عالمی ادارہ، جو یونائٹیڈ نیشنز آگنائزیشن یعنی یو این او کہلاتا ہے، کتنا کام کا ہے اور کتنا ناکام ہوچکا ہے، اس کا تجزیہ ہوتا رہا ہے اور آئندہ بھی ہوگا۔ اس کے تعلق سے کوئی اچھی رائے تو شاید کہیں بھی سننے کو نہ ملے البتہ اتنی بات ماننی پڑتی ہے کہ تعلیم، صحت اور پناہ گزینوں کیلئے اس کی خدمات اہم ہیں اور شاید اسی وجہ سے اُس کی عزت، کسی حد تک ہی سہی، بنی رہتی ہے۔
اقوامِ متحدہ۔ تصویر: آئی این این
عالمی ادارہ، جو یونائٹیڈ نیشنز آگنائزیشن یعنی یو این او کہلاتا ہے، کتنا کام کا ہے اور کتنا ناکام ہوچکا ہے، اس کا تجزیہ ہوتا رہا ہے اور آئندہ بھی ہوگا۔ اس کے تعلق سے کوئی اچھی رائے تو شاید کہیں بھی سننے کو نہ ملے البتہ اتنی بات ماننی پڑتی ہے کہ تعلیم، صحت اور پناہ گزینوں کیلئے اس کی خدمات اہم ہیں اور شاید اسی وجہ سے اُس کی عزت، کسی حد تک ہی سہی، بنی رہتی ہے۔ فی الحال معاملہ یہ ہے کہ ادارہ کے موجودہ سکریٹری جنرل انتونیو غطریس کی میعادِ کار ۳۱؍ دسمبر کو ختم ہورہی ہے اور ان کا جانشین منتخب کرنے کا عمل شروع ہوچکا ہے جو خاصا طویل ہوتا ہے۔ پرتگال کے غطریس عالمی ادارہ کے نویں سکریٹری جنرل تھے۔ اسے کوتاہی کہئے یا صنفی مساوات میں عملاً یقین نہ رکھنے کا نتیجہ، کہ اب تک کسی بھی خاتون کو اس عہدہ پر پہنچنے کا موقع نہیں ملا۔کیا اس پر ادارہ کی توجہ نہیں ہونی چاہئے؟ یا، کیا اس نے بھی خود کو امریکہ کی راہ پر ڈال دیا ہے جہاںاب تک کسی خاتون کو صدر بننے کا موقع نہیں ملا؟ جواب مشکل ہے مگر حقیقت یہی ہے کہ اپنی ذمہ داریوں کی انجام دہی کی طرح عالمی ادارہ اس معاملے میں بھی ناکام ہے۔
اپنے قیام کے بعد اقوام متحدہ کو جو پہلا سکریٹری جنرل میسر آیا وہ گلیڈون جیب (برطانیہ) تھے جن کی حیثیت عبوری عہدیدار کی تھی۔ اس کے بعد جو اولین سکریٹری جنرل ہوئے وہ ناروے کے ٹریگوئے لائی تھے جو ۱۹۵۲ء تک عہدہ پر فائز رہے۔ پھر سویڈن کے ڈگ ہیمر سکولڈ کا انتخاب ہوا جو ۱۹۶۱ء تک متمکن رہے۔
یہ بھی پڑھئے: اسرائیل میں عرب پارٹیوں کا جلوہ
بعد ازیں یوتھنٹ (آسٹریا)، پریز ڈیکولر (پیرو)، بطروس غالی (مصر)، کوفی عنان (گھانا)، بان کیمون (جنوبی کوریا) اور پھر انتونیو غطریس نے اس ادارہ کے انتظام و انصرام اور عالمی اُمور کی نگرانی کا اعزاز حاصل کیا۔ آپ دیکھ رہے ہیں کہ اب تک محض چند ملکوں کو نمائندگی کا موقع ملا ہے۔ ان میں بھی، جیسا کہ عرض کیا گیا، کوئی خاتون نہیں ہے۔ کوئی مسلم بھی نہیں ہے۔
مگر، اِس بار متحدہ عرب امارات کی سابق وزیر اور سفیر لانا زکی نسیبہ حال حال میں اس عہدہ کی دوڑ میں شامل ہوئی ہیں۔ نسیبہ کا تعلق فلسطین سے ہے۔ اُن کا طویل انتظامی و سفارتی تجربہ اور خود اقوام متحدہ میں اپنے ملک کی مستقل نمائندہ کی حیثیت سے خدمات اُنہیں ایک لائق اور حقدار اُمیدوار بنا رہی ہیں مگر اب تک جن چھ اُمیدواروں سے اُن کا مقابلہ ہے، اُن کے ناموں کے پیش نظر یہ کہنا ہنوز مشکل ہے کہ اُن کا انتخاب عمل میں آئے گا اور اس ادارہ کو بحیثیت سکریٹری جنرل ایک خاتون کی سرپرستی مل سکے گی۔نسیبہ امارات میں پیدا ہوئیں مگر اُن کا آبائی فلسطین ہے۔ اُن کے والد زکی نسیبہ صحافی اور پھر حکومت امارات میں افسر رہے۔ لانا کے ماموں سری نسیبہ فلسطینی دانشور ہیں جن کی کئی تصانیف میں زیادہ مشہور ہے ’’وَنس اپون اے کنٹری‘‘ (فلسطین ’’جو کبھی ایک ملک تھا‘‘) اس خاندانی پس منظر کے علاوہ خود لانا نسیبہ کی سفارتی سوجھ بوجھ، طویل تجربہ اور مختلف ملکوں کے درمیان تنازع بڑھنے سے پہلے مسائل کا حل نکالنے کی سوچ اُنہیں ممتاز کرتی ہے مگر کچھ نہیں کہہ سکتے۔ اُن کا نام ویٹو بھی کیا جاسکتا ہے!