ہنگولی ضلع کے واگھجالی گاؤں کا واقعہ، قرض کی قسطوں کیلئے مسلسل تقاضوں سے پریشان خاندان نے گھر پر فروخت کا پوسٹر چسپاں کردیا، کرانتی کاری کسان تنظیم کا سرپرست وزیر پر الزام۔
EPAPER
Updated: October 30, 2026, 4:13 PM IST | ZA Khan | Hingoli
ہنگولی ضلع کے واگھجالی گاؤں کا واقعہ، قرض کی قسطوں کیلئے مسلسل تقاضوں سے پریشان خاندان نے گھر پر فروخت کا پوسٹر چسپاں کردیا، کرانتی کاری کسان تنظیم کا سرپرست وزیر پر الزام۔
ضلع کے سینگاؤں تعلقہ کے واگھجالی گاؤں میں مائیکرو فائنانس کمپنیوں کے قرض کی قسطوں کی وصولی کیلئے مسلسل تقاضوں سے پریشان بے زمین زرعی مزدوروں اور خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس نے اپنا مکان ہی فروخت کیلئے پیش کردیا ہے۔ ۲۹؍اکتوبر کو گاؤں والوں نے اپنے گھر پر فروخت کا پوسٹر چسپاں کیا۔
واگھجالی گاؤں کے زرعی مزدوروں اور خواتین کے سیلف ہیلپ گروپس نے پہلے بینکوں سے قرض حاصل کیا تھا۔ ان گروپس نے قرض کی رقم سے چھوٹے بڑے کاروبار شروع کیے اور قرض کی ادائیگی بھی کردی تھی۔ اس کے بعد انہوں نے ودربھ کی مائیکرو فائنانس کمپنیوں سے قرض لیا۔ بتایا جاتا ہے کہ تقریباً ڈیڑھ سال قبل حاصل کیے گئے ان قرضوں کی ادائیگی تین سال میں کی جانی ہے۔ ہر ماہ کی قسط تقریباً۳۵۰۰؍ سے۴؍ہزار روپے ہے۔اس سال خشک سالی جیسی صورتحال کے باعث مزدوروں کو کام نہیں مل رہا ہے اور کھیتی سے بھی پیداوار نہیں ہوئی۔ اس کے نتیجے میں دیہی معیشت بری طرح متاثر ہوئی ہے اور گاؤں کے چھوٹے بڑے کاروبار بھی ٹھپ پڑگئے ہیں۔
سیلف ہیلپ گروپس کے کاروبار مشکلات کا شکار ہونے سے قرض کی قسطیں ادا کرنا دشوار ہوگیا ہے۔قسطیں بقایا رہنے کے بعد مائیکرو فائنانس کمپنیوں کی جانب سے مسلسل وصولی کے لیے دباؤ ڈالا جارہا ہے۔ اس صورتحال سے تنگ آکر زرعی مزدوروں اور خواتین نے اپنا رہائشی مکان فروخت کرنے کا فیصلہ کیا اور اس سلسلے میں گھر پر پوسٹر بھی چسپاں کردیا۔زرعی مزدور دھمّ رتن مورے نے بتایا کہ انہوں نے ودربھ کی دو مائیکرو فائنانس کمپنیوں سے بالترتیب۱۷؍ ہزار اور۴۰؍ ہزار روپے کے قرض حاصل کیے تھے۔ ان دونوں قرضوں کی ماہانہ قسطیں تقریباً ۳۵۰۰؍ اور ۴؍ہزار روپے ہیں۔ان کے مطابق، گزشتہ ماہ کی قسط ادا نہ ہونے پر بدھ،۲۸؍ اکتوبر کو وصولی کرنے والے اہلکار ان کے گھر پہنچے اور وہیں بیٹھ گئے۔ بار بار درخواست کرنے کے بعد وہ واپس گئے، لیکن ان کا رویہ اور گفتگو مناسب نہیں تھی۔ اسی صورتحال سے پریشان ہوکر انہوں نے اپنا گھر فروخت کے لیے پیش کردیا۔ایک اور معاملے میں ودربھ کی کمپنی سے۸۰؍ ہزار روپے کا قرض لیا گیا تھا۔ متاثرہ فریق کا کہنا ہے کہ خشک سالی کے باعث مالی مشکلات سے آگاہ کرنے کے باوجود کمپنی کی جانب سے وصولی کے لیے مسلسل دباؤ ڈالا جارہا ہے۔
نگراں وزیرپر عدم توجہی کا الزام
کرانتی کاری کسان تنظیم نے ہنگولی کے سرپرست وزیر نرہری جھروال پر تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ انہیں شہریوں کے مسائل سے کوئی سروکار نہیں اور ان کی دلچسپی صرف ترقیاتی کاموں میں کمیشن حاصل کرنے تک محدود ہے۔ تنظیم نے کہا کہ ایک طرف وزیر اعلیٰ قرض کی وصولی نہ کرنے کی بات کرتے ہیں، جبکہ دوسری جانب فائنانس کمپنیوں کی جانب سے قرض داروں پر دباؤ برقرار ہے۔ وزیر اعلیٰ کو اپنے سرکاری بنگلے ’ورشا‘ کو خالی کرکے بے زمین زرعی مزدوروں کو رہائش کیلئے جگہ فراہم کرنی چاہیے۔