Inquilab Logo Happiest Places to Work

بہار میں قیادت کی تبدیلی :منظر اور پس منظر!

Updated: April 21, 2026, 11:00 AM IST | Dr. Mushtaq Ahmed | Mumbai

بی جے پی ہمیشہ ترقی اور انفراسٹرکچر کو اپنی سیاست کا مرکز بناتی رہی ہے۔ بہار میں اس کی حکومت بننے کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ سڑکوں، ریل اور بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی،صنعتی ترقی کو فروغ دیا جائے گا۔

Bihar New CM.Photo:INN
بہار کے نئے سی ایم۔ تصویر:آئی این این
بہار کی سیاست ایک تاریخی موڑ  پر کھڑی ہے کہ  دو دہائیوں تک نتیش کمارکی قیادت میں چلنے والی اتحادی حکومت کا خاتمہ ہوگیا ہے  اور پہلی بار ریاست میں بھارتیہ جنتا پارٹی(بی جے پی) نے اپنی قیادت میں حکومت قائم کی ہے۔ اگرچہ یہ حکومت بھی اتحادی ہے لیکن اس تلخ سچائی سے ہر شخص واقف ہے کہ یہ تبدیلی محض اقتدار کی منتقلی نہیں بلکہ ایک وسیع سیاسی، سماجی اور نظریاتی تبدیلی کی علامت ہے جس کے اثرات آنے والے برسوں میں بہار کی سیاست اور سماج دونوں پر مرتب ہوںگے اور قومی سیاست بھی متاثر ہوگی۔واضح ہو کہ شمالی ہند میں بہار ہی ایک ایسی ریاست تھی جہاں آزادی کے بعد سے ہی سنگھ پریوارنے اپنا پائوں پھیلانا شروع کردیا تھا لیکن وہ کبھی اقتدار میں نہیں آئی تھی ۔ البتہ ۱۹۷۷ء میں جب جنتا پارٹی کی حکومت بہار میں بنی تھی تو اس وقت بھی جن سنگھ حکومت میں شامل تھی لیکن شمالی ہند کی ہندی پٹّی مثلاً دہلی ،راجستھان، مدھیہ پردیش ، چھتیس گڑھ ،اتر پردیش اور اترانچل میں بھاجپا کی قیادت والی حکومت قائم ہو چکی تھی مگر بہار میں اب تک وہ اتحادی حکومت میں شامل ضرور تھی لیکن قیادت اس کے ہاتھ نہیں آئی تھی ۔
بہار کی سیاست میں نتیش کمار کا دور استحکام، اعتدال اور سماجی توازن کا مظہر سمجھا جاتا تھا۔ انہوں نے’’گڈ گورننس ‘‘اور ’’سوشل انجینئرنگ‘‘ کے ذریعے مختلف ذاتوں اور طبقات کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی۔ لیکن وقت کے ساتھ ان کی سیاسی حکمت عملی میں بار بار اتحادوں کی تبدیلی نے عوامی اعتماد کو متاثر کیا۔ یہی وہ پس منظر تھا جس میں بی جے پی کو اپنی قیادت میں حکومت بنانے کا موقع ملا۔
واضح ہو کہ دودہائی میں دو بار انہوں نے راشٹریہ جنتا دل اور کانگریس کے ساتھ حکومت قائم کی لیکن پھر وہ اپنے پرانے اتحادی بھاجپا کی طرف لوٹ گئے ۔یہاں یہ ذکر بھی ضروری ہے کہ نتیش کمارکو جب کبھی سیاسی مشکل درپیش آئی تو وہ عوامی رابطے پر نکل پڑے جس کا آغاز نیائے یاترا ۱۲؍جولائی ۲۰۰۵ء   سے لے کر وکاس یاترا، دھنیواد یاترا، پرواس یاترا، وشواس یاترا ، سیوا یاترا، ادھیکار یاترا، سنکلپ یاترا، سمپرک یاترا، نشچئے یاترا، سمیکچھا یاترا، جل جیون ہریالی یاترا، سماج سدھار یاترا، سمادھان یاترا، پرگتی یاترا اور آخری ۱۶؍ جنوری ۲۰۲۶ء سے سمردھی یاترا یعنی کل سولہ یاترائیں انہوں نے کیں اور عوام کے نبض کو ٹٹولنے کی کوشش کی اور اس میں وہ کامیاب بھی رہے کہ حالیہ اسمبلی انتخاب میں بھی نتیش کی بدولت ہی این ڈی اے کو اتنی بڑی اکثریت حاصل ہوئی ۔لیکن یہ قیاس آرائی تو اسمبلی انتخاب سے قبل ہی ہو رہی تھی کہ اسمبلی انتخاب کے نتائج کے چند مہینوں بعد ہی ریاست بہار میں قیادت کی تبدیلی یقینی ہوگی اور وہ حقیقت ثابت ہوئی۔
 
 
 
بی جے پی کی قیادت میں حکومت آنے کے بعد مسلم اور دیگر اقلیتی برادریوں میں ایک حد تک بے چینی پیدا ہونا فطری ہے۔ واضح رہے کہ سمراٹ چودھری ایک تجربہ کار سیاست داں ہیں اور انہوں   نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز سیکولر سیاست یعنی راشٹریہ جنتا دل سے کیا تھاپھر وہ کانگریس میں گئے اس کے بعد جنتا دل متحدہ کے ساتھ ہوئے اور بالآخر بھارتیہ جنتا پارٹی کے قائد بنے ہیںاس لئے وہ بہار کے سیاسی تقاضوں کو خوب سمجھتے ہیں ا ور نتیش کمار کے ساتھ انہوں  نے بحسن وخوبی اپنے فرائض انجام دیئے ہیں اس لئے ممکن ہے کہ وہ بہار کی زمینی حقیقت کو پیشِ نظر رکھ کر ہی اپنی پارٹی کے نظریے کو فروغ دیں گے۔ بہار کی سب سے بڑی آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ بی جے پی کی حکومت کے سامنے سب سے بڑا چیلنج روزگار پیدا کرنا ہوگا۔ اگر حکومت اس محاذ پر کامیاب ہوتی ہے تو اسے وسیع عوامی حمایت حاصل ہوگی۔بی جے پی ہمیشہ ترقی اور انفراسٹرکچر کو اپنی سیاست کا مرکز بناتی رہی ہے۔ بہار میں اس کی حکومت بننے کے بعد یہ توقع کی جا رہی ہے کہ سڑکوں، ریل اور بجلی کے شعبے میں سرمایہ کاری بڑھے گی،صنعتی ترقی کو فروغ دیا جائے گا،نجی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے گا۔ تاہم، بہار کی بنیادی کمزوریاںجیسے تعلیمی پسماندگی، ہنر کی کمی، اور صنعتی ڈھانچے کی عدم موجودگی نئے وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کے لئے بھی ایک بڑا چیلنج ہے۔ظاہر ہے کہ سمراٹ چودھری بہار کی سیاست میں ایک ابھرتا ہوا نام ہیں، جنہوں نے حالیہ سیاسی تبدیلی میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کا تعلق ایک سیاسی گھرانے سے ہے، اور ان کے والد شکونی چودھری بھی ایک معروف سیاستدان رہے ہیں۔سمراٹ چودھری نے اپنے سیاسی کریئر کا آغاز علاقائی سیاست سے کیا، لیکن وقت کے ساتھ وہ بی جے پی کے اہم لیڈروں میں شامل ہو گئے۔ ان کی سب سے بڑی طاقت ان کی تنظیمی صلاحیت اور زمینی سطح پر مضبوط گرفت ہے۔سمراٹ چودھری نے بہار کی پیچیدہ ذات پات کی سیاست کو بخوبی سمجھا اور اس کا فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے پسماندہ طبقات کو بی جے پی کے ساتھ جوڑنے میں اہم کردار ادا کیا۔بی جے پی انہیں بہار میں ایک بڑے لیڈر کے طور پر پیش کر رہی ہے۔ اگر وہ اپنی کارکردگی کو برقرار رکھتے ہیں تو مستقبل میں وہ ریاستی سیاست کا مرکزی چہرہ بن سکتے ہیں۔ کسی بھی سیاسی لیڈر کیلئے اقتدار میں آنا آسان ہے، لیکن اسے برقرار رکھنا مشکل۔ بی جے پی کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ نتیش کمار کے مقابلے میں بہتر حکمرانی فراہم کر سکتی ہے۔اگر اپوزیشن جماعتیں متحد ہو جاتی ہیں تو بی جے پی کیلئے چیلنجز بڑھ سکتے ہیں۔بہار کی سیاست ایک نئے دور میں داخل ہو چکی  ہے۔ اسکے چند ممکنہ رجحانات یہ ہو سکتے ہیں۔مضبوط مرکزی قیادت کا اثر،نظریاتی سیاست کا فروغ،علاقائی جماعتوں کی کمزوری۔
 
 
مختصر یہ کہ بہار میں بی جے پی کی قیادت میں حکومت کا قیام ایک تاریخی تبدیلی ہے جو ریاست کی سیاست اور سماج دونوں کو متاثر کرے گی۔ یہ تبدیلی جہاں نئے مواقع لے کر آئی ہے، وہیں کئی چیلنجز بھی ساتھ لائی ہے۔اگر حکومت ترقی، روزگار اور سماجی ہم آہنگی کے محاذ پر کامیاب ہوتی ہے تو یہ تبدیلی ایک مثبت سنگ میل ثابت ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر یہ صرف نظریاتی سیاست تک محدود رہتی ہے تو اس کے منفی اثرات بھی سامنے آ سکتے ہیں۔سمراٹ چودھری جیسے لیڈروں کا کردار اس نئے دور میں نہایت اہم ہوگا۔ ان کی قیادت اور حکمت عملی یہ طے کرے گی کہ بہار کا سیاسی مستقبل کس سمت جاتا ہے۔آخرکار، بہارکے عوام ہی اس تبدیلی کا اصل محور ہیں۔ ان کی توقعات، ان کے مسائل اور ان کے خواب ہی اس نئی حکومت کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ کریں گے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK