دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس پروشیندر کمار کورو نے پیر کو ایکس اکاؤنٹس ”ڈاکٹر نیمو یادو“ اور ”نہر ہو“ کو بحال کرنے کا فیصلہ سنایا۔ تاہم حکومت کے بلاکنگ آرڈر میں قابلِ اعتراض قرار دی گئی مخصوص پوسٹس تک رسائی بدستور محدود رہے گی۔
EPAPER
Updated: April 06, 2026, 9:57 PM IST | New Delhi
دہلی ہائی کورٹ کے جسٹس پروشیندر کمار کورو نے پیر کو ایکس اکاؤنٹس ”ڈاکٹر نیمو یادو“ اور ”نہر ہو“ کو بحال کرنے کا فیصلہ سنایا۔ تاہم حکومت کے بلاکنگ آرڈر میں قابلِ اعتراض قرار دی گئی مخصوص پوسٹس تک رسائی بدستور محدود رہے گی۔
دہلی ہائی کورٹ نے طنز و مزاح پر مبنی پوسٹس کرنے والے دو سوشل میڈیا اکاؤنٹس کو بحال کرنے کا حکم جاری کیا ہے، جنہیں آئی ٹی ایکٹ کے تحت مرکزی حکومت کے احکامات پر ہندوستان میں بلاک کردیا گیا تھا۔ جسٹس پروشیندر کمار کورو نے پیر کو ایکس اکاؤنٹس ”ڈاکٹر نیمو یادو“ اور ”نہر ہو“ کو بحال کرنے کا فیصلہ سنایا۔ تاہم حکومت کے بلاکنگ آرڈر میں قابلِ اعتراض قرار دی گئی مخصوص پوسٹس تک رسائی بدستور محدود رہے گی۔
عدالت کا یہ فیصلہ ان دونوں اکاؤنٹس کے ۱۸ مارچ سے بلاک رہنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ اکاؤنٹس کے ایڈمن پرتیک شرما اور کمار نین کو وزارتِ الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی ایک جائزہ کمیٹی کے سامنے پیش ہونے کیلئے کہا گیا ہے۔ یہ کمیٹی اس بات کا تعین کرے گی کہ آیا قابلِ اعتراض قرار دی گئی پوسٹس کو آئی ٹی ایکٹ ۲۰۰۰ء کی دفعہ ۶۹(الف) کے تحت بدستور محدود رکھا جانا چاہئے یا نہیں۔ دفعہ ۶۹(الف) کے تحت، مرکزی حکومت کو اختیار حاصل ہے کہ وہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز سمیت دیگر انٹرمیڈیریز کو ایسا آن لائن مواد بلاک کرنے کی ہدایت دے سکے جسے قومی سلامتی، خودمختاری یا امنِ عامہ کیلئے خطرہ سمجھا جائے۔
یاد رہے کہ ۱۸ مارچ کو جاری کردہ بلاکنگ آرڈر میں ۱۲ اکاؤنٹس کو نشانہ بنایا گیا تھا، جن میں ”مسٹر جیٹھوانی“ اور ”ڈاک آر جی ایم“ جیسے کئی نمایاں ہینڈلز شامل تھے۔ معروف صحافی اور کارکن سندیپ سنگھ کا اکاؤنٹ بھی بلاک کر دیا گیا تھا۔ اس آرڈر کے ذریعے، ’دی کاروان‘ میگزین کے ایک پوسٹ کو بھی بلاک کیا گیا تھا، جس میں ۲۰۲۲ء کے ایک مضمون کی تشہیر کی گئی تھی۔ اس مضمون میں ۲۰۰۲ء کے میگزین کور کو دکھایا گیا تھا جس میں نریندر مودی (جو اس وقت گجرات کے وزیر اعلیٰ تھے) کو ”نفرت کا ہیرو“ (Hero of Hatred) کی سرخی کے ساتھ دکھایا گیا تھا۔
مرکزی حکومت نے عدالت کے سامنے اپنے دلائل میں کہا کہ یہ اکاؤنٹس وزیراعظم سے متعلق ”جھوٹے بیانیے“ پھیلا رہے تھے اور انہیں بدنام کرنے کیلئے توڑ مروڑ کر پیش کی گئی تصاویر، ویڈیوز اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تیار کردہ مواد کا استعمال کر رہے تھے۔ حکومت کا موقف تھا کہ ایسا مواد امنِ عامہ کو متاثر کر سکتا ہے اور اندرونی سلامتی کیلئے خدشات پیدا کرسکتا ہے۔ دوسری طرف، ایکس نے بلاکنگ آرڈر پر اعتراض جتاتے ہوئے کہا کہ یہ اکاؤنٹ ہولڈرز کے حقوق کو ”حد سے زیادہ اور غیر متناسب طور پر محدود“ کرتا ہے۔ پلیٹ فارم نے یہ بھی کہا کہ ۱۸ مارچ کا حکم دفعہ دفعہ ۶۹(الف) کے تحت حکومتی طریقہ کار کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتا۔
ہائی کورٹ نے مخصوص پوسٹس پر حتمی فیصلہ آن لائن مواد کے ضابطوں کے قانونی فریم ورک کے مطابق جائزہ کمیٹی پر چھوڑ دیا ہے۔