جے این یو کی شہرت بہت ہے مگر کم لوگ جانتے ہیں کہ جے این یو علمی اور تعلیمی رنگا رنگی کیلئے ہی نہیں، دانشورانہ مباحث کیلئے بھی مشہور ہے اور یہی وجہ ہے یہاں سے فارغ ہونے کے باوجود یہاں کے طلبہ ذہنی طور پر اپنی مادر علمی سے کبھی جدا نہیں ہوتے۔
ہندوستانی زبانوں کے مرکز کا قیام ۲۹؍ اکتوبر ۱۹۷۴ءکو عمل میں آیا تھا۔ ملک کے پہلے وزیراعظم جواہر لال نہرو کے نام پر۱۹۶۹ء میں قائم ہونے والی یونیورسٹی اپنی ایک الگ شناخت رکھتی ہے۔ ہندوستانی زبانوں کا مرکز کئی اعتبار سے جے این یو کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس مرکز کے قیام کو ۵۰؍ سال ہو گئے۔ بارہ تیرہ چودہ فروری کو مرکز نے اپنے اس نصف صدی کے سفر کا جشن منایا۔ ملک بھر سے لوگ آئے۔ اس مرکز سے وابستہ طالب علم اب ملک کے مختلف تعلیمی، تدریسی، صحافتی اور دوسرے شعبوں سے وابستہ ہیں ۔ مجھے بھی اس جشن میں شریک ہونے کا موقع ملا۔ جن لوگوں کے نام سنتے تھے انہیں بھی دیکھنے کی تمنا پوری ہوئی اور وہ طالب علم جو ہمارے جونیئر، کچھ سینئراور ہم جماعت تھے انہیں بھی ایک عرصے کے بعد دیکھتے ہوئے خوشگوار مسرت اور حیرت کا احساس ہوا۔ میں یہاں ۱۹۹۶ء سے ۲۰۰۵ء تک رہا۔۲۵؍ سال ہو گئے یونیورسٹی سے نکلے ہوئے۔ جامعہ آنے کے بعد جے این یو سے قربت کا احساس کم ہونے کے بجائے اور بڑھتا گیا۔ شام ہوتی تو ایسا محسوس ہوتا کہ جیسے کوئی کھینچے لئے جا رہا ہے۔ یہ کیفیت برسوں قائم رہی اور اب بھی کسی نہ کسی طور پر موجود ہے۔ دہلی میں ہونے کے باوجود جے این یو کی طرف جانا ہمیشہ ہر شخص کیلئے ممکن نہیں ۔ اسی لیے یہ دیکھ کر کچھ حیرت بھی ہوتی ہے کہ جب دہلی میں موجود ہیں تو جے این یو کی طرف نہیں جانے یا کم جانے کا جواز کیا ہے۔ اصغر گونڈوی کا شعر یاد آتا ہے۔
نہ میں دیوانہ ہوں اصغر نہ مجھ کو ذوق عریانی
کوئی کھینچے لیے جاتا ہے خود چاک گریباں کو
کسی یونیورسٹی کے شعبے کا قیام جن تصورات کے تحت عمل میں آتا ہے، ان کی طرف سے توجہ شعوری طور پر ہٹتی نہیں ہے۔ حالات کے ہاتھوں ہم مجبور ہو جاتے ہیں یا مجبور کر دیئے جاتے ہیں کہ تصورات کو تصورات ہی رہنے دیا جائے اور کچھ ایسی تبدیلیاں رونما ہو جائیں جن سے بدلے ہوئے وقت کا احساس ہو۔ کبھی اقدار اور تصورات سے ہماری وابستگی اس لیے کم ہو جاتی ہے کہ ہمیں زمانے کے ساتھ چلنا ہوتا ہے۔ کبھی زمانے کے ساتھ چلنے کے باوجود اقدار اور تصورات کا دامن ہاتھ سے چھوٹتا نہیں ہے۔
اس جشن کے موقع پر جو تقریریں اور گفتگو ہوئی، ان سے روشنی بھی ملی اور یہ احساس بھی ہوا کہ ہم نے کیا کھویا اور کیا پایا ہے۔ اپنی مادر علمی سے محبت کا مطلب گزرے ہوئے وقت پر آنسو بہانا تو نہیں ہے لیکن آنسو نکل اتے ہیں ۔ وہی زمین اور وہی پتھر ہے جن پر چلتے ہوئے زندگی، زمانہ اور ادب کا شعور حاصل ہوا تھا۔ یہ کھردرا راستہ آج کی طرح ہموار نہیں تھا۔ ہم گرتے گرتے سنبھل جاتے تھے جیسے کوئی درخت پہ بیٹھا ہوا پرندہ آواز دے رہا ہو کہ گرنا نہیں ہے اور گر کر سنبھل جانا ہے۔ یہاں پہلے درخت بہت تھے اب بھی ہیں مگر گھنے جنگلوں سے گزرنے کا احساس اب کچھ کم کم ہوتا ہے۔
ہندوستانی زبانوں کے مرکز کو قائم کرنے والوں میں نامور سنگھ، محمد حسن اور صدیق الرحمان قدوائی کے نام شامل ہیں ۔ جشن کا ایک سیشن ان اساتذہ پر مشتمل تھا جو سبکدوش ہو چکے ہیں ۔ اس سیشن میں پروفیسر صدیق الرحمان قدوائی کی موجودگی بہت تاریخی بھی تھی اور حوصلہ افزا بھی۔ ان کے علاوہ اب کوئی سینٹر کا بنیاد گزار بقیدِ حیات نہیں ۔ قدوائی صاحب نے اپنے گزرے ہوئے دنوں کو یاد کرتے ہوئے، جذباتی رویہ اختیار کرنے کے بجائے زندگی اور زمانے کے تسلسل کی طرف اشارہ کیا۔البتہ نامور سنگھ، کیدار ناتھ سنگھ، محمد حسن اور منیجر پانڈے کو یاد کرتے ہوئے انہیں ہندوستانی زبانوں کے مرکز کا ماضی بھی بتایا، حال بھی اور مستقبل بھی۔انہوں نے جے این یو کی علمی اور ثقافتی زندگی کے تعلق سے کئی اہم واقعات سنائے۔ سینٹر آف انڈین لینگویجز میں اردو کے طالب علموں کیلئے ہندی اور ہندی کے طالب علموں کیلئے اردو کو ایک سبجیکٹ کے طور پر پڑھنا ضروری تھا۔ مجھے یاد ہے ان دنوں اردو اور ہندی کے طالب علم رسم الخط کے فرق کے باوجود دونوں زبانوں کو ایک ساتھ دیکھتے اور محسوس کرتے تھے۔ ایک سیشن میں مجھے بھی کچھ کہنا تھا۔ میں نے گفتگو کا آغاز اس سچائی کے ساتھ کیا کہ اردو اور ہندی دونوں زبانوں کو ایک ساتھ پڑھنے کا مقصد ابھی پورا نہیں ہوا۔ اب تو وقت بہت گزر چکا ہے جو وقت ہمیں ملا تھا وہ بھی شاید دونوں زبانوں کے تعلق سے کسی بڑی تعمیری کوشش کے بغیر رخصت ہو گیا۔ یہ اور بات ہے کہ اردو اور ہندی کے تعلق سے طلبہ کا ذہن کشادہ ہوتا رہا اور عملی سطح پر کچھ تعمیری مثالیں بھی سامنے آئیں ۔ دوسری سچائی کا تعلق تقرری سے ہے۔ ان بزرگوں نے اپنے اپنے وقت میں ہندوستان بھر سے ایسے لوگوں کو سینٹر میں لانے کی کوشش کی جن سے سینٹر کی علمی اور ادبی فضا روشن بھی ہوئی اور معیاری بھی۔ مجھے جو اساتذہ ملے ان سب کیلئے تدریس عبادت تھی۔ پڑھانے کیلئے پڑھتے تھے اور خوف پیدا نہیں کرتے تھے۔ میں نے اس خیال کا بھی اظہار کیا کہ ہمارے اساتذہ کے پاس وقت بہت تھا انہیں نہ زیادہ سفر کرنا تھا، اور نہ انعام و اکرام کیلئے کسی چکر میں پڑنا تھا۔
سینٹر آف انڈین لینگویجز کی عمارت جب پہلی مرتبہ دکھائی دی تو اس کی دیواریں اپنے پوسٹرز کے ساتھ دیوار کا کوئی اور تصور پیش کر رہی تھی۔ اینٹیں سرخ تھیں ، اور باہر کی دیواروں پر پلاسٹر نہیں تھا۔ یہ اینٹیں کھلی ہوئی تھیں اور دروازے کے سامنے مختلف نعروں ، تصویروں اور تحریروں کے ساتھ کچھ اس طرح دکھائی دیتیں کہ جیسے کاغذات لباس کی طرح ہوں ۔ دیواروں پر ان پوسٹرز کو غور سے دیکھنا معمول بن گیا تھا۔ نگاہ ان کالے اور سرخ الفاظ اور تصاویر کے ساتھ کلاس روم کی طرف جاتی تھی۔ کبھی نگاہ وہیں ٹھہر جاتی اور محسوس ہوتا ہے کہ جیسے باہر اور اندر کی دنیا ایک دوسرے سے الگ بھی ہے اور نہیں بھی۔ جن درختوں کو ۹۶ء میں بہت چھوٹا دیکھا تھا، وہ دو دہائیوں کے بعد بہت بڑے اور توانا ہو گئے۔ ان درختوں کی نشوونما کے ساتھ ہمارے ذہن کی نشوونما بھی ہوئی۔ درختوں کی جڑیں کتنی دور تک گئی ہیں یہ کس کو معلوم ہے۔ بس اتنا معلوم ہے کہ فطرت اپنا سفر جاری رکھتی ہے اور ہماری اپنی فطرت بھی اس فطرت سے رشتہ قائم کر لیتی ہے۔ سینٹر آف انڈین لینگویجز کے اندر داخل ہونے سے پہلے بس تین یا چار سیڑھیاں ہیں ، انہیں سیڑھی کہنے کے بجائے قدم رکھنے کی جگہ کہنا چاہیے۔ ان کا فاصلہ بہت زیادہ نہیں ہے لیکن ایک مرتبہ پاؤں پھسل گیا تھا اور ڈھلان کا احساس ہوا۔ ذہن فعال تھا لیکن خشک مقام سے پھسلنے کا یہ تجربہ بہت مختلف تھا۔