Inquilab Logo Happiest Places to Work

بیف لے جانے کا ثبوت نہ ہونے پر گاڑی ضبط کرنا غیر قانونی ہے: ہائی کورٹ

Updated: May 01, 2026, 1:09 PM IST | Lucknow

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے یوپی حکومت پر ۲؍ لاکھ روپے کا جرمانہ عائد کردیا ،عرضی گزار محمد چاند کی گاڑی ۳؍ دن میں چھوڑنے کا حکم ۔

Allahabad High Court. Photo: INN
الٰہ آباد ہائی کورٹ۔ تصویر: آئی این این

الٰہ آباد ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں اتر پردیش حکومت کو ہدایت دی ہے کہ وہ محمد چاند نامی شہری کو دو لاکھ روپے کا معاوضہ ادا کرے، جن کی گاڑی کوبغیر ٹھوس ثبوت کے  گائے  کاگوشت لیجانے کے الزام میں ضبط کر لیا گیا تھا۔ عدالت نے اس کارروائی کو غیرقانونی، من مانی اور قانون کیخلاف قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ بغیر سائنسی اور حتمی تصدیق کے ایسی سخت کارروائی نہیں کی جا سکتی۔

یہ بھی پڑھئے: ’’ہم طویل جنگ کیلئے تیار تھے‘‘، آپریشن سیندور پر راجناتھ سنگھ کا انکشاف

یہ فیصلہ جسٹس سندیپ جین کی سنگل بنچ نے  ۲۷؍ اپریل ۲۰۲۶ء کو سنایا، جس میں کہا گیا کہ ریاستی حکام کی غیر ذمہ دارانہ کارروائی کی وجہ سے درخواست گزار کو سنگین مالی نقصان اٹھانا پڑا، جس کی تلافی ضروری ہے۔ عدالت نے حکومت کو حکم دیا کہ سات دن کے اندر اندر دو لاکھ روپے معاوضہ ادا کیا جائے۔یہ معاملہ ۱۸؍ اکتوبر ۲۰۲۴ء کا ہے، جب باغپت پولیس نے چیکنگ کے دوران محمد چاند کی مہندرا پِک اپ گاڑی کو روک کر اس میں مبینہ طور پر گوشت برآمد کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ پولیس نے انہیں اور ایک دوسرے شخص کو گرفتار بھی کیا اور دعویٰ کیا کہ کارروائی کے دوران ملزمین نے فائرنگ کی جس کی بنیاد پر قتل کی کوشش اور اسلحہ ایکٹ کے تحت بھی مقدمات درج کئے گئے۔

یہ بھی پڑھئے: یکم مئی سے ۴؍ بڑی تبدیلیوں کا عوام کی جیب پر گہرا اثر پڑیگا، ایل پی جی کی قیمت پر سبھی کی نظر

عدالت میںسماعت کے دوران درخواست گزار کے وکیل نے مؤقف اختیار کیا کہ ویٹرنری ڈاکٹر کی رپورٹ میں اس بات کی کوئی واضح تصدیق نہیں کی گئی کہ برآمد شدہ گوشت گائے یا اس کی نسل کا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ ثابت کرنا استغاثہ کی ذمہ داری ہے اور جب تک یہ بات شک سے بالاتر ثابت نہ ہو، اس وقت تک ایسی کارروائی غیرقانونی ہے۔ اس پر عدالت نے کہا کہ’اتر پردیش گئوکشی روک تھام ایکٹ، ۱۹۵۵ء‘  کے تحت کارروائی کرنے کے لئے مجاز لیبارٹری سے حتمی تصدیق ضروری ہے۔ صرف شبہ یا ابتدائی رپورٹ کی بنیاد پر کسی شہری کے خلاف کارروائی نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے یہ بھی نشاندہی کی کہ جانچ کے دوران ویٹرنری افسر خود بھی گوشت کے ماخذ کے بارے میں مطمئن نہیں تھا اور اس نے مزید جانچ کی سفارش کی تھی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK