زخمی عضو کا علاج کر لینے سے زخم بھر جاتا ہے لیکن زخمی روح کا کیا جائے جس کا گھاؤ نظر تو نہیں آتا لیکن آہستہ آہستہ ایک ناسور کی شکل اختیار کرلیتا ہے.... جس کی جکڑ میں دل، دماغ، روح سب آتے ہیں.... کیا موت ہی اس کا واحد علاج، نہیں....!
EPAPER
Updated: February 16, 2026, 3:23 PM IST | Khan Shabnam Bint e Farooque | Mumbai
زخمی عضو کا علاج کر لینے سے زخم بھر جاتا ہے لیکن زخمی روح کا کیا جائے جس کا گھاؤ نظر تو نہیں آتا لیکن آہستہ آہستہ ایک ناسور کی شکل اختیار کرلیتا ہے.... جس کی جکڑ میں دل، دماغ، روح سب آتے ہیں.... کیا موت ہی اس کا واحد علاج، نہیں....!
زخمی عضو کا علاج کر لینے سے زخم بھر جاتا ہے لیکن زخمی روح کا کیا جائے جس کا گھاؤ نظر تو نہیں آتا لیکن آہستہ آہستہ ایک ناسور کی شکل اختیار کرلیتا ہے.... جس کی جکڑ میں دل، دماغ، روح سب آتے ہیں.... کیا موت ہی اس کا واحد علاج، نہیں....!
عزیزم.... تم کن اداس روحوں کی کتاب کے مطالعہ میں غوطہ خوری کررہی ہو....
یارا.... اتنی اداس باتیں مجھ سے تو نہ کیا کر.... میرا نازک سا دل ہے.... یہ ان سب باتوں کو ہضم نہیں کر پاتا....
دل اور ہضم ویسے یہ نکتہ کس سائنسداں نے ایجاد کیا.... ارحہ بے ساختہ مسکرادی۔
مس فارحہ بنت عبد المنان نے.... فارحہ نے فخریہ سر کو اونچا کرکے ان دیکھے کالر جھاڑے۔
ارحہ کے اداس چہرے پر مسکراہٹ پھیل گئی.... لیکن اداسی اس قدر حاوی تھی مسکراہٹ زیادہ دیر ٹھہر نہ سکی....
فارحہ کیا زندگی واقعی اتنی تلخ ہے یا میرے ساتھ اس نے تلخی کا وعدہ کر رکھا ہے....
میری پیاری ارحہ زندگی تضاد کیفیت کا نام ہے.... کہیں خوبصورتی سے بھرپور تو کہیں بدصورتی کا پیکر.... کہیں چٹان سے بھی زیادہ سخت تو کہیں روئی کے گالوں سے بھی نرم.... کہیں زندگی مہربان ہی مہربان ہے کہیں اتنی ظالم کے انسان کا لہو پی کر بھی اس کا ظلم ختم نہیں ہوتا....
فارحہ.... جب مما اور بابا سے پیار
نہیں ملا تو میں باہر کی دنیا میں کھو گئی ہر ایک سے میری انسیت بڑھتے گئی....
پھر....
اس کی آنکھیں روشن تھی لیکن ویران آنکھوں کی روشنی وحشت زدہ ہوتی ہے....
ارحہ اس کی آنکھوں کو دیکھ کر آسمان کی جانب دیکھ نے لگی....
اے رب یہ آسمان سب کے لئے یکساں کیوں نہیں ہے....
پھر.... فارحہ نے ایک گہری سانس لی....
پھر.... میری زندگی گناہوں کے دلدل میں جا پھنسی... جس نے جیسا چاہا ویسا استعمال کیا میرا...
جب میں ان لمس کو محسوس کرتی ہوں مجھے خود سے کراہیت محسوس ہونے لگتی ہے....
لیکن.... آج!
آج تم اس دلدل سے نکل آئی ہو.... اور بالکل پاک دامن بیٹھی ہو.... ارحہ نے اس کی کلائی پر اپنی گرفت مضبوط کرکے اسے گلے سے لگایا....
(اور جہاں ایک بوسہ.... گلے ملنا اور خاموشی کی ضرورت ہو وہاں کبھی بھی نصیحتیں نہیں جھاڑی جاتیں.... گناہ نہیں یاد دلائے جاتے.... جب اس پاک رب نے تائب کو پسند فرمایا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں کسی کی زندگی کو ’جج‘ کرنے والے.... اور اس کے ماضی کے گناہ بار بار دہرانے والے)
یہ بھی پڑھئے: افسانہ: احساس نامہ
لیکن... اسکے درمیان کا وقت ہی سب سے بڑی آزمائش ہے... کب کہا کون سی تکلیف ایمان چھین لے... کب ہم اللہ سے بد گمان ہوجائے... کچھ نہیں کہہ سکتے.... لیکن ان سب حالات میں ثابت قدم رہنا... یہ ہی سب سے بڑی فتح ہے... جب آپ گناہوں سے لتھڑے وجود کے ساتھ قدم بہ قدم اللہ کے پاس جاتے ہو تو بے ہنگم شور آپ کے وجود کو جکڑے ہوئے ہوتا ہے.... قدم زنجیر پا محسوس ہوتے ہیں.... یوں لگتا ہے پورا جسم کسی ان دیکھی آہنی زنجیروں سے جکڑ دیا گیا ہو...
لیکن اگر ہم ایک قدم ہمت سے آگے بڑھا دے تو اللہ دس قدم بڑھ کر ہمارے گناہوں سے لتھڑے وجود کو تھام لیتا ہے....
(یقیناً اللہ تمام گناہوں کو معاف کر دیتا ہے)
یہ بہت تکلیف دہ تھا.... بہت تکلیف دہ.... فارحہ کی آواز لرزنے لگی....
ارحہ نے اسے رونے دیا.... آنسو کے بہہ جانے سے بھی اندر کا حبس کم ہوجاتا ہے....
ایک گہری لمبی سانس لے کر فارحہ نے خود کو نارمل کرنے کی کوشش کی.... اور پھر ارحہ سے مخاطب ہوئی....
ارحہ.... مَیں تمہیں یہ اس لئے یاد دلاتی ہوں کہ وقت یکساں نہیں رہتا.... کل اگر مَیں بھٹک گئی تھی تو آج راہ منزل پر ہوں....
میری جان تم تو بہت صابر ہو.... یقیناً جس رب نے مجھے بدلا ہے وہ تمہارے حالات بدلنے پر بھی قادر ہے.... بس حوصلہ رکھو....
ہم دونوں کے حالات یقیناً یکساں نہیں لیکن ہمارا اللہ تو ایک ہیں نا.... وہ یقیناً ان حالات کو اچھے حالات سے بدل دے گا....
(بیشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے)