Inquilab Logo Happiest Places to Work

لفظوں کے انتخاب نے رسوا کیا انہیں

Updated: May 01, 2026, 2:00 PM IST | shamim Tariq | mumbai

ملکارجن کھرگے نے اپنے کہے ہوئے لفظ کے بارے میں جو بیان صفائی دیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کی سیاست میں لفظ اس تیزی سے اپنی معنویت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں کہ اب انہیں غلط معنی میں بولا ہی نہیں سمجھا بھی جاتا ہے۔ اس لئے وضاحت ضروری تھی۔

INN
آئی این این
پڑھتے اور سنتے تو یہی تھے کہ سنسکرت ایک علمی زبان ہے مگر یہ زبان عوامی زبان کبھی نہیں  رہی مگر اب خبر آرہی ہے کہ راجستھان کے کئی گاؤں  میں  تقریباً چھبیس ہزار لوگ سنسکرت میں  ہی بات کرتے ہیں ۔ ہم کسی زبان کے مخالف نہیں  ہیں  اس لئے یہ خبر ہمارے لئے خوشی کی بات ہے البتہ دکھ ہے تو اس بات کا کہ اب ہماری مادری زبان اس درجہ عدم توجہی اور بولنے والوں  کی بے حسی کا شکار ہے کہ یہ زبان بولنے، اور پڑھانے والے بھی دن بہ دن کم ہوتے جا رہے ہیں  اور جو پڑھنے پڑھانے والے ہیں  صحیح اُردو ان کو منہ نہیں  لگاتی یا وہ صحیح اُردو بولنا اور پڑھنا کسر شان سمجھتے ہیں ۔ مشاعروں ، ادبی تقریبات اور تعلیمی اداروں  تک ایسے لوگوں  کا بول بالا ہے جن کو ’اُردو خور‘ ہی کہا جاسکتا ہے۔ اس سے بھی برا یہ ہے کہ زندگی بھر کچھ نہ لکھنے والے سینئر صحافی اور کبھی ایک مصرع نہ کہنے والے بڑے شاعر سمجھے جا رہے ہیں ۔ صحیح ذوق رکھنے یا تیل اور طلاء کا فرق سمجھنے والے تو رہ ہی نہیں  گئے ہیں ۔ لفظوں  کی تہذیب سے واقفیت کا ثبوت دینے والے بھی خال خال ہی رہ گئے ہیں ۔ وجہ شاید یہ ہے کہ کتابوں ، اچھی مجلسوں  اور زبان سیکھنے کے اچھے مواقع سے ہمارا رشتہ ٹوٹتا جا رہا ہے۔
۲۳؍ اپریل انگریزی کے ادیب شیکسپیئر کی برسی کی رعایت سے ’عالمی یوم ِ کتاب‘ کے طور پر منایا گیا ہے۔ یوں  بھی ہم ہندوستانیوں  کی زندگیوں  میں  کتابوں  کی اہمیت ہمیشہ ہی رہی ہے۔ جب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر ممبئی کی بی ڈی ڈی چال (ورلی) میں  رہتے تھے تو ان کو کتابیں  محفوظ رکھنے میں  دشواری ہوتی تھی۔ ۱۹۳۰ء کے ابتدائی برسوں  میں  دادر کی ہندو کالونی میں  انہوں  نے ایک بڑا گھر لینے کا منصوبہ بنایا جہاں  ان کی پچاس ہزار کتابیں  رکھی جاسکیں ۔ اس زمانے میں  ان کے بیرسٹر ہونے کے سبب سینٹرل بینک ان کو قرض دینے کو بھی تیار ہوگیا تھا۔ روپیہ کم سے کم استعمال کرنے کی غرض سے انہوں  نے کسی آرکٹیکٹ کا تقرر نہیں  کیا بلکہ اس مضمون کی کئی کتابیں  حاصل کیں  اور خود ہی گھر بنانا شروع کر دیا۔ گراؤنڈ فلور رہنے کیلئے اور پہلی دوسری منزل پچاس ہزار کتابوں  کیلئے انہوں  نے خود ہی تیار کروائیں ۔ گھر یا رہائش کا نام رکھا ’راج گرِہ‘۔ کتابیں  لفظوں  اور جملوں  کا مجموعہ ہی نہیں  مختلف طبقوں ، نسلوں  اور ملکوں  کے خیالات کی ترسیل کا ذریعہ بھی ہیں  اور یہ بھی صحیح ہے کہ لفظوں  کی تہذیب کتابوں  سے ہی حاصل ہوتی ہے۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے حال ہی میں  وزیراعظم کیلئے ایسا لفظ استعمال کیا جو ناروا سمجھا جاتا ہے۔ البتہ یہاں  یہ یاددہانی ضروری ہے کہ بیرسٹر اسدالدین اویسی نے بہتوں  کی زبان بند کر دی ورنہ یہ بات پھیلتی جا رہی تھی کہ ’’ہر مسلمان دہشت گرد نہیں  مگر بیشتر دہشت گرد مسلمان ہیں ۔‘‘ کھرگے نے وزیراعظم کیلئے جس لفظ کا استعمال کیا اس کے حوالے سے واضح کیا کہ ان کے اقتدار میں  ای ڈی اور سی بی آئی کے غلط استعمال سے عام لوگوں  کو ٹیرورائز یعنی دہشت میں  مبتلا کیا جا رہا ہے۔ ان کا وزیراعظم کیلئے اس لفظ کا استعمال اسی معنی میں  تھا۔ بات تو صحیح ہے۔ ہر زبان میں  کم یا زیادہ لفظوں  کے محل استعمال سے بھی معنی میں  فرق پیدا ہوتا ہے۔ مثلاً حاملہ کے جو معنی ہیں  وہ تو ہیں  ہی بعض تخلیق کاروں  نے متعین معنی میں  استعمال کئے جانے والے لفظوں  میں  بھی نئی تخلیقی جہت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے مثلاً کسی شاعر (غالباً شہباز امروہوی کے) چار مصرع ہیں ؎
کہیں  تلقین سعی کاملہ ہے
کہیں  تنظیم بزم عاملہ ہے
سکوں  پیدا ہوا ہی چاہتا ہے
حکومت کی توجہ حاملہ ہے
بعض انگریزی دانوں  نے Pregnant with Thought استعمال کیا ہے۔ یہاں  کم و بیش وہی معنی مراد ہیں ۔ ہندوستانی سیاست میں  تو ایسے کئی واقعات ہیں  جن سے معلوم ہوتا ہے کہ لفظ یا ترکیب کو تضحیک آمیز معنی عطا کرنے کی کوشش کی گئی ہے مثلاً آزادی سے پہلے کی سیاست میں  مسٹر جناح نے مولانا آزاد کو کانگریس کا ’شو بوائے‘ کہا تھا اور آزادی کے بعد کی سیاست میں  مولانا ضیاء الدین بخاری کے نام کے جزو ضیاء کو ایسے معنی عطا کرنے کی کوشش کی گئی تھی جس کا مطلب سود کے برعکس زیاں  ہوتا ہے۔ بخاری صاحب میرے محسن تھے، محسن نہ ہوتے تب بھی مجھ کو تکلیف ہوتی کہ زبان کو جہل کی قربان گاہ پر بھینٹ چڑھایا جانا مجھے منظور نہیں ۔ سیاستدانوں  میں  سونیا گاندھی مجھے اسی لئے متوجہ کرتی ہیں  کہ انہوں  نے اپنے مخالفین کا ذکر کرنے میں  بھی لفظوں  کی تہذیب کا ہمیشہ خیال رکھا۔
کھرگے نے اپنے کہے ہوئے لفظ کے بارے میں  جو بیان صفائی دیا ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کی سیاست میں  لفظ اس تیزی سے اپنی معنویت سے محروم ہوتے جا رہے ہیں  کہ اب انہیں  غلط معنی میں  بولا ہی نہیں  سمجھا بھی جاتا ہے۔ اس لئے وضاحت ضروری تھی۔ اس وضاحت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ ہندوستان کی سیاست خود ستائی کے ساتھ کردار کشی پر مرکوز ہوتی جا رہی ہے۔ افغانستان کے طالبان کو اچھے لفظوں  میں  یاد نہیں  کیا جاتا مگر انہوں  نے اپنی تعمیر پسند سوچ اور عملی اقدام سے دنیا کو متاثر کیا ہے۔ انہوں  نے جس ماحول اور حالات میں  نہر کھودی ہے وہ تو متاثر کن ہے ہی انہوں  نے اپنے ملک کے بینکوں  میں  جو غیر سودی نظام رائج کرنے کی کوشش کی ہے وہ بھی قابل ِ تحسین ہے۔ ہندوستان میں  اس کام کی ابتدا ڈاکٹر منموہن سنگھ نے کی تھی جب وہ وزیر خزانہ تھے۔ یہ کام قابل تعریف تھا مگر اس کی ستائش نہیں  کی گئی پھر بھی انہوں  نے اس سمت میں  جو کام کیا وہ تاریخ کا حصہ بن چکا تھا۔
 
 
کھرگے صاحب نے جو کہا یا اپنی وضاحت کے مطابق جو کہنا چاہتے تھے اس کے صحیح ہونے سے انکار کرنا بہت مشکل ہے۔ کھرگے نے جب تمل ناڈو الیکشن کے دوران وہ جملہ کہا اس وقت خواتین کے ریزرویشن، نئی حلقہ بندی، بیروزگاری اور لسانی پالیسی پر ہر طرف سے کچھ باتیں  کہی جا رہی تھیں  ان میں  یہ جملہ بھی تھا لہٰذا ساری توجہ انہیں  کے بیان پر دی گئی، پارلیمانی جمہوریت میں  ہمیشہ ہی ایسا ہوتا ہے۔ اچھا ہوتا کہ کھرگے جمہوری مسائل پر روشنی ڈالتے ہوئے اس حقیقت کو بھی بیان کرتے کہ لفظوں  کے انتخاب نے رسوا کیا انہیں ۔ مگر سارا قصور ان کا نہیں ۔ ہندوستانی جمہوریت میں  لفظوں  کی تہذیب کئی بار پامال ہوئی ہے اور ہر پارٹی نے پامال کی ہے۔ ضرورت ہے اس تہذیب کو ازسر نو استوار کرنے کی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK