یہ پوچھا جاسکتا ہے کہ دُنیا کے کئی ملک جب فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے تھے اور دو مملکتی حل قریب تھا تو ایسا کیا ہوا کہ حوثیوں نے مکّہ معظمہ پر یا تیل ریفائنریز کے علاوہ ایئر پورٹس پر حملے شروع کر دیئے؟
ٹرمپ اور ایران ایک دوسرے کو دھمکیاں دے رہے ہیں اور یمن کے حوثی جن کو ایران کی حمایت حاصل ہے سعودی عرب پر حملے کئے جا رہے ہیں ساتھ ہی حملے کی تردید بھی۔ ایسے میں انجام کیا ہوگا یہ خدا ہی جانتا ہے مگر ایک بات طے ہے کہ اب ایران کا وہ حال نہیں ہوگا جو صدام حسین کے دور میں عراق کا ہوا تھا۔ شاید اس لئے کہ درون ایران حملہ آوروں کی حمایت نہیں کی جائے گی۔ یہ بھی نظر آرہا ہے کہ ایران اور امریکہ اس کوشش میں ہیں کہ سعودی عرب اسرائیل سے مدد مانگے اور ایران کو پروپیگنڈہ کرنے کا موقع ملے کہ سعودی عرب اور اسرائیل نے آپس میں اتحاد کر لیا ہے البتہ اس بات کا جواب حوثیوں کے پاس ہے نہ ایرانیوں کے پاس کہ حوثی سعودی عرب کے شہروں کے تیل کے ذخیروں یا ریفائنریز پر کیوں حملہ کر رہے ہیں؟ کیا امریکی فوجی اڈوں پر ان کے حملے کافی نہیں تھے؟ اسی طرح یہ سوال بھی اہم ہے کہ کس ملک نے کس پر کتنے حملے کئے یا کس ملک نے کتنے حملے روکے؟ کیونکہ خبروں سے زیادہ افواہیں پھیلائی جا رہی ہیں۔ خبروں یا افواہوں کا تجزیہ کرنے سے انکشاف ہوتا ہے کہ ایران کی جانب سے مکّہ معاہدے کی ستائش یا یمن کی حکومت، حوثی اور سعودی عرب کے درمیان مفاہت کی پیشکش ’’دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا‘‘ سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی کہ ایران خطے کی جنگ میں خود ایک فریق ہے تو وہ ثالثی کے فرائض کیسے انجام دے گا؟ اسی دوران ایرانی ذرائع سے یہ خبر بھی عام ہوئی کہ امریکہ نے ایران سے خفیہ رابطہ کیا تھا کہ وہ امریکہ کو حملے کرنے دے اور جوابی حملے نہ کرنے کی یقین دہانی کرائے تاکہ وسط مدتی انتخاب میں ٹرمپ فائدہ اٹھا سکیں مگر ایران نے اس پیشکش یا مطالبے کو مسترد کر دیا۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ٹرمپ بے بس اور حواس باختہ شخص ہیں اور انہیں خود سمجھ میں نہیں آتا کہ کیا کریں۔ ادھر مسلم ممالک سعودی کے گرد یکجا ہو رہے ہیں، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات و قطر میں بھی حوثیوں سے لڑنے اور انہیں شکست دینے کی خواہش و کوشش بڑھ رہی ہے اور اس کا نتیجہ ہے مسلم ملکوں میں بڑھتی قربت۔
راقم الحروف صرف تجزیہ کر رہا ہے۔ اس کو سعودی عرب، حوثی، حزب اللہ، یمنی حکومت اورایران کے سربراہوں یا عوام کے عقیدہ و مسلک سے کچھ تعلق نہیں ہے۔ اس کے تجزیے سے اختلاف تو کیا جاسکتا ہے مگر تجزیہ نگار کی نیت پر شک نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں لبنان کے حزب اللہ کے بارے میں یہ بتا دینا ضروری ہے کہ ان کا مسلک الگ ہے یعنی اسی وقت سنی، شیعہ اور زیدی سلسلۂ امامت میں یقین رکھنے والے لوگ ایک دوسرے کے خلاف سرگرم ہیں۔ یمن میں بھی عوام اور حکومت کے لوگ کئی مذہبی، مسلکی تقسیم کا حصہ ہیں۔ ابتدا میں ایران نے جب اسرائیل پر میزائیل داغنے شروع کئے تو ہم خوش تھے کہ دوسروں کی نیند چھیننے والوں کو معلوم ہو رہا ہے کہ جب خود کی نیند حرام ہوتی ہے تو کیسا لگتا ہے آج رنجیدہ اس لئے ہیں کہ جس تیزی سے دُنیا کے ملکوں نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنا شروع کیا تھا یا دو ریاستی حل کی امید بڑھ رہی تھی اس پر پانی پھر گیا ہے۔ اس لئے ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ یا سعودی عرب، ایران، حوثی اور حزب اللہ کے درمیان جنگ جیسے حالات کو ناپسند کرتے ہیں کہ ان حالات کی وجہ سے مسئلۂ فلسطین کے حل یا فلسطین کی ریاست کے قیام میں رکاوٹ پڑی ہے۔ راقم الحروف کو اسرائیل اور امریکہ سے اختلاف ہے مگر وہ ان ملکوں اور طاقتوں کے بھی خلاف ہے جو باالواسطہ امریکہ اور اسرائیل کو فائدہ پہنچا رہے ہیں اور ایسا کرنے میں وہ ممالک بھی ہیں جو کھلے عام ’مرگ بر اسرائیل و امریکہ‘ کا نعرہ لگاتے رہے ہیں۔ مکّہ معاہدہ میں اگرچہ سعودی، ترکی اور پاکستان شریک ہیں مگر ترکی و پاکستان اپنا دامن بچا رہے ہیں۔ حوثیوں کی سعودیوں سے جو بھی دشمنی ہو مگر اس دشمنی کا اس طرح بدلہ لینے کا کیا مطلب کہ اسرائیل کو فائدہ پہنچے۔ راقم کو تو لگتا ہے کہ حجر اسود کی چوری یا خانۂ کعبہ میں میت کے بہانے اسلحہ پہنچائے جانے کے بعد آج مکّہ سب سے زیادہ خطرے میں ہے اور یہ خطرہ پیدا کیا ہے بظاہر اسرائیل کے خلاف نعرہ لگانے والوں نے۔ کیا اس بات کو فراموش کر دیا جائے کہ اسرائیل حوثیوں کی مدد کرنا چاہتا ہے؟
ایران کے بارے میں یہ تو کہا جاسکتا ہے کہ وہ امریکی فوجی کارروائی کا خاتمہ، مستقبل میں حملے نہ کئے جانے کی ضمانت، معاشی پابندیوں کا خاتمہ یا رعایت چاہتا ہے مگر یہ بھی پوچھا جاسکتا ہے کہ دُنیا کے کئی ملک جب فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکے تھے اور دو مملکتی حل قریب تھا تو ایسا کیا ہوا کہ حوثیوں نے مکّہ معظمہ پر یا تیل ریفائنریز کے علاوہ ایئر پورٹس پر حملے شروع کر دیئے۔ دوسری طرف امریکی منصوبے صاف نہیں ہیں۔ ٹرمپ کے اس دعوے یا مطالبے میں بھی کوئی وزن نہیں ہے کہ ایران ایٹمی یا بیلسٹک میزائیل بنانے والی طاقت نہ بنے ورنہ وہ ایرانی تہذیب کو ہی تباہ کر دیں گے۔ یہ خبط الحواسی ہے۔ ٹرمپ بکواس تو کرسکتے ہیں مگر ایرانی تہذیب کو جو دُنیا کی قدیم ترین تہذیب ہے ختم کرنا ان کے بس میں نہیں ہے۔ اس لئے دو باتوں کی طرف توجہ کرنا ضروری ہے۔ پہلی یہ کہ مسجد اقصیٰ کی بازیانی یا غزہ و فلسطین کے باسیوں کی نجات کے نام پر جو جنگ شروع ہوئی تھی وہ اب سیاست کی نذر ہوچکی ہے اور دوسری بات یہ کہ مکّہ اور خانۂ کعبہ پر پہلے بھی حملے کئے جا چکے ہیں اس بار بھی حملہ کیا جاسکتا ہے مگر جس نے ہمیشہ مکّہ، مکّہ والوں اور حجر اسود کی حفاظت کی ہے وہ آئندہ بھی ان کی حفاظت کرے گا البتہ مکّہ معاہدہ کی حفاظت کی کوئی ضمانت نہیں۔ یہ باہمی تضادات کے سبب بھی ٹوٹ سکتا ہے۔ ٹرمپ نے ایران میں حکمرانوں کی تبدیلی کا جو خواب دیکھا تھا یا رضا شاہ کے بیٹے کے سَر میں جو خوش فہمیاں سمائی ہوئی تھیں اب ان کے باقی رہنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔ یہ تو دکھائی دے رہا ہے کہ ایرانی عوام اپنے حکمرانوں کے ساتھ ہیں۔ ہاں، سعودی حکمرانوں کے خلاف بے چینی ہے البتہ لوگ یہ بھی محسوس کر رہے ہیں کہ حوثیوں نے سعودی شہروں کو تو نشانہ بنایا ہے مگر اسرائیل کو نہیں۔
خود راقم الحروف نے مکّہ پر حملہ کئے جانے کے ایک امکان پر حوثیوں کی تردید کو نقل کیا تھا مگر اب تو سوال یہ پیدا ہوگیا ہے کہ امریکہ کس کے خوف سے عرب ملکوں سے اپنے سفارتکاروں کو واپس بلا رہا ہے؟ اگر اس کا مقصد ایران پر بڑا امریکی حملہ ہے تو اس حملے کی مذمت بھی ضروری ہے۔ یہ حملہ امریکہ کی پشت پناہی میں اسرائیل بھی کرسکتا ہے۔ قطر، انڈونیشیا، پاکستان اور ترکی کا ’بدر معاہدہ‘ میں شریک ہونا بھی اتفاق نہیں ہے۔ یہ ’ردعمل‘ ہے حوثیوں کے حملے کا۔