Inquilab Logo Happiest Places to Work

جے این یو لائبریری کینٹین

Updated: April 06, 2026, 1:53 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | mumbai

سردی کے موسم میں کینٹین سے باہر بیٹھ کر دھوپ میں کھانا اور گفتگو کرنا،کسی بادشاہت سے کم نہیں۔کھانے کے بعد کسی نے کبھی یہ نہیں کہا کہ جگہ خالی کیجیے یا اٹھ جائیے۔زیادہ سے زیادہ یہ پوچھا جاتا ہے کہ کیا یہ کرسی خالی ہے۔کل دھوپ اتنی تیز نہیں تھی کہ باہر نہ بیٹھا جا سکے۔میں نے یہاں سے لائبریری کی پانچویں منزل کو دیکھنے کی کوشش کی جس کے گوشے میں بیٹھ کر کبھی میں پڑھا کرتا تھا۔

INN
آئی این این
آج جے این یو جانے کا پہلے سے ارادہ نہیں  تھا۔یوں  بھی وہاں  اتنا وقت گزرا ہے کہ جانے کے لئے کسی ارادے کی ضرورت نہیں  ۔ جب چل پڑے وہی ارادہ بھی ہے اور وقت بھی۔یہ اطمینان رہتا ہے کہ کوئی ملے یا نہ ملے لائبریری اور لائبریری کینٹین تو ہے۔دونوں  کے درمیان چندقدموں  کا فاصلہ ہے۔ایک معنی میں  لائبریری کینٹین بھی لائبریری کی مانند ہے۔دنیا کی بہت کم ایسی لائبریری کینٹین ہوں  گی جو علمی اور تہذیبی زندگی کی پہچان بن گئی ہوں ۔ طلبہ اور اساتذہ کو ایک ساتھ کھاتے ہوئے اور گفتگو کرتے ہوئے دیکھنا مسرت اور حیرت بھرا تجربہ تھا۔نہ کوئی شور نہ ہنگامہ۔ دھیرے دھیرے باتیں  کرنا اور تیز تیز کھانا،یہ بھی ایک تجربہ تھا۔ ۱۹۸۷ء  سے یہ کینٹین چلی آ رہی ہے۔گوپالن جی اس کے کرتا دھرتا ہیں ۔ اب ان کی صحت پہلے جیسی نہیں  رہ گئی ہے اس لئے ان کے بیٹے اجے نے لائبریری کینٹین کی پوری طرح ذمہ داری سنبھال لی ہے۔باپ اور بیٹے دونوں  نہایت ہی خلیق اور ملنسار ہیں ۔ایسی شرافت اب رخصت ہوتی جا رہی ہے۔ بات کیجئے تو ہونٹوں  پر مسکراہٹ پھیل جائے گی۔ کیا کھائیے گا؟کیسے ہیں ؟ یہاں  اساتذہ اور طلباء نے ہمیشہ یہ محسوس کیا ہے کہ جیسے اپنے گھر آئے ہوں ۔
سردی کے موسم میں  کینٹین سے باہر بیٹھ کر دھوپ میں  کھانا اور گفتگو کرنا،کسی بادشاہت سے کم نہیں ۔ کھانے کے بعد کسی نے کبھی یہ نہیں  کہا کہ جگہ خالی کیجیے یا اٹھ جائیے۔زیادہ سے زیادہ یہ پوچھا جاتا ہے کہ کیا یہ کرسی خالی ہے۔ کل دھوپ اتنی تیز نہیں  تھی کہ باہر نہ بیٹھا جا سکے۔میں  نے یہاں  سے لائبریری کی پانچویں  منزل کو دیکھنے کی کوشش کی جس کے گوشے میں  بیٹھ کر کبھی مَیں  پڑھا کرتا تھا۔پہلے کینٹین سے پانچویں  منزل دکھائی دیتی تھی اور وہ پڑھائی کا کونا بھی۔ اب اس کے سامنے  ایک دو درخت ہیں  جو اُن دنوں  لگائے گئے تھے۔ اب یہ کافی بڑے ہو گئے ہیں  اور ان کی بڑائی کے ساتھ وہ مقام بھی  نگاہ سے اوجھل ہو گیا ہے۔ بہت غور سے دیکھنے کے بعد پتوں  کے درمیان سے منزل دکھائی دیتی ہے کہ جیسے پتے یہ کہہ رہے ہوں کہ جو چیز جتنی نزدیک ہوتی ہے اتنی کم دکھائی دیتی ہے۔اب ذرا مجھے فاصلے سے دیکھو۔ یہ کونہ ایک ایسی جگہ پر تھا جہاں  سے باہر کی دنیا دور تک دیکھی جا سکتی تھی۔ مَیں  نے پہلی مرتبہ وہیں  سے قطب مینار کو دیکھا تھا۔قطب مینار دور تھا مگر وہ بہت نزدیک معلوم ہوا۔ان دنوں  چند نوجوانوں  نے کوشش کی تھی کہ کیمپس کے جنگلوں  سے گزرتے ہوئے قطب مینار تک پہنچا جائے۔اور وہ اپنے مقصد میں  کامیاب ہوئے۔پانچویں  منزل پر چھوٹی سی کھڑکی تھی جس میں  شیشہ لگا ہوا تھا اور وہ کنارے سے کچھ ٹوٹ گیا تھا یا اس کی مرمت کر دی گئی تھی یا اسے تبدیل کر دیا گیا تھا۔تیز ہوا چلتی تو خوف ہوتا تھا کہ کہیں  شیشہ ٹوٹ نہ جائے مگر اتنی بلندی تک تیز ہوا کم کم آتی تھی۔دل کے ٹوٹنے کا سلسلہ ابھی شروع ہی کہاں  ہوا تھا۔ شیشے پر دھول آگئی تھی، اور ابھی دل کے غبار کا خیال نہیں  آیا تھا۔مگر اتنی سمجھ تو تھی کہ شیشے کو صاف کر دینا چاہئے یا شیشے کو صاف ہونا چاہئے۔  
لائبریری کینٹین کے سامنے ایک جنگل ہے جس میں  کئی  ایسے  درخت ہیں  جن پر لال پیلے اور سفید پھول کھلتے ہیں ۔ ان کے کھلنےکا موسم ایک ہی ہے یا الگ الگ اس پر ان دنوں  غور نہیں  کیا تھا۔ اس دور میں  سارے موسم ایک جیسے تھے یا ایک جیسے معلوم ہوتے تھے ۔ لائبریری کینٹین کے سامنے جو پتھر تھے وہ بدستور موجود ہیں ۔بلکہ یہاں  پتھروں  کو کوئی بڑا خطرہ نہیں  ہے درختوں  کے مقابلے میں ۔  اگرچہ یہاں  درخت کم کاٹے گئے۔ ٹہنیوں  کو بھی لوگوں  نے توڑنے کی کوشش نہیں  کی۔ مور بدستور بے فکری کے عالم میں  گھومتے دکھائی دیتے ہیں ۔ ان کا رقص بھی اپنے وقت کے ساتھ جاری رہتا ہے۔ نیل گائیں  بڑی تعداد میں  موجود ہیں  اور وہ بھی اطمینان سے گھومتی ہوئی نظر آتی  ہیں ۔ کسی کو کسی سے کوئی خطرہ نہیں  ہے۔ان جانوروں  بلکہ پرندوں  کو بھی یہاں  دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ انسانی معاشرے میں  انہیں  کس قدر بے فکری اور توانائی حاصل ہے۔ 
 
 
درخت ،جانور اور پرندے ان سب کو ملا کر فطرت کی جو فضا قائم ہوتی ہے اسی سے انسانی معاشرے کی یکجائی اور وحدت کا تصور بھی ابھرتا ہے۔لائبریری کینٹین بھی لسانی اور ثقافتی یکجائی کا ایک نمونہ ہے۔ کافی ہائوس اور کافی ہوم کے نام سے دانشورانہ زندگی کا تصور وابستہ رہاہے ۔مگر اب پہلے کی طرح کافی ہاؤس اور کافی ہوم باقی نہیں  رہے۔ یہ کینٹین کافی ہاؤس اور کافی ہوم کی دانشورانہ زندگی کو ایک زمینی سطح بھی فراہم کرتی ہے اسی لئے  یہاں  بیٹھ کر کھاتے پیتے ہوئے گفتگو کرنا، فطرت اور ثقافت سے قریب ہو جانا بھی ہے۔
مجھ جیسے بہت سے طالب علموں  نے یہاں  خاموشی اور گویائی دونوں  کی تہذیب سیکھی ا ور  دیکھی  ہے۔بولتے بولتے خاموش ہو جانا بظاہر خاموشی تھی۔کسی کی گویائی میں  ہماری خاموشی بھی شامل تھی۔سبھی ایک دوسرے کا خیال رکھتے تھے اور اگر کبھی کسی بات پر زور دینا  ہوتا تو فطری طور پر آواز اور لہجہ بدل جاتا۔لائبریری سے قریب کوئی بھی کینٹین اپنے علمی اور تہذیبی تشخص کو برقرار رکھنے میں  کامیاب ہو جاتی ہے لیکن درختوں  اور پرندوں  کے درمیان خاموشی اور گویائی دونوں  کا اپنا ایک حسن ہے۔ جب کوئی نہیں  کچھ کہہ رہا ہوتا ہے تو پرندوں  کی آوازیں  سنائی دیتی ہیں ۔مور کی آواز بلبل کی آواز تو نہیں ،مگر مور کی آواز سے بھی وقت کے ساتھ شناسائی بڑھتی چلی گئی۔ پرندوں  کی جتنی قسمیں  یہاں  پائی جاتی ہیں ،انہوں  نے اپنی آوازوں  کے ساتھ،کچھ قربت کا احساس کیا ہوگا۔کینٹین صبح سے شام تک  ایک ایسی زندگی کا نمونہ بنی رہی ہے جو  مشکل سے کہیں  مل سکتی ہے۔ سب سے بڑی بات دوسروں  کا خیال رکھنا ہے۔تھوڑا وقت ضرور لگتا تھا،مگر ہم اس تہذیب کو پا لیتے تھے جس نے کئی برسوں  تک ہمیں  کچھ اس طرح اپنی خوشبو میں  شرابور رکھا،کہ جیسے اس دولت کو نہ صرف بچانا ہے بلکہ خرچ بھی کرنا ہے۔
انسانی زندگی کی قدر وہ دولت ہے جو خرچ کرنے سے اور بڑھتی ہے۔ جے این یو کینٹین میں  کھانے کی تہذیب دراصل گفتگو کی تہذیب تھی اور اظہار خیال کی بھی ۔  اختلاف رائے میں  بھی ایک رخ رکھ رکھاؤ تھا۔ گفتگو ہاسٹل کے ڈائننگ ہال میں  بھی ہوتی تھی مگر کینٹین میں  کسی مسئلے پر گفتگو کرنے کا اپنا ہی ایک لطف اور جلوہ تھا۔ وہ باتیں  جو کینٹین کے تعلق سے میرے حافظے کا حصہ ہیں ،انہی سے میرا ماضی بھی روشن ہے اورحال بھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK