• Fri, 30 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

یوپی: پوکسو عدالت نے ایس پی لیڈر معید خان کو۲۰۲۴ء کے گینگ ریپ کیس میں بری کردیا

Updated: January 30, 2026, 3:04 PM IST | Lucknow

اتر پردیش کے ایودھیا میں پوکسو عدالت نے نابالغ سے اجتماعی زیادتی کے ۲۰۲۴ءکے معاملے میں سماج وادی پارٹی کے لیڈر معید خان کو شواہد کی کمی کی بنیاد پر بری کر دیا۔ یہ فیصلہ اس مقدمے اور اس کے بعد ہونے والی متنازع بلڈوزر کارروائیوں پر ایک بار پھر سیاست اور انصاف کے باہمی تعلق پر سوالات کھڑے کرتا ہے۔

Moid Khan. Photo: INN
معید خان۔ تصویر: آئی این این

اتر پردیش کے ایودھیا میں ایک پوکسو عدالت نے ۲۰۲۴ءمیں ایک نابالغ لڑکی کے اجتماعی زیادتی کے مقدمے میں سماج وادی پارٹی کے لیڈر معید خان کو بری کر دیا ہے۔ عدالت کا کہنا تھا کہ ڈی این اے شواہد معید خان کو جرم سے جوڑنے میں ناکام رہے اور استغاثہ الزامات ثابت نہیں کر سکا۔ یہ فیصلہ ان کی گرفتاری کے تقریباً دو سال بعد آیا ہے، جس کے بعد ان کی جائیدادوں کو بلڈوزر کارروائی میں منہدم کر دیا گیا تھا۔ البتہ عدالت نے اس مقدمے میں معید خان کے ملازم راجو کو مجرم قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ اس واقعے کے تقریباً دو سال بعد آیا ہے جس نے ایودھیا میں شدید سیاسی تنازع اور انتظامی کارروائی کو جنم دیا تھا۔ 
۲۰۲۴ءمیں معید خان کو ایک نابالغ کی اجتماعی زیادتی کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا اور اس معاملے کو بڑے پیمانے پر سیاسی رنگ دیا گیا۔ وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے اس واقعے کا ذکر اسمبلی میں کیا تھا اور بعد میں علی گڑھ میں ایک انتخابی ریلی کے دوران بھی اسے دہرایا۔ بی جے پی کے لیڈروں نے متاثرہ خاندان سے ملاقات کی تھی جبکہ ایودھیا کے پوراکالندر علاقے میں معیدخان کی جائیدادوں، جن میں ایک کثیر منزلہ شاپنگ کمپلیکس اور ایک بیکری شامل تھی، کو مبینہ غیر قانونی تعمیر کا حوالہ دے کر بلڈوزر کارروائی میں منہدم کر دیا گیا تھا۔ یہ بیکری وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی متاثرہ بچی کی ماں سے ملاقات اور مجرموں کے خلاف ’’بلڈوزر کارروائی‘‘ کی یقین دہانی کے ایک دن بعد گرائی گئی تھی۔ حکام کا دعویٰ تھا کہ یہ ڈھانچہ غیر قانونی اور متنازع زمین پر بنا تھا، تاہم، اس کارروائی کو حکومت کے’’بلڈوزر جسٹس‘‘ کے طریقۂ کار کا حصہ سمجھا گیا۔ 

یہ بھی پڑھئے: یو جی سی کے نئے ضوابط پر سپریم کورٹ کی روک، مبہم اور آئینی مساوات کے منافی قرار دیا

مقدمے کی سماعت کے دوران دفاع نے استغاثہ کے کیس میں سنگین تضادات کی نشاندہی کی۔ ایف آئی آر میں جائے واردات ایک بیکری بتائی گئی تھی، مگر بعد کی تفتیش میں جائے وقوعہ کو معیدخان کی بیکری سے کافی دور قرار دیا گیا۔ آلٹ نیوز کے شریک بانی محمد زبیر کے مطابق، متاثرہ لڑکی نے ابتدا میں مرکزی ملزم کے ساتھ ’موہت‘ نامی شخص کا ذکر کیا تھا، لیکن بعد میں مبینہ طور پر پولیس کے دباؤ میں معید خان کا نام شامل کیا گیا۔ یہ مقدمہ شدید میڈیا اور سیاسی نشانے پر بھی رہا۔ ریپبلک ٹی وی کے اینکر ارنب گوسوامی نے ٹی وی پر معید خان، سماج وادی پارٹی اور انڈیا اتحاد کے خلاف حملے کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا:’’ایس پی لیڈر معید خان صرف ایک ریپسٹ نہیں ہے۔ وہ ایک مسلمان، سیکولر، سماج وادی لیڈر اور انڈیا اتحاد کا حصہ ہے، اس لئے وہ بچ سکتا ہے۔ ‘‘
زیادتی کے مقدمے میں بری ہونے کے باوجود معید خان تاحال جیل میں ہیں، کیونکہ ان پر پہلے ہی گینگسٹر ایکٹ کے تحت ایک مقدمہ درج کیا جا چکا تھا، جس کی کارروائی ابھی جاری ہے۔ عدالتی فیصلے کے بعد ایک بار پھر مجرمانہ مقدمات کو سیاسی رنگ دینے، بلڈوزر کے ذریعے انہدام، اور جرم ثابت ہونے سے پہلے غیر معمولی قوانین کے استعمال پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ بری ہونے پر ردِعمل دیتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے سربراہ اکھلیش یادو نے بی جے پی پر سخت حملہ کرتے ہوئے ’بلڈوزر جسٹس‘ پر سوال اٹھایا۔ 

یہ بھی پڑھئے: بارامتی حادثہ: بلیک باکس برآمد، ایجنسیاں جانچ میں مصروف

اکھلیش یادو نے کہا:’’کیا ’امتیازی بی جے پی‘ کے پاس ایسا کوئی بلڈوزر ہے جو لوگوں کے منہدم گھروں کو دوبارہ تعمیر کر سکے اور ان کے سر پر عزت و خودداری کی چھت واپس لا سکے؟‘‘انہوں نے مزید کہا:’’حکمران طاقتیں اپنے خلاف درج مقدمات تو واپس کرا سکتی ہیں، لیکن جو گناہ انہوں نے کئے ہیں وہ اوپر والے کی عدالت میں درج ہو رہے ہیں، وہاں سے وہ کیسے بچیں گے؟‘‘انہوں نے سوال کیا کہ ’’اتنی ناانصافی اور گناہ کرنے کے بعد کوئی کیسے سو سکتا ہے؟‘‘ بی جے پی حکومت کو ناانصافی کی علامت قرار دیتے ہوئے اکھلیش یادو نے کہا:’’بی جے پی کے دور حکومت میں بلڈوزر منفی اور تخریبی ذہنیت کی علامت بن چکا ہے۔ جس طرح بی جے پی کی سیاست ناانصافی کو فروغ دے رہی ہے، اس کی شکست اب صاف نظر آ رہی ہے۔ ‘‘انہوں نے کہا:’’سچ ہر سازش سے بڑا ہوتا ہے۔ ‘‘
’’بلڈوزر جسٹس‘‘ جسے’’بلڈوزر سیاست‘‘ یا تعزیری انہدام بھی کہا جاتا ہے، بی جے پی کی قیادت والی حکومتوں کے تحت ہندوستان میں ایک عام رجحان بن چکا ہے، جہاں حکام جرم کے الزام میں ملوث افراد یا احتجاج میں شامل لوگوں کی جائیدادیں مکمل قانونی عمل کے بغیر، غیر قانونی تجاوزات یا تعمیرات کے بہانے منہدم کر دیتے ہیں۔ یہ عمل خاص طور پر ۲۰۱۷ءسے اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ کی حکومت سے منسوب رہا ہے، لیکن بعد میں مدھیہ پردیش، گجرات، آسام اور دہلی تک پھیل گیا۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ یہ ماورائے عدالت سزا کی ایک شکل ہے اور اس کا نشانہ غیر متناسب طور پر مسلمان اور دیگر حاشیے پر موجود طبقات بنتے ہیں۔ نومبر۲۰۲۵ء میں سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا کہ کسی شخص کے گھر کو محض اس بنیاد پر منہدم کرنا کہ وہ کسی جرم میں مبینہ طور پر ملوث ہے، آئین کے خلاف ہے۔ 

یہ بھی پڑھئے: انکیتا بھنڈاری قتل کی جانچ کو پٹری سے ہٹانے کا الزام

عدالت نے کہا تھا کہ کسی بھی انہدام سے پہلے لازمی طور پر شو کاز نوٹس دینا ہوگا، جو یا تو مقامی بلدیاتی قوانین میں مقررہ مدت کے اندر یا نوٹس کی تعمیل کے۱۵؍ دن کے اندر قابلِ جواب ہونا چاہئے، جو بھی مدت زیادہ ہو۔ تاہم، حقوقِ انسانی کی تنظیموں نے نشاندہی کی ہے کہ بی جے پی کی حکومت والی ریاستوں میں یہ عمل تیزی سے معمول بنتا جا رہا ہے، جہاں حکام اکثر انہدام کو غیر قانونی سرگرمیوں کے الزامات، بشمول مذہبی تبدیلی یا فرقہ وارانہ بدامنی، سے جوڑ دیتے ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کی۲۰۲۴ءکی رپورٹ کے مطابق، اپریل سے جون۲۰۲۲ء کے درمیان پانچ ریاستوں میں حکام نے’سزا‘ کے طور پر انہدام کی کارروائیاں کیں۔ ان میں بی جے پی کی حکومت والی ریاستیں آسام، گجرات، مدھیہ پردیش اور اتر پردیش، جبکہ عام آدمی پارٹی کے زیرِ اقتدار دہلی بھی شامل تھا، اور ان کارروائیوں کا بڑا نشانہ مسلمان بنے۔ 

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK