نو منتخب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے پانسہ پلٹ دیا ، امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ۳؍ شرائط رکھیں ، کہا کہ’’ جنگ ہم ختم کریں گے اور وہ بھی اپنی شرطوں پر ‘‘
EPAPER
Updated: March 15, 2026, 12:39 AM IST | Tehran
نو منتخب ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے پانسہ پلٹ دیا ، امریکہ اور اسرائیل کے سامنے ۳؍ شرائط رکھیں ، کہا کہ’’ جنگ ہم ختم کریں گے اور وہ بھی اپنی شرطوں پر ‘‘
امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر جنگ تھوپنے اور ایران کی جانب سے جوابی حملوں کو بمشکل دو ہفتے ہوئے ہیں لیکن اس دوران جنگ کا پورا نقشہ ہی بدل گیا ہے۔ ۱۵؍ دن قبل تک کسی کو بھی اندازہ نہیں ہو گا کہ ایران اس جنگ میں تنہا ان دونوں ممالک پر نہ صرف بھاری پڑ جائے گا بلکہ وہ امریکہ اور اسرائیل کے سامنے جنگ ختم کرنے کی شرطیں بھی پیش کریگا۔ گزشتہ دنوں ایران کے نئے سپریم لیڈرآیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے قوم سے خطاب میں جہاں اہل ایران کاحوصلہ بڑھایا اور انہیں متحد و ثابت قدم رہنے کی تلقین کی وہیں انہوں نے جنگ ختم کرنے کے لئے کچھ سخت شرائط پیش کی ہیں جس سے پوری دنیا کے ماہرین نہ صرف حیرت زدہ ہیں بلکہ وہ ایران کی بالادستی کو بھی تسلیم کررہے ہیں۔ ان کی جانب سے پیش کردہ شرائط مختصراً گزشتہ دنوں اسی اخبار میں شائع ہو چکی ہیں لیکن آج ان کے خطاب کی مکمل باتیں اور ان کی مکمل شرائط یہاں پیش کی جارہی ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا خطاب
ایران کے نئے سربراہ مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے خطاب کی شروعات ایران کے عوام سے ثابت قدم رہنے اور متحدد رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کی ۔ اس کے بعد انہوں نے خلیجی ممالک کو سخت انتباہ دیاکہ اگر ان کی سرزمین پر قائم امریکی فوجی اڈے بند نہ کئے گئے تو وہ ایرانی حملوں کا نشانہ بنتے رہیں گے۔ انہوں نے امریکہ کی جانب سے دی جانے والی سیکوریٹی ضمانتوں کو ’’محض ایک جھوٹ‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ خطے میں جاری جنگ کے دوران ایران اپنے دشمنوں پر دباؤ بڑھانے کے لئے آبنائے ہرمز کی بندش کو بھی ایک اہم حکمت عملی کے طور پر جاری رکھے گا۔
ایرانی شہداء کا خون ضائع نہیںجائیگا
ایرانی سرکاری ٹی وی پر نشر ہونے والے اپنے پہلے پیغام میں انہوں نے کہا کہ ایران اپنے شہداء کے خون کا بدلہ لینے سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گا۔ ان کے بیان میں حالیہ حملوں کے متاثرین کا بھی حوالہ دیا گیا جن میں میناب کے اسکول پر حملے میں جاں بحق ہونے والی ۱۵۰؍سے زائد طالبات بھی شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم دشمن سے اپنے نقصان کا بدلہ لیں گے اور اپنے اثاثوں کے ضائع ہونے کا بھی بدلہ لیں گے ۔
امریکی اڈوں کیخلاف واضح موقف
مجتبیٰ خامنہ ای نے خلیجی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر اپنی سرزمین پر قائم امریکی فوجی اڈے بند کریں۔ ان کے مطابق اگر ایسا نہ کیا گیا تو وہ اڈے ایرانی فوج کیلئےجائز ہدف بن جائیں گے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ایران کی فوجی کارروائیوں کا ہدف براہ راست ہمسایہ ممالک نہیں بلکہ صرف اور صرف امریکی فوجی تنصیبات ہیں۔ انہوں نے تمام پڑوسی ممالک سے اپیل کی کہ وہ اپنے یہاں سے امریکی اڈے بند کردیں کیوں کہ یہی علاقے جنگ کا سبب ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو مشرقِ وسطیٰ کے ممالک میں قائم اپنے تمام فوجی اڈے بند کرنے ہوں گے اور اپنی فوجی موجودگی ختم کرنا ہوگی۔ ان کے مطابق عراق، شام، کویت، بحرین، قطر، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب میں موجود امریکی فوجی تنصیبات خطے میں کشیدگی کا بڑا سبب ہیں۔
پابندیاں ختم کی جائیں
ایران نے امریکہ سے یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ۱۹۷۹ءکے بعد سے ایران پر عائد تمام اقتصادی اور مالی پابندیاں فوری طور پر ختم کی جائیں۔ ان پابندیوں میں ایران کے بینکاری نظام، تیل کی برآمدات اور ٹیکنالوجی تک رسائی پر لگائی گئی پابندیاں بھی شامل ہیں۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں نے ملک کی معیشت کو شدید نقصان پہنچایا ہے، اس لئے اب ان کا خاتمہ ضروری ہے۔
ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات
اپنے بیان میں ایرانی رہنما نے کہا کہ ایران اپنے پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستی اور تعاون کا خواہاں ہے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ ایران کسی خلیجی ملک کو نشانہ نہیں بنانا چاہتا بلکہ وہاں صرف امریکی فوجی اڈوں کو ہدف بنایا جائیگا۔ان کے مطابق ہم اپنے ہمسایوں کے ساتھ دوستی پر یقین رکھتے ہیں، ہمارا نشانہ صرف امریکہ کے فوجی اڈے ہیں اور جب تک یہ ختم نہیں ہوجاتے ہماری کارروائیاں جاری رہیں گی۔
جنگ کے نقصانات کا معاوضہ
ایرانی سپریم لیڈر نے امریکہ سے جنگ اور کئی برسوں کی پابندیوں کے باعث ہونے والے اقتصادی نقصانات کے ازالے کے طور پر بھاری مالی معاوضے کا مطالبہ بھی کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاوضہ نہیں دیا جاتا تو ہم دشمن کے اثاثوںپر حملے جاری رکھیںگے اور اس سے طرح اپنا بدلہ پورا کریں گے۔ایرانی موقف کے مطابق گزشتہ چار دہائیوں میں پابندیوں اور فوجی کشیدگی کے باعث ایران کو بڑے پیمانے پر اقتصادی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔ اس لئے اب اس ایک ایک پائی کا حساب چکایا جائے۔
چین اور روس کے ساتھ تعاون
ایرانی سپریم لیڈر نے اپنے بیان میںیہ بھی کہا کہ اگر کشیدگی برقرار رہی تو ایران اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لئے روس اور چین کے ساتھ فوجی تعاون کو مزید بڑھا سکتا ہے۔