Inquilab Logo Happiest Places to Work

موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے

Updated: March 16, 2026, 1:54 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | mumbai

ہریش رانا ۱۳؍ سال سے بستر پر بے ہوشی کے عالم میںہے۔۱۳؍ سال کا عرصہ کم نہیں ہوتا۔ ہریش رانا کے والدین اپنےس بیٹے کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں، کبھی والد کا ہاتھ بیٹے کی پیشانی اور سر پر ہے تو کبھی ماں کا ہاتھ بیٹے کے سر پر دکھائی دیتا ہے۔

INN
آئی این این
شفیع جاوید کی ایک کہانی کا یہ جملہ’’موت خود زندگی کی حفاظت کرتی ہے‘‘ پڑھتے ہی ذہن پر نقش ہو گیا۔موت جو زندگی کا خاتمہ کر دیتی ہے، وہ کس طرح اور کیوں  کر زندگی کی محافظ ہو سکتی ہے؟ سوال کا جواب اسی عنوان میں  پوشیدہ ہے۔ موت اپنے وقت پر آئے گی، لیکن اس کے بارے میں  پہلے سے کچھ کہا نہیں  جا سکتا۔ بعد میں  جو کچھ کہا جائے گا وہ دوسروں  کی زبانی ہوگا۔ گویا جیتے جی موت کے بارے میں  وہی کہا جا سکتا ہے جو کہا جا چکا ہے۔ یہاں  موت کا ایک روشن پہلو ہے اور وہ موت سے پہلے زندگی کا رواں  دواں  رہنا ہے۔ کوئی اس روانی کو روک نہیں  سکتا۔ ٹریفک کا شور، کارخانے کا دھواں ، اور ریل کی سیٹی، یہ سب کچھ زندگی کا چہرہ ہی تو ہے۔ اسی فضا میں  زندگی کا چہرہ دمکنے لگتا ہے اور کبھی دھندلا ہو جاتا ہے۔کئی دنوں  سے اخباروں  میں مرضی کی موت کے سلسلے میں  خبریں  شائع ہو رہی ہیں ۔ ہریش رانا کے تعلق سے سپریم کورٹ کا فیصلہ تاریخی نوعیت کا ہے۔ اس فیصلے کے مطابق مرضی کی موت کا عمل میں  آنا بھی اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ ہوگا۔ اس عمل کی قانونی بنیادوں  کے تعلق سے بھی لوگوں  نے اظہار خیال کیا ہے لیکن بنیادی بات تو ایک نوجوان کا ۱۳؍ سال سے بستر پر بے ہوشی کے عالم میں  ہونا ہے۔ یہ انسانی اور اخلاقی پہلو دیگر تمام پہلوؤں  سے اپنی اہمیت اور معنویت پر اصرار کرتا ہے۔ 
ہریش رانا ۲۰۱۳ء  میں  چوتھی منزل سے گر گئے تھے۔ یہ حادثہ چنڈی گڑھ میں  پیش آیا تھا۔ چھت سے گرنے کا قصہ انسانی زندگی میں  اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ خود زندگی۔ چھت زمین سے بلندی کی طرف ہونے کی گواہی دیتی ہے۔ چھت سے زمین کا یا زمین سے چھت کا فاصلہ، کبھی زیادہ ہو جاتا ہے اور کبھی کم۔ اس حقیقت کا تعلق حادثے کی صورت اور نوعیت سے ہے۔ پھر بھی زمین آسمان کو اپنی پستی کے ساتھ اٹھائے ہوئے ہے۔ زمین کو پتہ ہے کہ بلندیوں  کو بالآخر زمین کی طرف آنا ہے۔نوجوان ہریش رانا  کا ۱۳؍  سال سے خاموشی کے عالم میں  یوں  پڑا رہنا، بظاہر زندگی کا ٹھہراؤ ہے لیکن غور کیجئے تو محسوس ہوگا کہ یہ خاموشی زندگی کی ہے تاکہ زندگی کو آواز مل سکے۔ ہریش رانا کی کئی تصویریں  سامنے آئیں ، جو بہت کچھ کہتی ہیں ۔ تصویر ایک ہے مگر اپنی تعبیرات کے سلسلے میں  ایک سے زیادہ معلوم ہوتی ہیں ۔ایک تصویر کی ایک سے زیادہ تعبیر ضروری بھی نہیں ، وہ بھی اس صورت میں  کہ تصویر خود بھی ایک سی حالت کو دیکھتے دیکھتے اور دکھاتے دکھاتے، کچھ دکھ کا اظہار کر رہی ہو کہ مجھے اس کیفیت سے نکالو۔ہریش رانا کے والدین اپنے بیٹے کے ساتھ دکھائی دیتے ہیں ، کبھی والد کا ہاتھ بیٹے کی پیشانی اور سر پر ہے تو کبھی ماں  کا ہاتھ بیٹے کے سر پر دکھائی دیتا ہے۔ جو ماں  ہے، اس کے آنسو جتنے دکھائی دیتے ہیں  اس سے بہت زیادہ پوشیدہ ہیں ۔ کسی نے پوچھا کہ آپ کورٹ کے فیصلے کے بعد کیا سوچتی ہیں  تو وہ بمشکل کچھ کہہ پاتی ہیں ۔ والد کہتے کہتے رونے لگتے ہیں ۔ ۱۳؍ سال کا عرصہ کم نہیں  ہوتا۔ والدین کا اتنی شفقت اور صبر کے ساتھ بیٹے کی دیکھ ریکھ کرنا، خود بھی ایک غیر معمولی اخلاقی عمل ہے۔ اس عمل کو میں  نے اس لئے انسانی نہیں  کہا کہ ماں  باپ اپنے بچوں  کے لئے جو کچھ کرتے ہیں  وہ ان کے نزدیک انسانی اور اخلاق عمل تو ہے ہی، مگر وہ اس سے بھی زیادہ بڑا ہے۔
ہریش رانا کے شب و روز بظاہر اندھیروں  میں  گزرے ہیں ، مگر کیا پتہ قدرت کی طرف سے بند آنکھوں  میں  کوئی روشنی موجود ہو اور وہ سب کچھ اپنی مرضی اور سہولت سے دیکھ رہی ہوں ۔ دل کے دھڑکنے کی آواز بھی ایسے شب و روز کے ساتھ کچھ اور ڈوبنے لگتی ہے۔ ایک ایک دھڑکن زندگی کے لمحوں  کو جوڑتی ہوئی لوٹ جاتی ہے اور پھر دوسری دھڑکن کو آگے بڑھاتی ہے۔ ذرا تصور کیجئے کہ ہریش رانا کے والدین  نے ۱۳؍ سال کا عرصہ کس طرح گزارا ہوگا۔ ایک امید جب دل میں  بیٹھ جاتی ہے تو ہر لمحہ اس امید کو توانا کرتا جاتا ہے۔ کبھی تو بیٹا کچھ بولے گا اور بولتے بولتے آنکھیں  بھی کھول دے گا۔ کچھ عجب نہیں  کہ بیٹے نے اپنی بند آنکھوں  سے وہ سب کچھ دیکھ لیا ہو جو وہ دیکھنا چاہتا تھا۔
یہ بھی خبر دیکھنے کو ملی کہ ہریش رانا کی والدہ بیٹے کو کہانی سناتی تھیں ۔ یہ عمل بظاہر بہت سادہ اور آسان دکھائی دیتا ہے مگر ایک ماں  کے دل سے پوچھئے کہ کہانی سناتے وقت اس کی کیا کیفیت رہی ہوگی۔ ماں  نے کتنی مرتبہ کہانی سناتے سناتے بیٹے کی طرف دیکھا ہوگا۔ کوئی ایسا وقت بھی آیا ہوگا جب یہ محسوس ہوا ہو کہ بیٹے کی آنکھیں  کچھ دیکھ رہی ہیں ، اور لب کھلنے کو بے تاب ہیں ۔
 
 
اخبار کی زبان ہریش رانا کی مرضی کی موت کے تعلق سے حساس بھی ہے اور شفاف بھی، یہ ایک خبر ہی نہیں  بلکہ انسانی تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔ اس کے بارے میں  غور کرتے ہوئے جو خیالات ذہن میں  ابھرتے ہیں  ان کا بنیادی رشتہ انسانی درد مندی اور انسانی اقدار سے ہے۔ جیسے جیسے وقت گزر رہا ہے، اس واقعے کے تعلق سے ہماری خاموشی بھی بڑھتی جا رہی ہے۔ یہ خاموشی ۱۳؍سال کی خاموشی کا بدل تو نہیں ، مگر فکر و احساس کی سطح پر ایک ہلچل سی پیدا ہو گئی ہے جو خود خاموشی کا لبادہ اوڑھے ہوئے ہے۔
میں  نے ایک ایسی کہانی بھی پڑھی ہے، جس میں  ہاسپٹل کے اندر ایک مریض کو کہانی سنائی جا رہی ہے اور وہ جسے کہانی سنائی جا رہی ہے، رخصت ہو چکا ہے۔ وہ کب رخصت ہوا، اس کا علم کہانی سنانے والے کو ہے بھی اور نہیں  بھی۔ وہ اس لیے کہ کہانی ہی ایک ایسا وسیلہ ہے جو سننے والے کو کسی اور عالم میں  لے جا سکتی ہے۔ یہ وہ عالم ہے جو اس عالم سے مختلف ہے جس میں  وہ جی رہا ہے۔ لہٰذا کہانی اپنی فطرت کے ساتھ حادثے کو بھی خیال میں  شامل کرنا چاہتی ہے۔ موت کی آرزو زندگی کی آرزو تو نہیں ۔ہریش رانا کی مشکلوں  سے بھری زندگی کے لیے زندگی کا مطلب خاموشی ہے جو ٹھوس وجود کے بغیر بھی اپنی موجودگی کا احساس دلانا چاہتی ہے ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK