• Wed, 21 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایرانی خواتین کے ہاتھوں میں رہی ہیں تحریکیں

Updated: January 20, 2026, 1:31 PM IST | Sohail Waheed | mumbai

ایران میں آیت اللہ خامنہ ای کے جس اقتدا کے خلاف مظاہرے ہو رہے ہیں اُسے قائم کرنے کے لئے شاہ کے خلاف بھی خواتین نے ہی زبردست احتجاج کیا تھا۔ ایرانی خواتین کبھی پیچھے نہیں رہیں۔

INN
آئی این این
مشہور  ایرانی شیعہ رہنما آیت اللہ خامنہ ای کی تصویر سے   سگریٹ  جلاتے ہوئے ایک دوشیزہ کا جو ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل  کیا گیا ، وہ لڑکی ایرانی نہیں  ، کینڈین ہے اور وہ ویڈیو بھی ۲۰۲۲ء کا ہے۔ ایران کے موجودہ حالات کے پس منظر میں  بھی حجاب کے خلاف شروع ہوئی تحریک کا بڑا ہاتھ ہے ، جو ستمبر ۲۰۲۲ء میں  مہسا امینی کے قتل کے بعد سے پورے ایران میں  ہی نہیں  ، بیرونی ممالک میں  بھی پھیل گئی تھی۔ ایران میں  بار بار اسے پسپا کیاجاتا رہا، لیکن وہ رہ رہ کر ابھرتی ہی رہی۔ نومبر ۲۰۲۴ء کی بات ہے جب تہران یونیورسٹی میں  ایک طالبہ حجاب کے خلاف اپنے غم وغصے کے اظہار میں  نیم برہنہ ہوکر گھوم رہی تھی، بڑی کوششوں  کے بعد اسے گرفتار کیا گیا ۔ ایران میں  حجاب پر سختی اورانسانی حقوق کی پامالی کے خلاف جدوجہد کرنے کی وجہ سے سابق فلم اداکارہ ، سماجی کارکن اور پیشہ سے انجینئر نرگس محمدی قریب ۱۳؍ سال جیل میں  گزارچکی ہیں ۔ انہیں  ۲۰۲۳ء میں  نوبل انعام برائے امن سے نوازا گیا۔
 
 
ایران میں  جب بھی کبھی کوئی تحریک چلی ہے یا انقلاب آیا ہے، اس میں  خواتین نے بڑا زبردست کردار ادا کیا ہے۔ آیت اللہ خمینی کی قیادت میں  ۱۹۷۹ء میں  جب اسلامی انقلاب برپا ہوا تو اس کے لئے بھی ایرانی خواتین نے گولیاں  کھائی تھیں ۔ پوری دنیا میں  ’اسلامی انقلاب‘ کی اصطلاح سے مشہوراس تبدیلی کے برپا ہونے کے قریب آٹھ سال پہلے اردو کی مقبول ادیبہ ، پدم وبھوشن قرۃ العین حیدر ایران گئی تھیں  اور واپس آنے کے بعد انہوں نے ایک شاندار رپورتاژ’کوہِ دماوند‘ لکھا۔ اس میں  انہوں نے اس وقت کے شاہی ایران کا بڑا عمدہ منظر نامہ پیش کیا تھا۔ گیان پیٹھ انعام سے سرفراز قرۃ العین حیدر تب ایران کے شاہ کی مہمان تھیں ۔ وہ لکھتی ہیں ، ’’تیسرے روز امجدیہ اسٹیڈیم میں  تقریباً پچاس ہزار نوجوان لڑکے لڑکیوں  نے ورزشی مقابلے پیش کئے ۔لڑکیاں  لڑکوں  کے ساتھ کراٹے لڑیں  ، موٹر بائیک سوار زنانہ پولیس کی لڑکیوں  نے حیرت انگیز کرتب دکھائے۔ آگ کے چکروں  سے اپنی موٹر سائیکلیں  کداکرلے گئیں ۔ ایرانی خواتین کی یہ ترقی واقعی قابل تعریف تھی اور اس کی شروعات رضا شاہ کبیر نے کی تھی۔ ‘‘
وہ لکھتی ہیں  : ’’ اوپر شاہی بالکنی میں  فرح پہلوی ، ان کے پیچھے چند لیڈیزاِن ویٹنگ اور ڈاکٹر بہادری۔ علیا حضرت کے برابر والی کرسی میرے لئے خالی تھی تاکہ لکھنے لکھانے کے لئے جب کسی بات کی ضرورت ہوتو ان سے پوچھا جاسکے۔ پروگرام شروع ہوچکا تھا۔ اس میں  سارے ایران کے کالجوں  اور اسکول کی لڑکیاں  حصہ لے رہی تھیں ۔ اس وقت شہبانو کے سان وگمان میں  نہ تھا کہ یہی طلباء اورطالبات اور ان کے بعد آنے والے دانشور، شہنشاہیت کے خلاف اس قدر تاریخ ساز جدوجہد کا آغاز کریں  گے۔ ان کی تصویریں  جلائیں  گے ، ’مرگ برشاہ‘ کے نعرے لگائیں  گے اور خوشی خوشی مشین گنوں  کا نشانہ بنیں  گے اور یہ موٹر بائیک سوار اور جوڈو کراٹے کرنے والی لڑکیاں  قومی جدوجہد کے سمبل کے طورپر سیاہ چادریں  اوڑھ کر اس انقلاب میں  شامل ہوں  گی۔ یہ ایشیاء کا واقعی ایک حیرت انگیز انقلاب ہے۔ اس وقت بالکنی میں  بیٹھی ہوئی شہبانو مجھ سے تویہی کہہ رہی تھیں  کہ وہ خود مڈل کلاس طالبہ سے ملکہ ٔ ایران کس طرح بن گئیں ، انہیں  نہیں  پتہ ۔ ان کو اس وقت معلوم نہ تھا کہ مجھ سمیت بہت سوں  کو معلوم نہ تھا کہ یہ نئی مڈل کلاس لڑکیاں  آٹھ سال بعدشہنشاہیت کے خلاف مورچہ لگا کر تہران کے اس میدان میں  گولیوں  کا نشانہ بن جائیں  گی، جسے اب ایرانی ’’ شکارگاہِ شہنشاہی‘‘ کہتے ہیں ۔ پچھلے برس جب ایران نے اسرائیل پر جوابی حملے کئے تو طرح طرح کی خبریں  آئی تھیں ۔ان میں  سب سے نمایاں  ویڈیو اس وقت بھی شاہ ایران پہلوی کی تاج پوشی کے تھے۔ اس بار بھی پچھلے کئی دنوں  سے میڈیا پر جو خبریں  آرہی ہیں  ، ان میں  اسرائیل کی جانب سے شاہ کی واپسی پر زور زیادہ ہے۔ بعد میں  اسرائیلی وزیراعظم نے اس بات کا اعتراف بھی کیاتھا کہ ایران پر حملہ دراصل اسلامی اقتدار کو ختم کرنا ہے۔ تب ایران اور اسرائیل جنگ کے دوران ایرانی لڑکیوں  کے کنٹرول روم میں  مانیٹرنگ کرتے ہوئے ویڈیو سامنے آئے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ آیت اللہ خمینی کو جب ۱۹۶۴ء میں  ایران سے جلاوطن کیا گیا تب ایرانی خواتین سڑکوں  پر آگئیں  تھیں  اور زبردست مظاہرے کئے تھے اور ۱۹۷۸ء آتے آتے تقریباً ہر طبقے کی ایرانی عورت شاہ کے خلاف مورچہ کھول چکی تھی۔ ان مظاہروں  میں  مغربی ثقافت کو تھوپنے اور شاہ کی خفیہ پولیس کے رویئے کا بھی بڑا ہاتھ تھا۔ ایرانی خواتین کبھی پیچھے نہیں  رہیں ۔ ایران کی پارلیمنٹ پر جب روسی حمایت سے کوسک فوج نے ۱۹۰۸ء میں  حملہ کردیا تھا تو بھی خواتین سڑک پر نکل آئی تھیں  ، وہ اپنی چادروں  میں  پستول چھپا لیا کرتی تھیں ۔
ایران کہیں  نہ کہیں  زبردست قسم کی بھترگھات سے پچھلی کئی دہائیو ں سے جوجھ رہا ہے۔ میڈیا رپورٹس کہتی ہیں  کہ تہران میں  اسماعیل ہانیہ کی موت کا سامان موساد نے پہلے ہی پہنچا دیا تھا۔ اس طرح کے واقعات سے ایرانی تاریخ بھری پڑی ہے۔ 
قریب ۴۰؍ برس سے سخت پابندیوں  اور تعذیری اقدامات کے باوجود ایران کی ثابت قدمی میں  کمی نظر نہیں  آتی۔ امریکہ کے جوہری نظام کو کئی مرتبہ ایران کے سائنسداں  ڈیکوڈ کرنے کا دعویٰ کرچکے ہیں  اور ابھی ایلن مسک کے اسٹارلنگ کو بھی ناکام بنانے کا دعویٰ ایران کررہا ہے۔ اسرائیل سے اگر کوئی مسلم ملک اپنے جاہ وجلال کے ساتھ ٹکرانے کا دم خم دکھاتا ہے ، تو وہ ایران ہے۔ خلیج میں  اس کے ہمسایہ ممالک اسی لئے اس سے خوف کھاتے ہیں ۔ لکھنؤ کی ایک مشہور شیعہ درسگاہ کے ایک طالب علم نے ایک مرتبہ کہا تھا کہ ایران اگر ایران نہ ہوتا، تو امریکہ ہوتا۔
iran Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK