Inquilab Logo Happiest Places to Work

خدا بخش لائبریری،پٹنہ میں نئے ڈائریکٹر کی تقرری

Updated: June 09, 2026, 2:01 PM IST | Dr. Mushtaq Ahmed | Mumbai

خدا بخش لائبریری کو عالمی سطح پر جو وقار حاصل ہے اس کی وجہ صرف اس کے مخطوطات نہیں بلکہ اس کی تحقیقی خدمات بھی ہے۔ ممتاز جامعات اور تحقیقی ادارے اس سے استفادہ کرتے ہیں۔

Library.Photo:INN
لائبریری۔ تصویر:آئی این این
 بہار کی سرزمین صدیوں سے علم و ادب، تہذیب و ثقافت اور دانش و حکمت کی آماجگاہ رہی ہے۔ قدیم نالندہ اور وکرم شیلا جیسی عالمی درس گاہوں کی روایت آج بھی اس خطے کی علمی شناخت کا حصہ ہے۔ اسی درخشاں روایت کی ایک اہم کڑی پٹنہ میں واقع خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری ہے، جو نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں مشرقی علوم و فنون کے ایک معتبر اور مستند مرکز کی حیثیت رکھتی ہے۔ حال ہی میں ایک طویل عرصے کے بعد اردو زبان کے ایک استاد پروفیسر محمد زاہد الحق کا اس عظیم ادارے کا ڈائریکٹر مقرر ہونا اہلِ اردو اور علمی حلقوں کیلئے خوش آئند خبر ہے۔ اس تقرری نے ایک بار پھر اس تاریخی کتب خانے کی علمی خدمات، اس کے وقار اور عصر حاضر میں اس کی معنویت پر گفتگو کا موقع فراہم کیا ہے۔واضح ہو کہ پروفیسر زاہد الحق علی گڑھ مسلم یونیورسٹی اور جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، دہلی کے پروردہ ہیں اور انہوں نے دہلی یونیورسٹی و سنٹر ل یونیورسٹی ، حیدر آباد میں درس وتدریس کی خدمات انجام دئیے ہیں۔لکھنے پڑھنے سے ان کی گہری وابستگی ہے اس لئے یہ امید بندھی ہے کہ ایک عرصے کے بعد اردو زبان وادب سے تعلق رکھنے والی فعال شخصیت ڈائرکٹر کے عہدے پر فائز ہوئی ہے۔ یوں تو ڈاکٹر عابد رضا بیدارمرحوم کا تعلق شعبۂ اسلامیات سے تھا اور انہوں نے تقریباً ۲۵؍برسوں تک خدا بخش لائبریری کی تاریخی علمی حیثیت کو دوبالا کیا اس کے بعد عبدالرحمان چیغانی علم نفسیات ، ضیاء الدین انصاری اور ڈاکٹر امتیاز احمد تاریخ اور شائستہ بیدار بھی شعبۂ تاریخ سے تعلق رکھتی تھیں۔ یوں تو یہ لائبریری تمام زبانوں کیلئے غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے لیکن بالخصوص اردو، فارسی اور عربی کیلئے عالمی شہرت کی حامل ہے۔ یہاں تین لاکھ سے زائد کتابیں اور ۲۱؍ ہزارنادر مخطوطات ہیں ۔ ان میں سنسکرت ، فارسی،عربی ، پستو، پالی ، اردو اور انگریزی وغیرہ شامل ہے۔
خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری کا قیام انیسویں صدی کے اواخر میں ایک ایسے وقت میں عمل میں آیا جب برصغیر میں علمی ذخائر کے تحفظ کا کوئی منظم نظام موجود نہیں تھا۔ اس عظیم ادارے کے بانی خان بہادر مولوی محمد خدا بخش تھے جنہوں نے اپنے والد مولوی محمد بخش کے علمی ذوق اور نادر مخطوطات کے ذاتی ذخیرے کو عوامی استفادے کیلئے وقف کر دیا۔۲۹؍اکتوبر۱۸۹۱ء کو اس لائبریری کا باضابطہ افتتاح ہوا۔ ابتدا میں یہاں چند ہزار نادر مخطوطات موجود تھے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کا ذخیرہ بڑھتا گیا اور آج یہ دنیا کے اہم ترین مخطوطاتی مراکز میں شمار ہوتی ہے۔مولوی خدا بخش کا خواب صرف ایک کتب خانہ قائم کرنا نہیں تھا بلکہ ایسا علمی مرکز بنانا تھا جہاں مشرقی علوم، اسلامی تہذیب، فارسی و عربی ادب، اردو زبان، تاریخ، فلسفہ اور فنونِ لطیفہ کے نادر ذخائر محفوظ رہ سکیں۔ ان کی یہی بصیرت آج اس ادارے کو عالمی سطح پر ممتاز بناتی ہے۔ خدا بخش لائبریری کو عالمی سطح پر جو وقار حاصل ہے اس کی وجہ صرف اس کے مخطوطات نہیں بلکہ اس کی تحقیقی خدمات بھی ہیں۔ دنیا کی ممتاز جامعات اور تحقیقی ادارے اس کے ذخائر سے استفادہ کرتے ہیں۔ متعدد بین الاقوامی اسکالرز نے یہاں کے مخطوطات پر تحقیقی کام کر کے علمی دنیا میں نئی راہیں ہموار کی ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر نالندہ قدیم ہندوستان کے علمی ماضی کی علامت ہے تو خدا بخش لائبریری جدید ہندوستان کے علمی ورثے کی ایک روشن نشانی ہے۔
اکیسویں صدی میں جب دنیا ڈیجیٹل انقلاب سے گزر رہی ہے تو بعض لوگ یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ کیا لائبریریوں کی اہمیت کم ہو رہی ہے؟ بظاہر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انٹرنیٹ اور مصنوعی ذہانت کے دور میں کتابوں اور کتب خانوں کی ضرورت کم ہو گئی ہے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔آج معلومات کی فراوانی کے دور میں مستند معلومات تک رسائی سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے۔ لائبریریاں صرف کتابوں کا ذخیرہ نہیں بلکہ علمی معیار، تحقیقی دیانت اور مستند معلومات کی ضامن ہیں۔خدا بخش لائبریری جیسے ادارے اس لئے زیادہ اہم ہو گئے ہیں کہ ان کے پاس اصل ماخذ  Sources Primary محفوظ ہیں۔ محققین کیلئے یہ ذخائر کسی بھی ڈیجیٹل سرچ انجن سے کہیں زیادہ معتبر اور قابلِ اعتماد ہیں۔عصر حاضر میں خدا بخش لائبریری کی ایک بڑی ذمہ داری اپنے علمی ذخائر کو ڈیجیٹل شکل میں محفوظ کرنا ہے۔ دنیا کی بڑی لائبریریاں اپنے نادر مخطوطات کو آن لائن دستیاب کر رہی ہیں تاکہ دنیا بھر کے محققین ان سے استفادہ کر سکیں۔خدا بخش لائبریری نے اس سمت میں قابلِ ذکر اقدامات کیے ہیں، لیکن ابھی مزید کام کی ضرورت ہے۔ 
 
 
اردو زبان کے ایک پروفیسر کا ڈائریکٹر مقرر ہونا اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ علمی اداروں کی ترقی کے لیے علمی قیادت ناگزیر ہوتی ہے۔ انتظامی صلاحیت کے ساتھ علمی وژن بھی ضروری ہے۔امید کی جانی چاہیے کہ نئی قیادت اس ادارے کو جدید تحقیقی تقاضوں سے ہم آہنگ کرے گی، قومی اور بین الاقوامی اداروں کے ساتھ تعاون کو فروغ دے گی، نوجوان محققین کو اپنی طرف متوجہ کرے گی اور اردو، فارسی، عربی اور دیگر مشرقی زبانوں کے علمی سرمائے کو نئی نسل تک پہنچانے میں مؤثر کردار ادا کرے گی۔خدا بخش اورینٹل پبلک لائبریری بہار ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کا علمی سرمایہ ہے۔ یہ ادارہ ماضی کی عظمت، حال کی ضرورت اور مستقبل کی امید کا حسین امتزاج ہے۔آج جب دنیا تیز رفتار تبدیلیوں کے دور سے گزر رہی ہے، خدا بخش لائبریری جیسے اداروں کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت، جامعات، محققین اور اہلِ علم مل کر اس عظیم علمی ورثے کی حفاظت اور فروغ کے لئے سنجیدہ اقدامات کریں۔
 
 
مختصر یہ کہ خدا بخش لائبریری کی تاریخ میں پہلی بار اردو زبان کے ایک استاد ،پروفیسرمحمد زاہد الحق کی بطور ڈائریکٹر تقرری اس امید کو تقویت دیتی ہے کہ خدا بخش لائبریری اپنی علمی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے نئی صدی کے تقاضوں کے مطابق مزید ترقی کرے گی اور آنے والی نسلوں کے لئےعلم و دانش کا مینارۂ نور بنی رہے گی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK