• Thu, 29 October, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

اروناچل پردیش کی ایک قبائلی آبادی ’’نئیشی‘‘

Updated: October 29, 2026, 4:47 PM IST | Professor Sarwar Ul Huda | Mumbai

دنیا کی بہت سی قبائلی آبادیوں کی طرح اس جماعت کی تہذیبی تاریخ زبانی روایت سے وابستہ ہے۔ نئیشی قبائل کا ایک اہم تہوار نیو کم یلو ہے جو فروری کے مہینے میں منایا جاتا ہے۔ یہ لوگ بانس کی بنی ہوئی ایک خاص ٹوپی پہنتے ہیں۔

Picture: INN
تصویر: آئی این این

’’ جنگلی پھول‘‘ کے نام سے جو رام یا لام نابام کا ایک ناول ہے جو ۲۰۲۳ء  میں شائع ہوا۔ اسی ناول سے اروناچل پردیش کی ایک خانہ بدوش جماعت کے بارے میں کچھ جاننے کا موقع ملا۔ جو رام یالام کا تعلق بھی اسی جماعت سے ہے۔ انہوں نے اس طبقے کی زندگی کو نہ صرف دیکھا ہے بلکہ اسے جیا اور بھوگا بھی ہے۔ ناول جنگلی پھول کے تعلق سے کسی اور موقع پر اظہار خیال کیا جائے گا۔ اس وقت اس خانہ بدوش جماعت کا ذکر مقصود ہے جسے نئیشی کے نام سے جانا جاتا ہے۔ نئی( Nyi) سے مراد انسان ہیں اور شی( shi) کا مطلب پہاڑوں کی بلندی پر رہنے والا انسان ہے۔ نئیشی کو لفظی طور پر پڑھنے اور سننے کا ایک خاص لطف ہے۔نئشی نشی بھی کہا جاتا ہے۔ نشی ایک زبان ہے جو تبتی برمی بھاشا کے خاندان سے تعلق رکھتی ہے۔  ایسا محسوس ہوتا ہے کہ جیسے کوئی شے بہت کومل بھی ہے اور فطری بھی۔ پہاڑوں کے درمیان رہنے والی آبادی فطرت سے بہت قریب ہے۔ اس کی اپنی زندگی کے مسائل کچھ تو وہی ہیں جو عام انسانوں کے ہیں لیکن کچھ ایسے بھی مسائل ہیں جن کا تعلق صرف پہاڑوں کے درمیان گزاری جاننے والی زندگی  سے ہے۔ 

یہ جماعت اروناچل پردیش کے وسطی اور مغربی علاقے میں آباد ہے۔ یہ ریاست کی سب سے بڑی آبادی ہے۔ ایک قدیم برادری تانی( Tani) سے نئیشی کا خاندانی رشتہ ہے۔ کچھ اور جماعتیں بھی اسی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں۔ خانہ بدوش عام طور پر وہی ہوتے ہیں جو مستقل طور پر کہیں قیام نہیں کرتے۔ مگر خانہ بدوشی ایک طرح کی جسمانی اور ذہنی آوارگی بھی ہے، قبائلی زندگی میں بھی پائی جاتی ہے۔ کھیتی اورکاشت کاری اس آبادی کی معاشی زندگی کےدو اہم ترین حوالے ہیں۔ گوشت اور مچھلی ان کی محبوب غذا ہے۔ وہ اپنی اس غذا کی حفاظت کے لئے خاص انتظام کرتے ہیں تاکہ جب یہ میسر نہ ہوں تو انہیں کھایا جا سکے۔ اس معاشرے کو نان ویجیٹیرین کہا جا سکتا ہے۔ سبزیاں عام طور پر تیل میں پکائی نہیں جاتی ہیں وہ انہیں ابال کر نمک کے ساتھ کھاتے ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: دھاندلی پر دھاندلی، احتجاج پر احتجاج

نئیشی کی تہذیبی زندگی میں ایک تہوار نیو کم یلو (Niyo kum yollu) ہے۔ جو فروری کے مہینے میں منایا جاتا ہے۔ اس تہوار سے یہ عقیدہ بھی وابستہ ہے کہ فصل ٹھیک ہو جائے گی اور مجموعی طور پر زندگی خوشحال ہوگی۔ اس موقع پر رکھم پاڑا نام کا مشہور لوگ گیت ہے جسے گایا جاتا ہے۔ اس گیت کی ایک خاص اہمیت ہے۔ عقیدہ ہے کہ اسے گانے سے دیوی دیوتا خوش ہوں گے۔ خواتین یہ سمجھتی ہیں کہ اس گیت کو سننے کے بعد ان کے شوہر متوجہ ہوں گے اور ایک معنی میں یہ گیت اپنی جانب متوجہ کرنے کا ایک وسیلہ بھی ہے۔ ایک گیت کا نام اولا ہے جسے مائیں گاتی ہیں۔ یہ گیت اپنے دھیمی سر کی وجہ سے بہت دلکش ہے۔ ہلکی آواز میں گایا جانے والا یہ گیت بچوں کو رات کے وقت اس لئے سنایا جاتا ہے تاکہ انہیں نیند آ جائے۔ نئیشی کے لوگ ابوتانی کے گیت گاتے ہیں۔ ابوتانی کو بھارت کی ریاستوں اروناچل پردیش اور آسام کے تانی قبائل کا جدِّ امجد تصور کیا جاتا ہے۔ وہ اس گیت کے ذریعے ابو تانی کی تاریخ اور تہذیب پر فخر کا اظہار کرتے ہیں۔ شادی کے موقع پر بھی شادی کے گیت گائے جاتے ہیں جب دلہن رخصت ہو رہی ہوتی ہے۔

 انگریزوں کے دور حکومت میں آبادی یا قبیلے کو دافلہ (Dafla)   کہا جاتا تھا۔ یہ نام نئیشی کہ لوگوں کو پسند نہیں تھا۔ موقع موقع سے اس کے خلاف آواز بھی بلند کی جاتی رہی۔ ایک طویل مدت کے بعد ۲۰۰۸ء   میں اس کا نام ہندوستانی حکومت نے نئیشی رکھ دیا ۔ اس لفظ سے  قبیلے کے وقار کا اظہار ہوتا ہے۔ دنیا کی بہت سی قبائلی آبادیوں کی طرح اس جماعت کی  تہذیبی تاریخ زبانی روایت سے وابستہ ہے۔ یہاں کے لوگ ایک خاص طریقے ٹوپی پہنا کرتے ہیں جو بانس کی بنی ہوتی ہے کبھی ٹوپی کے اوپر ایک پرندے کی چونچ لگائی جاتی تھی۔ لیکن دھیرے دھیرے یہ چلن ختم ہوا۔ اس کی  وجہ پرندوں کے سلسلے میں حکومت کی جانب سے اٹھائے جانے والے اقدام ہیں۔ اس ٹوپی کا نام پو دم( Pudum)ہے۔

 ہنر مند ہاتھ اپنی انگلیوں کے ساتھ کتنی خوبصورت چیزوں کو بناتے ہیں۔ نئیشی کے لوگ بانس سے بہت سی خوبصورت چیزیں بناتے تھے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ بانس کے کونپل کو ابال کر وہ مشروب کی طرح استعمال کرتے تھے۔ عام زندگی میں اہمیت گوشت اور چاول کو حاصل تھی۔ یہ معاشرہ ابھی بڑی حد تک بہت سی پابندیوں سے آزاد ہے۔ کھانے پینے اور پہننے کے معاملے میں کوئی انہیں ترغیب نہیں دے سکتا۔ یہ ایک لبرل معاشرہ ہے جو بڑی حد تک اپنی شرطوں پہ جینا چاہتا ہے۔ لیکن اس قبیلے کے لوگ اپنی رسموں کے تعلق سے بہت حساس ہیں۔

ایک ایسے وقت میں جب عالم کاری کی زد میں مختلف زبانیں اور رسمیں ہیں ، نئیشی طبقے نے اپنی شناخت کو باقی رکھنے کے لئے بڑی مشقت کی ہے. جیسا کہ ان کے ایک تہوار نیو کم یلو کا ذکر آ چکا ہے، اس موقع پر مختلف عمروں کے لوگ روایتی لباس پہن کر جشن مناتے ہیں۔  دھان کی بوائی کا یہ وقت اس معاشرے کے لئے اپنی زمین سے لپٹنے کا وقت بھی ہے۔ یہ بات بھی اس معاشرے کو دیگر معاشروں سے ممتاز کرتی ہے کہ یہاں بزرگ نئی نسل کو اپنی روایت، تاریخ اور تہذیب سے وابستہ کہانیاں سناتے ہیں۔ نئیشی قبیلے میں جیسے جیسے جدید تعلیم کا رواج فروغ پا رہا ہے ، اپنی زبانی روایت کو قلم بند کرنے کی ضرورت کا احساس بھی پیدا ہوا ہے پھر بھی یہ معاشرہ لوک کتھاؤں اور کہانیوں کے ساتھ اپنی شناخت باقی رکھنا چاہتا ہے۔

یہاں نیل  (Nyele) نام کا ایک قانونی ادارہ  ہے۔ لوگ اپنے مسائل کو اسی ادارے اور نظام کے تحت حل کر لیتے ہیں اور اس پر ان کا بھروسہ بھی قائم رہتا ہے۔ اس مخصوص قبیلے کی روح پہاڑوں، جنگلوں اور پانیوں کے درمیان رہتی ہے۔ اس میں زراعتی نظام بھی شامل ہے جو فطرت سے ان کی وابستگی کا ایک بڑا اظہار ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK