Updated: January 30, 2026, 1:05 PM IST
| Tal Aviv
اسرائیلی فوج نے پہلی بار غزہ کی وزارتِ صحت کے اعداد و شمار تسلیم کرتے ہوئے اعتراف کیا ہے کہ جنگ کے دوران ۷۱؍ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ یہ تعداد لاپتہ افراد، ملبے تلے دبے شہریوں اور بھوک و بیماری سے ہونے والی اموات کو شامل نہیں کرتی، جس سے اصل ہلاکتیں اس سے کہیں زیادہ ہونے کا خدشہ ہے۔
غزہ جنگ بندی کے بعد ۴۸۸؍ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ تصویر:آئی این این
اسرائیلی قابض افواج نے فلسطین کے غزہ میں قائم وزارتِ صحت کے اس اندازے کو تسلیم کر لیا ہے جس کے مطابق دو سالہ نسل کشی کے دوران تقریباً۷۱؍ ہزار فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ جمعرات کو اسرائیلی اخبار ہاآرتص کی رپورٹ کے مطابق، یہ پہلا موقع ہے کہ اسرائیلی فوج نے وزارتِ صحت کے ان اعداد و شمار کو قبول کیا ہے جنہیں وہ اس سے قبل ’’غیر معتبر‘‘ اور’’گمراہ کن‘‘ قرار دیتی رہی تھی۔ غزہ کی وزارتِ صحت کے مطابق، ۷؍ اکتوبر۲۰۲۳ءسے اسرائیلی نسل کشی کے آغاز کے بعد سے اب تک۷۱؍ ہزار ۶۶۷؍فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔ اسرائیلی قابض افواج نے یہ بھی تسلیم کیا ہے کہ ان اعداد و شمار میں وہ افراد شامل نہیں ہیں جو لاپتہ ہیں اور ممکنہ طور پر ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: امریکہ: پاسپورٹ ماتھے پر چسپاں کرکے ،عوام کا ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف منفرد احتجاج
ہاآرتص کے مطابق:’’آئی ڈی ایف (اسرائیلی فوج) نے حماس کے زیرِ انتظام غزہ کی وزارتِ صحت کے اس اندازے کو تسلیم کر لیا ہے کہ اسرائیل۔ غزہ جنگ کے دوران تقریباً۷۱؍ ہزار فلسطینی مارے گئے، جبکہ یہ تعداد اُن لاپتہ افراد کو شامل نہیں کرتی جو ممکنہ طور پر ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔ ‘‘رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے:’’وزارت کی گنتی میں صرف وہ افراد شامل ہیں جو براہِ راست اسرائیلی فوجی حملوں میں مارے گئے، جبکہ بھوک یا بیماریوں سے مرنے والوں کو اس میں شامل نہیں کیا گیا۔ ‘‘یہ اعداد و شمار، جن کا جائزہ بین الاقوامی تنظیموں اور محققین نے لیا ہے، وسیع پیمانے پر قابلِ اعتماد سمجھے جاتے ہیں۔
کچھ مطالعات، جن میں جون۲۰۲۵ء میں جاری ہونے والی ایک تحقیق بھی شامل ہے، کے مطابق اصل ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے، اور گزشتہ سال کے آغاز تک تقریباً دو لاکھ پرتشدد اموات کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ وزارتِ صحت کے اعداد و شمار محتاط اندازے پر مبنی ہیں اور ان میں وہ افراد شامل نہیں جن کی اموات بھوک یا محاصرے کے نتیجے میں پھیلنے والی بیماریوں سے ہوئیں۔
یہ بھی پڑھئے: غزہ میں مستقل جنگ بندی کیلئے اسرائیل کی مکمل واپسی ضروری ہے: فلسطینی سفیر
اسرائیل کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزیاں
غزہ میں اسرائیلی قتل و غارت کے نتیجے میں ایک لاکھ۷۱؍ ہزار سے زائد افراد زخمی ہو چکے ہیں جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے۔ اسرائیلی قابض افواج نے۹۰؍ فیصد شہری انفراسٹرکچر تباہ کر دیا ہے، جبکہ اقوامِ متحدہ کے مطابق غزہ کی تعمیرِ نو پر ۷؍ ارب ڈالر لاگت آئے گی، جہاں ۲۴؍ لاکھ فلسطینی رہتے ہیں، جن میں ۱۵؍لاکھ بے گھر افراد شامل ہیں۔ جنگ بندی کے باوجود، اسرائیلی افواج خوراک، ادویات اور پناہ گاہوں کیلئے طے شدہ مقدار میں امداد کی رسائی کو مسلسل محدود کر رہی ہیں۔ معاہدے کی روزانہ خلاف ورزیوں کے نتیجے میں ۴۸۸؍ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل بدستور غزہ پر قابض طاقت ہے، کیونکہ وہ فضائی حدود، سمندری راستوں اور تمام زمینی آمدورفت کو کنٹرول کرتا ہے۔ مستقبل کی تعمیرِ نو کے اخراجات عطیہ دہندہ ممالک کیلئے ایک بڑا مسئلہ بنے ہوئے ہیں، جنہوں نے ابھی تک رفح میں منصوبوں کیلئے کوئی مالی طریقہ کار طے نہیں کیا۔ جب شہادتوں کی تعداد۷۱؍ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، تو محصور علاقے میں موجود لاکھوں فلسطینیوں کی انسانی صورتحال بدستور انتہائی تباہ کن بنی ہوئی ہے۔