ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ پارلیمنٹ، اسمبلی، عدلیہ اور صحافت کے علاوہ مذہب کی ترجمانی کرنے والوں کی طرف سے بھی وہی کہا جائے جو حکمرانوں کی دلجوئی کرے یا فائدہ پہنچائے تو یہ کوشش بھی فاشزم کو فروغ دینے جیسی ہے۔
عیسائیوں کے مذہبی سربراہ ’پوپ‘ بدھ مت ماننے والوں کے مذہبی سربراہ ’دلائی لاما‘ اور دوسرے مذہبی سربراہوں کی طرح ’جگت گرو شنکر آچاریہ‘ بھی مسلمانوں کے لئے قابلِ احترام ہیں البتہ مسلمانوں پر اقتدا صرف محسن انسانیت پیغمبر اسلامؐ کی لازم ہے۔ دھرم گرو اور فلسفی آدی شنکر آچاریہ نے ملک کے چاروں کونوں یا سمتوں میں ۴؍ مٹھ یعنی مشرق کے ادیشہ میں گووردھن مٹھ (پوری) مغرب کے گجرات میں شاردا مٹھ (دوارکا)، شمال کے اتراکھنڈ میں جیوتی مٹھ (بدری کا آشرم) اور جنوب کے کرناٹک میں شرنگیری شاردا پیٹھ (چکمگلور) قائم کرکے اپنے شاگردوں کو ان کا سربراہ بنایا تھا۔ ان شاگردوں کو بھی ’شنکر آچاریہ‘ کہا جاتا ہے۔ شنکر آچاریہ کون ہو اور ان کا انتخاب کیسے ہو اس سلسلے میں بھی واضح ہدایات اور روایات موجود ہیں ۔ شنکر آچاریہ وہی بن سکتا ہے جو خاندان، رشتے دار کو پوری طرح ترک کرکے سنیاسی بن چکا ہو، سنیاسی بھی ’دنڈی‘ جو ہمیشہ پاکیزہ دنڈی لئے رہتے ہیں ۔ منڈن اور پنڈدان کرنے کے علاوہ ’رُدراکش‘ پہنتا ہو۔ چاروں ویدوں ، چھ ویدانگوں ، اپنشدوں اور پرانوں کا عالم ہو۔ نفس پر قابو رکھتا ہو اور مناظرہ کرنے کے فن میں بھی ماہر ہو۔ آدی شنکر آچاریہ جنہوں نے چاروں سمتوں میں مٹھ قائم کئے اور شنکر آچاریہ بنائے ’مٹھا منائے‘ اور ’مہانوشاسن‘ میں شنکر آچاریہ بنائے جانے کے طریقے کا بھی ذکر کیا ہے۔ انہیں کتابوں کو ’چاروں مٹھوں ‘ کا دستور بھی کہا جاتا ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ جس جگہ ’گرو‘ اپنے شاگردوں کو تعلیم دیتے ہیں ا ور تربیت کرتے ہیں اس کو ’مٹھ‘ یا ’پیٹھ‘ کہتے ہیں ۔ دنیا سے جاتے ہوئے شنکر آچاریہ اپنے وارث کے بارے میں وصیت کر جاتے ہیں ا ور وہی شنکر آچاریہ ہوتا ہے۔ اگر کسی مٹھ یا پیٹھ کا شنکر آچاریہ اپنا وارث نامزد کئے بنا ہی دنیا سے گزر جائے تو باقی تین پیٹھ کے شنکر آچاریہ کی مرضی یا منظوری سے دنیا سے گزر جانے والے شنکر آچاریہ کے جانشین کی توثیق ہوتی ہے۔ کاشی ودّت پریشد، بھارت دھرم مہا منڈل اور الگ الگ اکھاڑوں کے سربراہوں (مہا منڈلیشور) کی مرضی بھی اہم ہوتی ہے۔ ’پٹا ابھیشیک‘ سے مراد شنکر آچاریہ منتخب کر لئے جانے کے بعد منعقد ہونے والی وہ مذہبی تقریب ہے جس میں شنکر آچاریہ کو گدی پر بٹھایا جاتا ہے۔ پانی، دودھ، دہی اور گھی وغیرہ سے اس کا ابھیشیک ہوتا ہے۔ ابھیشیک کے بعد ہی وہ اپنے نام کے ساتھ لقب مثلاً جیوتی مٹھ کے لئے ’گری‘ ’پروت‘ اور ’ساگر‘ شاردا مٹھ کے لئے تیرتھ، آشرم، گووردھن مٹھ کیلئے آرنیہ اور شرنگیری مٹھ کے لئے بھارتی، سرسوتی اور پوری لگاتے ہیں ۔
اوی مکتیشورانند شنکر آچاریہ ہیں یا نہیں ؟ اس سلسلے میں ہم جیسے لوگ کچھ نہیں کہہ سکتے مگر جو سامنے ہے وہ یہ کہ وہ اس حیثیت سے کئی تقریبات میں شامل ہوتے رہے ہیں اور ان کو نمن یا دنڈوت کرنے والوں میں وزیراعظم مودی جی بھی ہیں ۔ اوی مکتیشورانند اور ان کے ایڈوکیٹ ڈاکٹر پی این مشرا کا دعویٰ ہے کہ شنکر آچاریہ وہی ہیں ، ان کے نام رجسٹرڈ وصیت ہے، مخالفت میں بھی بولنے والے چند لوگ ہیں مگر اوی مکتیشورانند اور ان کے ایڈوکیٹ کہتے ہیں کہ ان کا ’پٹا ابھیشیک‘ ہوچکا ہے اور سپریم کورٹ کو بھی اس کی اطلاع ہے۔ سپریم کورٹ کا حکم صرف یہ ہے کہ ’پٹا ابھیشیک‘ ابھی نہ ہو۔ اس حکم سے اوی مکتیشورانند کی شنکر آچاریہ کی حیثیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ایک عام ذہن میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا پریاگ راج میں تنازع کھڑا ہونے سے پہلے اس طرح ان کی شنکر آچاریہ ہونے کی حیثیت پر سوال کھڑا کیا گیا تھا یا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے تو میلہ حکام نے ان کو نوٹس کیوں دیا؟ اخبارات کے ذریعہ یہ بھی معلوم ہوا کہ کچھ سیاستداں اوی مکتیشورانند سے ملے یا ٹیلیفون پر بات کی۔ یوپی کے وزیراعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ سے منسوب کچھ ایسے بیانات اخبارات میں شائع ہوئے ہیں جن سے اندازہ ہوتا ہے کہ پریاگ راج میں اسنان سے روکا جانا محض ایک بہانہ ہے۔ یہ جھگڑا بہت پرانا ہے۔ مذہبی شخصیتوں کو ایسے بیانات اور تنازعات سے دور ہی رکھا جاتا تو اچھا تھا۔ مولانا توصیف رضا کی گرفتاری بھی اسی سلسلے کی کڑی معلوم ہوتی ہے۔ یوپی کے نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ کا ایک ویڈیو نظر سے گزرا جس میں انہوں نے اوی مکتیشورانند سے درخواست کی ہے کہ وہ سنگم اسنان کرکے معاملہ ختم کریں ۔ اس مسئلہ کا حل بھی یہی ہے مگر یہ درخواست یوگی جی یا میلہ انتظامیہ کے ذمہ داروں کی طرف سے آنا چاہئے۔ یوگی آدتیہ ناتھ وزیراعلیٰ ہونے کے ساتھ ایک پنتھ کے گرو بھی ہیں ۔ کالم نگار کو جہاں یہ احساس ہے کہ حکومت اس کوشش میں ہے کہ مذہبی سربراہوں کی زبان سے جو بھی نکلے ان کی حمایت میں نکلے وہیں کچھ بدزبان، بدنیت لوگ مذہبی شخصیتوں کے سہارے اپنا کھیل کھیلنا چاہتے ہیں یا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں ۔ کالم نگار ان دونوں میں سے کسی کا ہم نوا نہیں ۔ اس کو اوی مکتیشورانند کا نہ یہ کہنا پسند آیا کہ یوگی اورنگ زیب ہیں اور نہ یوگی آدتیہ ناتھ کی زبان سے کسی کو ’کال نیمی‘ کہا جانا.... ’کال نیمی‘ کا مطلب سادھو کے بھیس میں شیطان ہے اور اس کے پس پشت ایک کتھا بھی ہے۔
یہ معاملہ پہلے ہی سلجھ جاتا اور کسی طرف سے بھی ایسی زبان کا استعمال نہ ہوتا تو اچھا تھا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ پارلیمنٹ، اسمبلی، عدلیہ اور صحافت کے علاوہ مذہب کی ترجمانی کرنے والوں کی طرف سے بھی وہی کہا جائے جو حکمرانوں کی دلجوئی کرے یا فائدہ پہنچائے تو یہ کوشش بھی فاشزم کو فروغ دینے جیسی ہے۔ اس سے اتفاق نہیں کیا جاسکتا۔ اوی مکتیشورانند کو جو دو نوٹس دیئے گئے وہ بھی غیر ضروری اور غیر شائستہ زبان میں تھے۔ اگر وہ شنکر آچاریہ نہیں ہیں تو یہ مسئلہ پہلے کیوں نہیں اٹھایا گیا یا وہ زمین الاٹ کیوں کی گئی جو واپس لے لینے کی دھمکی دی جا رہی ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ حکمراں بی جے پی یا یوگی جی نے مسلم سربراہوں کو ہاں میں ہاں ملانے پر تو مجبور کر دیا مگر اپنے ہم مذہب شنکر آچاریہ کو ہموار کرنے میں ناکام ہوگئے۔ سنت سماج میں اوی مکتیشورانند کے نکتہ چیں پیدا کرنے کی کوشش میں حکمراں جماعت نے اپنے ہی ہم نواؤں میں دراڑ پیدا کر دی ہے۔ آج سنت سماج اور بی جے پی میں ہی نہیں ہر شعبۂ حیات سے تعلق رکھنے والوں میں دراڑ پیدا ہوچکی ہے۔ اچھا صرف وہ لہجہ لگا جو نائب وزیراعلیٰ کیشو پرساد موریہ نے اختیار کیا۔ قابلِ احترام اوی مکتیشورانند کیلئے وہی اختیار کیا جانا چاہئے۔