghu Roy . Photo: INN.
ہندوستان کے معروف فوٹوگرافر رگھو رائے۔ تصویر: آئی این این

ہندوستان کے معروف فوٹوگرافر رگھو رائے ۸۳؍برس کی عمر میں انتقال کر گئے ، ایک فوٹو جرنلسٹ کے طور پر، رائے نے آزادی کے بعد کے ہندوستان کے کئی اہم واقعات کو اپنے کیمرے میں قید کیا، ان کے اہل خانہ نے اس بات کا اعادہ کیا۔ فرانسیسی فوٹوگرافر ہنری کارٹیئر بریسن کے شاگرد سمجھے جانے والے رائے نے۱۹۶۰ء کی دہائی میں فوٹوگرافی شروع کی۔
 آزادانہ پیشہ سے پہلے دہلی کے اخبار ’’دی اسٹیٹسمین‘‘ اور میگزین ’’انڈیا ٹوڈے‘‘کے لیے کام کیا۔وہ ۱۹۹۰ءسے۱۹۹۷ء کے درمیان ورلڈ پریس فوٹو مقابلے کی جیوری میں شامل تھے۔رائے نے ایک درجن سے زیادہ فوٹو کتابیں شائع کیں۔جن میں سابق وزیر اعظم اندرا گاندھی، مدر ٹریسا، ۱۹۸۴ءکے بھوپال گیس سانحہ، تاج محل اور بنگلہ دیش شامل ہیں۔۱۹۷۲ء میں انہیں پدم شری سے نوازا گیا، جو ہندوستان کا چوتھا بڑا شہری اعزاز ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: خاتون ڈاکٹر نے ہنگامی حالات میں حاملہ کی سرراہ ڈیلیوری کروائی

ان کی پیدائش۱۹۴۲ء میں جھنگ میں ہوئی جو اب پاکستان میں ہے، تقسیم کے بعد وہ اپنےخاندان کے ساتھ ہندوستان آ گئے۔ انہوں نے سول انجینئر کی تعلیم حاصل کی، مگر۱۹۶۵ء  میں فوٹوگرافی شروع کی۔۱۹۶۶ء میں اخبار’’ دی اسٹیٹسمین‘‘ میں بطور چیف فوٹوگرافر شامل ہوئے۔اس کے ساتھ ہی ۱۹۷۷ء میں دنیا کی سب سے معتبر فوٹو ایجنسیمیگنم فوٹوز میں شامل ہونے والے پہلے ہندوستانی بنے۔اعزاز کی بات یہ ہے کہ ہنری کارٹیے بریسوں نے خود ان کا انتخاب کیا تھا۔ بعد ازاں۱۹۸۴ء بھوپال گیس سانحہ کی  ان کی کھینچی ہوئی تصویر’’  Burial of an unknown child‘‘ دنیا بھر میں مشہور ہوئی اور اس سانحے کا چہرہ بن گئی۔ اس کے علاوہ انہوں نے مدر ٹریسا کے ساتھ کام کیا اور ان پر کتاب بھی شائع کی۔اندرا گاندھی، دلائی لاما سمیت کئی بڑی شخصیات کی طاقتور پورٹریٹس بنائیں۔رگھو رام اپنے کیمرے میں عام لوگ، سڑکیں، مذہبی تقریبات، اور ہندوستان کی روح کو بلیک اینڈ وہائٹ میں قید کرنے کے لیے جانے جاتے ہیں۔انہوں نے ۵۰؍ سے زائد کتابیں شائع کیں۔۱۹۷۲ء میں فوٹوگرافی کے لیے پدم شری  اعزاز پانے والے پہلے شخص بنے۔اس کے علاوہ ۲۰۰۹ء میں انہوں نے فرانس کا اعلیٰ ترین آرٹ ایوارڈ حاصل کیا۔ساتھ ہی ۲۰۱۶ء میں انہیں نیشنل جیوگرافک کی طرف سے ’’ لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے نوازا گیا۔

یہ بھی پڑھئے: اب دھیریندر شاستری کا چھترپتی شیواجی کے تعلق سے گمراہ کن بیان

رگھو رائے کا ماننا تھا کہ’’ فوٹوگرافر کو نظر آنے سے پہلے محسوس کرنا سیکھنا چاہیے۔‘‘ وہ ۸۰؍ سال کی عمر میں بھی نوجوان فوٹوگرافروں کی رہنمائی کرتے تھے۔ ان کی زندگی سے موجودہ نسل تحریک حاصل کرتی رہے گی۔ان کے انتقال پر ہندوستان کی متعدد سرکردہ شخصیات نے اظہار تعزیت کیا، اور مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر پیغامات پوسٹ کئے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK