نئی کتاب پڑھی جاتی ہے تو وہ کس طرح پڑھنے والے کو زندگی کی بنیادی سچائیوں سے قریب رکھتی ہے اس کا ایک اہم حوالہ ہانوم سلیمہ بیگم کی شاعری ہے۔ آج مجھے ورلڈ بک فیئر کے بارے میں کچھ لکھنا تھا مگر بات سلیمہ بیگم کی آ گئی۔ اندازہ کیجئے کہ کتابوں کی بھیڑ میں ایک نظم کس طرح کسی کو گرفتار کر لیتی ہے۔
یہ بات کتنی پرانی اور کتنی نئی ہے۔’’سچ جھوٹ کی حفاظت نہیں کرتا تاریخ چاہے کچھ بھی کہتی ہو۔‘‘ حالات کیا کہتے ہیں ؟ اس کا جواب کیا یہ ہو سکتا ہے کہ اب سچ جھوٹ کی حفاظت تو نہیں کرتا مگر وہ جھوٹ کے آس پاس ہی کہیں رہتا ہے۔ کچھ اس طرح کہ جیسے روشنی اندھیرے کے ساتھ رہتی ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ جھوٹ اس لیے جھوٹ ہے کہ کہیں کوئی سچ بھی ہے اور روشنی اسی لیے روشنی ہے کہ کہیں اندھیرا بھی ہے۔ جھوٹ کا اندھیرا اور سچ کی روشنی کے درمیان فرق کرنے کی تاریخ بہت پرانی ہے۔ اس تحریر کا عنوان مجھے آسامی زبان کی شاعرہ لطفہ ہانوم سلیمہ بیگم کی ایک نظم’’گھر‘‘سے ملا۔ کل ورلڈ بک فیئر دہلی میں کتاب ملی جس کا نام ہے’’ہری راہ ڈھونڈ رہے ہیں گرے ہوئے پتے۔‘‘ دنکر کمار نے ہندی میں نظموں کا ترجمہ کیا ہے۔ بہت دنوں کے بعد ایسی شاعری کی کتاب ملی جس میں ایک عورت کی آواز عام اور گھریلو زندگی سے گہرے طور پر وابستہ ہے۔ یہ بات میں اس لیے کہہ رہا ہوں کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے کہ ایک عورت کی آواز کا مطلب بغاوت ہے۔ یہ بغاوت زندگی سے بھی ہے اور زبان سے بھی۔ بغاوت اس روایت سے بھی ہے جو آزادی کی راہ میں حائل ہے۔ ایک زندگی میں کتنی بغاوت کی ضرورت ہے۔ بغاوت بھی رفتہ رفتہ روایت بن جاتی ہے جس پر پرانے پن کا گمان ہوتا ہے جیسے کسی منظر کو دیکھتے دیکھتے آنکھیں تھک جاتی ہیں ۔ بغاوت جب آزادی کے نام پر زندگی اور زمانے کی قدروں سے دور جانے کا ذریعہ بن جائے تو ایسے میں بغاوت کوئی اہم کردار ادا نہیں کر پاتی۔ ہانوم سلیمہ کی ان نظموں میں ایک زندگی ہے جو کب سے سفر میں ہے اور اب کتنی تھک گئی ہے لیکن یہ تھکن عام زندگی کی سطح اور اس کے احساس سے لپٹی ہوئی ہے۔ سلیمہ نے گھر سے باہر تک کی زندگی کو بہت ہی چھوٹی چھوٹی سچائیوں بلکہ دکھوں میں تلاش کرنے کی کوشش کی ہے۔
اس مجموعے کی پہلی نظم’’اکیلے رہنے پر‘‘ہے۔ بظاہر یہ اکیلا پن ایک حساس اور سوچنے والے شخص کا اکیلا پن ہے مگر اس میں اس وقت ایک عام آدمی بھی اپنے معمولی ذہن کے ساتھ داخل ہو جاتا ہے۔ اکیلا کوئی بھی ہو سکتا ہے اور اکیلے پن میں خیالات جس طرح اکیلے شخص کو گھیر لیتے ہیں اس پر کس کا اختیار ہے۔ اکیلا رہنا اور اکیلا گھومنا یہ تو سب کو معلوم ہے۔ وہ کہتی ہیں : ’’چپکے سے دکھوں کو ڈھونڈ کر لا کر سکھ میں ڈبو کر دیکھنا/ پرانے سپنوں کو نئے نئے کپڑے لتے پہنانا/ سینے کی الماری سے یادوں کو نکال کر سجا دینا اچھا ہے/ ستارے آسمان اور مٹی کی طرح ہی دکھ، خواب اور یاد کی آواز نہیں ہوتے‘‘
ورلڈ بک فیئر کی بھیڑمیں یہ نظم اگر سنائی جاتی تو ممکن ہے اکیلا پن اپنے نئے مفہوم کے ساتھ کچھ مختلف دکھائی دیتا۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے: ’’کبھی بھی لکھے نہ جانے والے خطوں کو پڑھنا/ دھرتی پر کبھی بھی نہیں اترنے والی بارش میں چپکے سے بھیگنا/ کبھی بھی نہیں سنے گئے گیتوں کو گنگنانا اچھا ہے!‘‘
نظم کل ملی تھی اور آج پھر ورلڈ بک فیئر جانا ہوا تو کئی اور نظمیں ساتھ ہو گئیں ۔ ان میں ایک نظم ونود کمار شکل کی بھی تھی۔ کچھ اور نظمیں بھی تھیں جو منڈپ تلے تھیں اور جنہیں زیادہ لوگ دیکھنے والے نہیں تھے۔ میری نگاہ بک اسٹالس کے ان گوشوں کی طرف چلی گئی جہاں روشنی کم تھی۔ آج میں نے کئی عزیزوں سے کہا کہ ان اداروں کی بک اسٹال پر چلئے جو علاقائی ہیں اور جن کا تعلق مختلف صوبوں سے ہے، دہلی کے بڑے اداروں سے چھپنے والی کتابیں تو ہمیں یہاں مل ہی جائینگی چنانچہ کچھ کتابیں ’’کیندریہ ہندی سنستھان آگرہ‘‘سے بہت کم قیمت پر مل گئیں ۔ یہ تمام کتابیں ہندی میں ہیں مگر ان کے موضوعات اور مسائل عمومی نوعیت کے ہیں ۔ ان میں کئی ایسے مضامین ہیں جن کا اردو میں ترجمہ کیا جانا چاہئے۔ اس مرتبہ یہ بک فیئر میرے لئے بڑی حد تک مختلف صوبوں سے وابستہ اشاعتی اداروں کی اہم اور پرانی کتابوں تک رسائی کا وسیلہ بنا۔’’سستا ساہتیہ منڈل‘‘ کا اسٹال بھی میرے لئے کشش کا باعث رہا ہے۔ اس کے بک اسٹال پر کل بھی گیا آج بھی اور پرسوں بھی گیا تھا۔ گاندھی جی کی تحریک پر یہ ادارہ ۱۹۲۵ء میں قائم ہوا تھا۔ اس ادارے کا ذکر میں اس لیے زیادہ کر رہا ہوں کہ اس نے تحریک آزادی کے زمانے میں بہت کم قیمت پر کتابیں چھاپ کر عام لوگوں تک پہنچانے کی کوشش کی تھی۔ اب شاید ہمارے پاس کوئی ایسا اشاعتی ادارہ نہیں ہے جو اتنی کشادہ ذہنی کے ساتھ کتابیں شائع کرتا ہو۔ ہر طرف چمک دمک ہے جو وقت کی ضرورت ہے، لیکن کوئی تو ایسا ہو جو بہت معمولی کاغذ اور سادا پرنٹنگ کے ساتھ ایسی کتابیں چھاپے جن سے تعمیر کا پہلو نکلتا ہو!
مہنگی کتابیں بھی خریدی اور پڑھی جاتی ہیں مگر مجھے یہ آواز بھی سنائی دی کہ قیمت بہت زیادہ ہے۔مختلف عمر کے لوگ اپنے ذوق اور ضرورت کے مطابق کتابیں خریدتے ہیں ، پھر بھی’’قیمت زیادہ ہے‘‘ کا احساس سبھی کو ہے۔ جو کتابیں نئی ہیں ، انہیں بھی پرانا ہونا ہے۔ نئی کتاب جب پڑھی جاتی ہے تو وہ کس طرح پڑھنے والے کو زندگی کی بنیادی سچائیوں سے قریب رکھتی ہے اس کا ایک اہم حوالہ ہانوم سلیمہ بیگم کی شاعری کا یہ مجموعہ ہے۔ مجھے تو ورلڈ بک فیئر کے بارے میں کچھ لکھنا تھا اور درمیان میں سلیمہ بیگم کی نظم آگئی۔ اندازہ کیجئے کہ کتابوں کی بھیڑ میں ایک نظم کس طرح کسی کو گرفتار کر لیتی ہے۔
لوگ کہتے ہیں کہ ڈیجیٹل زمانے میں پڑھنے کی عادت کم ہو رہی ہے۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ نوجوان اب لٹریچر سے دور ہو رہے ہیں ۔ یہ سب باتیں درست ہو سکتی ہیں لیکن جو عالم میں نے اس ہفتے ورلڈ بک فیئر میں دیکھا ہے وہ تو کچھ اور کہتا ہے۔ آج ہی ایک بک اسٹال پر میں نے کتاب اٹھائی اور دیکھنے لگا کہ اس کا موضوع کیا ہے۔ ایک نوجوان میری اس الجھن کو محسوس کرنے کے بعد کہنے لگا کہ دیکھیے اس کا سبجیکٹ سیلاب ہے اور اس رائٹر کی دلچسپی زیادہ تر سیلاب اور پانی میں ہے۔ یہ صرف ایک بک ا سٹال کا تجربہ نہیں ہے بلکہ اس مرتبہ جہاں کہیں کچھ سمجھنے اور جاننے کی ضرورت محسوس ہوئی، نوجوانوں نے میرے علم میں جو اضافہ کیا وہ دکھاوے سے کوئی تعلق نہیں رکھتا بلکہ وہ دلچسپی ہے جو ڈیجیٹل دنیا میں ایک ایسی تہذیب کو راہ دے رہی ہے، جس میں کبھی ٹھہر کر غور کرنے کی روش تھی۔