Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہماری فوجی کارروائی ’’مسیحا کی واپسی‘‘ کی راہ ہموار کر رہی ہے: نیتن یاہو، عالمی سطح پر شدید تنقید

Updated: March 14, 2026, 10:05 PM IST | Tel Aviv

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اس بیان نے عالمی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی ہے جس میں انہوں نے جاری جنگی کارروائیوں کو ’’مسیحا کی واپسی‘‘ کے تاریخی مرحلے سے جوڑا۔ ناقدین نے اس بیان کو مذہبی رنگ دینے کی کوشش قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی زبان مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید خطرناک بنا سکتی ہے۔

Angry people throw shoes at Netanyahu`s effigy after his statement. Photo: X
نیتن یاہو کے بیان سے مشتعل عوام اس کے پتلے پر جوتے مارتے ہوئے۔ تصویرـ: ایکس

اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے ایک حالیہ بیان نے عالمی سیاسی اور سفارتی حلقوں میں شدید بحث کو جنم دے دیا ہے۔ انہوں نے اپنی حکومت کی جاری فوجی کارروائیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ جنگی اقدامات بالآخر اس تاریخی مرحلے کی طرف بڑھ رہے ہیں جسے انہوں نے ’’مسیحا کی واپسی‘‘ سے تعبیر کیا۔ نیتن یاہو نے ایک تقریر میں کہا کہ اسرائیل کو طویل تاریخی سفر کے بعد اس مقام تک پہنچنا ہے جہاں ’’مسیحا کی واپسی‘‘ کا دور آئے گا، تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایسا فوری طور پر نہیں ہونے والا۔ ان کے الفاظ تھے کہ ’’ہم اس مرحلے تک ضرور پہنچیں گے، لیکن یہ اگلے ہفتے نہیں ہوگا۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: دنیا میں دجال کے ظہور کی پیش گوئی؟ کیتھولک پادری کا انتباہ

ان کے اس بیان کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اسرائیلی حکومت کا مؤقف ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی فوجی اور جوہری صلاحیتوں کو کمزور کرنا اور خطے میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنا ہے۔ نیتن یاہو نے حالیہ خطاب میں دعویٰ کیا کہ یہ کارروائیاں مشرقِ وسطیٰ کو ’’نئی شکل‘‘ دے رہی ہیں اور ایران کی طاقت کو شدید نقصان پہنچا رہی ہیں۔ 
تاہم اس بیان نے عالمی سطح پر تنقید کی ایک نئی لہر کو جنم دیا ہے۔ متعدد مبصرین اور ماہرین کا کہنا ہے کہ کسی جنگ کو مذہبی پیش گوئیوں یا مذہبی علامات سے جوڑنا نہ صرف خطرناک ہے بلکہ اس سے تنازعے کی شدت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ کچھ ماہرین کے مطابق اس طرح کی زبان تنازعے کو ایک مذہبی جنگ کے طور پر پیش کر سکتی ہے جو سفارتی حل کے امکانات کو کمزور کر دیتی ہے۔ امریکہ میں بعض انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کے اداروں نے بھی اس بیانیے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق کچھ امریکی فوجیوں نے شکایت کی کہ انہیں ایران کے خلاف جنگ کو ’’خدا کے منصوبے‘‘ اور بائبل کے آخری زمانے کے واقعات سے جوڑ کر پیش کیا گیا۔ ایسے بیانات کو ماہرین نے انتہائی حساس اور خطرناک قرار دیا ہے۔ 
علاقائی مبصرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ کی سیاست پہلے ہی مذہبی اور نظریاتی کشیدگی سے بھری ہوئی ہے، اس لیے اگر ریاستی سطح پر جنگی پالیسیوں کو مذہبی بیانیے سے جوڑا جائے تو اس کے اثرات نہ صرف اسرائیل اور ایران بلکہ پورے خطے پر پڑ سکتے ہیں۔ ان کے مطابق اس طرح کے بیانات سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ جنگ محض سیاسی یا سیکوریٹی تنازع نہیں بلکہ مذہبی تقدیر کا حصہ ہے۔ 

یہ بھی پرھئے: ٹرمپ کا دعویٰ، ایران مشرق وسطیٰ پر تسلط چاہتا تھا

کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نیتن یاہو کا یہ بیان داخلی سیاست سے بھی جڑا ہو سکتا ہے۔ اسرائیل کے اندر مذہبی قوم پرست حلقے طویل عرصے سے اس نظریے کو فروغ دیتے رہے ہیں کہ مشرقِ وسطیٰ میں بڑے سیاسی اور فوجی واقعات مذہبی پیش گوئیوں کے مطابق ہو رہے ہیں۔ ایسے حلقوں میں اس طرح کے بیانات کو خاصی پذیرائی ملتی ہے۔ دوسری جانب ناقدین کا کہنا ہے کہ اس طرح کے بیانات عالمی سفارت کاری کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔ کئی سفارتی ذرائع کے مطابق اگر تنازعے کو مذہبی اصطلاحات میں بیان کیا جائے تو مذاکرات، جنگ بندی اور سفارتی حل کے امکانات مزید کم ہو سکتے ہیں۔ 
مشرقِ وسطیٰ کے موجودہ حالات کے تناظر میں ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی پہلے ہی عالمی سیاست کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ ایسے میں اگر سیاسی رہنما جنگی حکمت عملی کو مذہبی تصورات کے ساتھ جوڑتے ہیں تو اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سلامتی اور سفارتی توازن پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK