• Fri, 02 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

نیو ایئر، نیو میئر، نیو یارک

Updated: January 02, 2026, 2:00 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

نیویارک کے اولین مسلم میئر کا کلام پاک پر حلف لینا ایک بار پھر ان کی بے خوفی کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ وہ شخص جس کے مسلمان ہونے کو ہدف تنقید بنایا گیا، جس پر لعن طعن کی گئی، جس کے خلاف امریکہ کی طاقتور لابی ’’اینٹی ممدانی مشن‘‘ چلاتی رہی، جس کے خلاف بڑی طاقتیں سرگرم تھیں کہ چاہے جو ہو، ممدانی کو میئر نہیں بننے دینا ہے اور امریکی صدر ٹرمپ نے جس کی حمایت نہیں کی، ایک آزاد امیدوار کی حمایت کا اعلان کردیا،

INN
آئی این این
نیویارک کے اولین مسلم میئر کا کلام پاک پر حلف لینا ایک بار پھر ان کی بے خوفی کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ وہ شخص جس کے مسلمان ہونے کو ہدف تنقید بنایا گیا، جس پر لعن طعن کی گئی، جس کے خلاف امریکہ کی طاقتور لابی ’’اینٹی ممدانی مشن‘‘ چلاتی رہی، جس کے خلاف بڑی طاقتیں   سرگرم تھیں   کہ چاہے جو ہو، ممدانی کو میئر نہیں   بننے دینا ہے اور امریکی صدر ٹرمپ نے جس کی حمایت نہیں   کی، ایک آزاد امیدوار کی حمایت کا اعلان کردیا، اس نے نہ تو انتخابی مہم کے دوران مصلحت اور مصالحت سے کام لیا نہ ہی اب کوئی درمیانی راستہ نکالا۔ قارئین کو یاد ہوگا کہ نومبر کے آخری عشرہ میں  ، وہائٹ ہاؤس میں   ٹرمپ کے ساتھ ممدانی کی میٹنگ کے بارے میں   کافی لوگوں   کے ذہنوں    میں   سوال تھا کہ ایک دوسرے کے کٹر مخالف یہ دو لیڈران مہینوں   کی مخالفت اور مخاصمانہ بیانات کے بعد کس طرح ملیں   گے مگر وہاں   موجود صحافی انگشت بدنداں   رہ گئے جب ٹرمپ نے نو منتخب میئر کی تعریف کی اور کہا کہ انہیں   یقین ہے کہ وہ نیویارک کیلئے کارہائے نمایاں   انجام دینگے۔ اسی دوران جب ایک صحافی نے ممدانی سے پوچھا کہ کیا آپ اب بھی صدر مملکت کو ’’ظالم آمر‘‘ (ڈیسپوٹ) اور ’’فاشسٹ‘‘ کہیں   گے تو اس سے قبل کہ ممدانی کوئی جواب دیتے، ٹرمپ خود درمیان میں   آئے اور گویا اُنہیں   بچاتے ہوئے کہا کہ ’’وہ ٹھیک ہے‘‘ یا ’’چلتا ہے‘‘۔ پھر انہوں   نے ممدانی سے کہا کہ آپ ہاں   کہہ دیں   کیونکہ (کہہ دینا یا اقرار کرلینا) وضاحت سے زیادہ آسان ہے۔
ٹرمپ کا بدلا ہوا یہ روپ کیوں   سامنے آیا؟ اس لئے کہ عوامی حمایت کے ذریعہ ممدانی خود کو ناقابل تسخیر ثابت کر چکے تھے، اپنے بے خوف ہونے کا سکہ جما چکے تھے اور یہ سمجھا چکے تھے کہ میں   دھن کا پکا ہوں  ، سچ بولتا ہوں  ، جھوٹے وعدے نہیں   کرتا، جذباتی موضوعات اچھال کر عوام کو گمراہ نہیں   کرتا اور جھوٹ کی بیساکھیوں   پر نہیں   چلتا۔ ٹرمپ نے ممدانی کی تعریف اس لئے بھی کی ہوگی کہ وہ اس نوجوان کو دیکھ چکے تھے جس نےمدمقابل کی بے پناہ مالی طاقت اور غضب کے سیاسی اثر و رسوخ کے خلاف اپنی غیر روایتی حکمت عملی سے فتح کی اتنی لمبی لکیر کھینچی کہ ری پبلکن کے مضبوط امیدوار کرٹس سلائیوا اور آزاد امیدوار نیزسابق گورنر اینڈریو کیومو ہانپتے کانپتے نظر آئے اور انتخابی حکام کو ممدانی کی شاندار فتح کا اعلان کرنا پڑا۔ ایسے شخص کو جو عوام کی پہلی پسند بن کر ابھرا ہو، نہ تو نظر انداز کیا جاسکتا تھا نہ ہی اس کی تحقیر کا کوئی پہلو تراشا جا سکتا تھا۔ نومبر میں   آمنا سامنا ہونے کے بعد ممدانی کو عزت دینا ٹرمپ کی مجبوری بن چکا تھا۔ 
اوپر کہیں   آچکا ہے کہ ممدانی کی انتخابی مہم شروع سے اخیر تک غیر رویتی انداز کی تھی۔ انہوں   نے الیکشن اس طرح نہیں   جیتا جیسے جیتا جاتا ہے۔ اسی غیر روایتی انداز کو انہوں   نے حلف برداری کیلئے بھی برقرار رکھا اور غیر روایتی جگہ کا انتخاب کیا۔ یہ ایک سب وے اسٹیشن ہے جو ۱۹۰۴ء میں   قائم ہوا تھا مگر تکنیکی اسباب کی بناء پر ۱۹۴۵؍ میں   بند کردیا گیا۔ سب وے کا یہ اسٹیشن امریکہ کے قدیم ترین میونسپل صدر دفتر کے نیچے واقع ہے جسے سٹی ہال کہا جاتا ہے۔ ممدانی نے اس جگہ کا انتخاب کر کے بھی (ٹرینوں   سے سفر کرنے والے) نیویارک کے عام آدمی سے خود کو جوڑنے کی سعی کی۔ عام آدمی کا اعتماد حاصل کرکے ہی اُنہوں   نے الیکشن اس طرح جیتا کہ سب دیکھتے رہ گئے۔ 
ممدانی کی کامیابی یہ سمجھاتی ہے کہ الیکشن جیتنا اہم نہیں  ، دل جیتنا اہم ہے۔ اُن کا چار سالہ سفر یکم جنوری سے شروع ہوچکا ہے۔ نہ تو اب تک کا سفر آسان تھا نہ ہی آئندہ کا سفر آسان ہوگا مگر قوی اُمید ہے کہ وہ عوام کی توقعات پر پورا اُتریں   گے۔
new york Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK