• Wed, 04 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے

Updated: February 04, 2026, 1:36 PM IST | Pervez Hafeez | mumbai

یوجی سی نے اعلیٰ تعلیمی اداروں میں ذات پات پر ہونے والی تفریق کو ختم کرنے کیلئے نئے ضابطوں کا اعلان کیا تواعلیٰ ذات کے لوگوں نے اس کے خلاف ہنگامہ کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے اسٹے حاصل کرلیا ہے جبکہ اگر اقلیتیں اپنے حق کیلئے آواز بلند کرتی ہیں تو کورٹ میں شنوائی تو دور، انہیں غدار تک کہہ دیا جاتا ہے

INN
آئی این این
پچھلے ہفتے جب اونچی ذات کے ہندوؤں  نے نریندر مودی سرکار کے خلاف سوشل میڈیا پر محاذ آرائی شروع کردی اور چند شہروں  میں  کچھ ناراض لوگ نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں  پر اتر آئے تو اس انہونی پرمودی جی کو حیرت بھی ہوئی ہوگی اورپریشانی بھی۔یونیورسٹی گرانٹس کمیشن نے اعلیٰ تعلیمی اداروں  میں  ذات پات کے نام پر کئے جانے والے بھید بھاؤ کو ختم کرنے اور اسٹوڈنٹ برادری کے مابین مساوات قائم کرنے کے لئے نئے ضابطوں  کا اعلان کیا کردیا،اونچی ذات والے ہندو آپے سے باہر ہوگئے۔ماضی میں  جب سرکار ی جبر کے خلاف سماج کے دیگر طبقے احتجاج کرتے تھے تو وہ غدار ٹھہرائے جاتے تھے اور انہیں  پاکستان جانے کا مشورہ دیا جاتا تھا۔ آج جب ان کا اپنا نمبر آیاتو انہوں  نے آسمان سر پر اٹھا لیا۔
 اس پوری صورتحال کو دیکھ کر میرے ذہن میں  منفرد لہجہ کے شاعراحمد سلمان کا یہ مصرع آگیا:
جو ہم پہ گزرے تھے رنج سارے جو خود پہ گزرے تو لوگ سمجھے
جب اقلیتوں ، دلتوں  اور ملک کے دبے کچلے لوگوں  کوستایا جائے،جب انہیں  ہندوتوا بریگیڈ کے چھاپہ مار بھی مشق ستم بنائیں  اور متعصب حکومت بھی، جب ان کی زندگیاں  عذاب بنانے کے لئے نئے نئے غیر جمہوری قوانین نافذ کئے جائیں  اور ان قوانین کے خلاف انہیں  احتجاج کرنے کی اجازت بھی نہ ہوتو کسی کو کوئی فرق نہیں  پڑتا ہے۔ مظلومین کا ساتھ دینے یا کم از کم ان سے ہمدردی کے دو بول بولنے کے بجائے سماج کا ایک طبقہ ان پر ڈھائے جانے والے مظالم کو نہ صرف جائز قرار دیتا بلکہ ان کی بربادیوں  کا جشن بھی مناتا ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جو بی جے پی کا سب سے زیادہ وفاداراور حامی اور نریندر مودی کا سب سے بڑا مداح اور عقیدت مند ہے۔ یہی وہ طبقہ ہے جس کی نگاہ میں  ۲۰۱۴ء میں  مودی جی کے اقتدار میں  آنے سے قبل بھارت میں  ہندوؤں  کے ساتھ زیادتیاں  اور ناانصافیاں  ہوتی تھیں  اور  مسلمانوں  اور دلتوں  کی منہ بھرائی کی جاتی تھی۔ یہی وہ طبقہ ہے جو بی جے پی کے سوا باقی تمام سیکولر پارٹیوں  کو ہندوؤں  کا دشمن سمجھتا ہے کیونکہ یہ پارٹیاں  دلتوں ، قبائلیوں  اور دیگر پسماندہ طبقے کے شہریوں  کو مساوی حقوق اور انصاف دینے کی بات کرتی ہیں ۔ اور یہی وہ طبقہ ہے جومودی سرکار کے کسی فیصلے کے خلاف آواز اٹھانے والے امن پسند شہریوں  کو سماج دشمن بلکہ دیش دروہی قرار دیتا رہا ہے۔ برہمن، راجپوت اور بنیا جیسی اونچی ذات کے ہندوؤں  پر مشتمل یہ طبقہ خود کو سورن یا اشرافیہ کہتا ہے۔ملک کی آبادی میں  ان اونچی ذات کے باشندوں  کا تناسب ۱۵؍ فیصد سے زیادہ نہیں  ہے تاہم یہ لوگ ملک کے سب سے بااختیارشہری ہیں ۔ یہ سناتن دھرم کے خود ساختہ محافظ ہیں ۔ ایودھیا میں  رام مندر کی تعمیر کروانے کی وجہ سے مودی جی ان کی نظروں  میں  ایک عظیم ہیرو بلکہ مہاپرش بن گئے ہیں  اوران لوگوں  کو یہ پورا یقین ہے کہ مودی جی  کے ہاتھوں  ہی سیکولر انڈیا ہندو راشٹر میں  تبدیل ہوگا۔ملک کی آبادی میں  عددی اعتبار سے کم ہونے کے باوجود ان کا سرکاری شعبوں  کے تمام اہم عہدوں  پر پوری طرح غلبہ ہے۔ ملک کی سیاست اور معیشت دونوں  انہی مٹھی بھر لوگوں  کے اشاروں  پر چلتی ہیں ۔
جب متنازع زرعی قوانین کسانوں  کو خون کے آنسو رلارہے تھے تو یہ اشرافیہ تالیاں  بجارہی تھی۔ جب سی اے اے ملک کی بیس کروڑ اقلیتوں  کو خوف وہراس میں  مبتلا کررہا تھا تو یہ اشرافیہ خوشیاں  منا  رہی تھی۔ اب جب خود ان پر آبنی ہے تو ان کی چیخیں  نکل رہی ہیں ۔  صرف چیخیں  ہی نہیں  ان کے منہ سے گالیاں  بھی نکل رہی ہیں ۔ملک کے دیگر طبقات حکومت کی کسی پالیسی کے خلاف احتجاج کے دوران بھی شائستگی اور شرافت کا دامن ہاتھ سے جانے نہیں  دیتے  لیکن یوجی سی کے نئے مساواتی قانون کے نفاذ کے بعداحتجاج کرنے والوں  نے تو وزیر اعظم اور وزیر داخلہ کے پوسٹروں  پر کالک بھی مل دی اور ان کے پتلے بھی جلاڈالے۔ مودی جی کے متعلق لگائے گئے نعرے اتنے نازیبا اور اتنے تضحیک آمیز تھے کہ میں  انہیں  دہرانا بھی مناسب نہیں  سمجھتا۔ کسی دل جلے نے تووزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کو تشدد کا نشانہ بنانے تک کی دھمکی بھی دے ڈالی۔
اگر غور سے دیکھا جائے تو یو جی سی کے نئے ضوابط میں  ایسا کچھ بھی نہیں  ہے جس سے سورن سماج کے لوگوں  کو کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق ہوسکتا ہو۔ ان نئے ضوابط کا مقصد یونیورسٹی کے کیمپس میں  شیڈول کاسٹ، شیڈول ٹرائبس اور او بی سی طلبہ کے مفادات اور وقار کے تحفظ کو یقینی بنانا اور کیمپسوں  میں  اونچ نیچ کی دیواریں  گرانا ہے۔  اونچی ذات کے طلبہ کو سماجی انصاف کی راہ میں  اٹھایا گیا یہ قدم کسی صورت گوارا نہیں  ہے۔ دہائیوں  سے چلی آرہی سماجی برائی اور طبقاتی عدم مساوات کو ختم کرنے کی حکومت کی ایک معمولی سی کوشش کو یہ اپنے لئے ایک بڑا خطرہ قرار دے رہے ہیں ۔  
 
 
اونچی ذات والے طلبہ کی طرح گودی میڈیا کوبھی لگا کہ ان کے ساتھ وشواس گھات ہوا ہے۔ جب گودی میڈیا کے سر بدلے ہوئے لگنے لگے، جب مودی بھکت ہی مودی جی کی شان میں  گستاخی کرنے لگے اور بی جے پی کے حمایتی بی جے پی کو کبھی ووٹ نہ دینے کی دھمکی دینے لگے تو حکومت اپنے وفاداروں  کی اس بغاوت  سے  ڈر گئی۔  روٹھے ہوئے اپنوں  کو منانے کیلئے ایسی تدبیر ڈھونڈ ی گئی کہ سانپ بھی مرجائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ سپریم کورٹ میں  حکومت نے یوجی سی کے ضابطوں  کا نہ دفاع کیا اور نہ ہی عدالت کے عبوری اسٹے آرڈرمیں  کسی ترمیم کی درخواست کی۔ خاموشی سے (اورخوشی سے؟) اسٹے کو تسلیم کرلیا۔ جو قانون سماج میں  مساوات اور ہم آہنگی کو فروٖغ دینے کیلئے بنایا گیا تھاوہ سپریم کورٹ کی نگاہ میں  بھید بھاؤ اور تقسیم پیدا کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ سپریم کورٹ کی اسی بنچ نے یو جی سی کو اعلیٰ تعلیمی اداروں  میں  امتیازی اور تعصبانہ سلوک روکنے کیلئے ضابطوں  کو مزید مؤثر اورمضبوط بنانے کا حکم دیا تھا۔ اسٹے لگانے میں  کی گئی سپریم کورٹ کی عجلت بھی  حیرت انگیز ہے۔
لاکھوں  کسان دلی کے قرب وجوار میں  مہینوں  تک دھرنا دیتے رہے لیکن سپریم کورٹ سے انہیں  اس طرح کی فوری راحت نہیں  ملی جیسے یوجی سی پر اونچی ذات والے ہندوؤں  کو پچھلے ہفتے مل گئی۔ مہینوں  تک کروڑوں  مسلم شہری ملک بھر میں  شہریت بل کے خلاف مظاہرے کرتے رہے لیکن سپریم کورٹ نے اس پر اسٹے دیا ہی نہیں ۔ متنازع شہریت قانون سماج کو مذہبی خطوط پرتقسیم کرنے والا تھا لیکن عدالت کوقانون کی یہ خامی نظر نہیں  آئی۔ UAPAقانون کا بیجا استعمال کرکے ہزاروں  بے گناہوں  کو جیلوں  میں  ٹھونسا گیا ہے۔ کیا سپریم کورٹ نے اس کالے قانون کے غلط استعمال کو روکنے کے لئے بھی کبھی کوئی قدم اٹھایا ہے؟

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK