Updated: January 02, 2026, 3:41 PM IST
|
Agency
| New Delhi
نیوزی لینڈ کے خلاف یکروزہ سیریز کیلئے ٹیم منتخب کرنا سلیکٹروں کےلئے درد سر بن سکتا ہے،پنت،جوریل،راہل اور ایشان کشن وکٹ کیپر بلے باز کا رول ادا کرنے کیلئے تیار ہیں۔
وکٹ کیپر بلے باز رشبھ پنت کو نیوزی لینڈ کے خلاف سیریز کیلئے منتخب کیا جاتا ہے یا نہیں یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا۔ تصویر: آئی این این
موجودہ وجے ہزارے ٹرافی میں رشبھ پنت کے فارم میں اتار چڑھاؤ دیکھا گیا ہے۔ ۴؍ میچوں میں صرف ایک نصف سنچری اسکور کرنے والے پنت کو اگر نیوزی لینڈ کے خلاف آئندہ ون ڈے سیریز سے ایک بھی میچ کھلائے بغیر باہر کر دیا جاتا ہے تو یہ اجیت آگرکر کی سربراہی میں سلیکشن کمیٹی کا ایک سخت فیصلہ تصور کیا جا سکتا ہے۔
ہندوستانی سلیکٹرز ۱۱؍جنوری سے وڈودرا میں شروع ہونے والی ۳؍میچوں کی ون ڈے سیریز کے لئے ٹیم کا اعلان کرنے والے ہیں اور سب کی نظریں اس بات پر ہیں کہ کیا رشبھ پنت اپنی جگہ بچا پائیں گے۔یہ بات کسی سے چھپی نہیں ہےکہ ٹیم مینجمنٹ کا کم از کم ایک رکن پنت کے ہا ئی رسک بیٹنگ اسٹائل سے پوری طرح متفق نہیں ہے اور ان سے روایتی انداز میں کھیلنے کی توقع رکھتا ہے۔ تاہم وکٹ بلے باز کو موقع دئیے بغیر ڈراپ کرنا کئی ایسے سوالات کھڑے کر سکتا ہے جن کا جواب دینا کافی مشکل ہوگا۔
۲۰۲۵ء میں رشبھ پنت نے ایک بھی ون ڈے میچ نہیں کھیلا۔ اگرچہ وہ چمپئن ٹرافی کے اسکواڈ اور گزشتہ ماہ جنوبی افریقہ کے خلاف سیریز کا حصہ تھے لیکن ماہر اوپنر رتوراج گائیکواڈ کو نمبر ۴؍پر آزمایا گیا جبکہ پنت تینوں میچوں میں بینچ پر بیٹھے رہے۔ ۲۰۱۸ءمیں ڈیبیو کے بعد سے پنت نے اب تک صرف ۳۱؍ ون ڈے کھیلے ہیں۔ انہیں مسلسل مواقع صرف ۲؍ مراحل میں ملے۔ پہلا مرحلہ ورلڈ کپ ۲۰۱۹ء کے دوران تھا اور دوسرا مرحلہ کورونا کے بعد آیا جہاں انہوں نے ۱۵؍ میچ کھیلے۔ کار حادثے کے بعد واپسی پر انہوں نے اب تک صرف ایک ون ڈے کولمبو میں کھیلا ہےجو اتفاق سے ہیڈ کوچ گوتم گمبھیر کا پہلا اسائنمنٹ بھی تھا۔
رشبھ پنت کی حالیہ کارکردگی بھی خاصی متاثر کن نہیں رہی۔ وجے ہزارے ٹرافی کے ۴؍ میچوں میں ان کا واحد قابل ذکر اسکور ۷۰؍ رن رہا جبکہ ایشان کشن نے جھارکھنڈ کے لئے کھیلتے ہوئے مڈل آرڈر میں ۱۴؍ چھکے جڑ دئیے۔ اس کے علاوہ د ھرو جریل نے اتر پردیش کے لئے بڑی سنچری اسکور کی ہے اور وہ پچھلی سیریز میں ٹیم کا حصہ بھی تھے۔ اگرچہ دہلی کی پچیں بیٹنگ کے لئے آسان نہیں تھیں لیکن ۲۰؍اور ۲۵؍کے اسکور پر آؤٹ ہونا کوئی مضبوط بہانہ نہیں ہے۔ اس کے علاوہ۱۵؍ کھلاڑیوں کی ٹیم میں ۳؍ وکٹ کیپر رکھنا ایک تعیش ہے اور جب کے ایل راہل بطور نمبر ون وکٹ کیپر بلے باز موجود ہوں، تو یہ دیکھنا دلچسپ ہوگا کہ کیا ایشان کشن کو پنت یا جریل کی جگہ موقع ملتا ہے۔
دیودت پڈیکل کے نام پر بھی غور کیا جا سکتا ہے۔ ۳۷؍ میچوں میں ۹۲؍ سے زائد کے اوسط اور موجودہ نیشنل چمپئن شپ میں ۴؍ میچوں میں ۳؍ سنچریاں ان کی بہترین فارم کا ثبوت ہیں۔ لیکن کپتان شبھ من گل کی واپسی، روہت شرما کی موجودگی اور یشسوی جیسوال جیسے ٹاپ آرڈر بلے بازوں کے ہوتے ہوئے پڈیکل کے لئے جگہ بنانا مشکل ہے۔ رتوراج گائیکواڈ پہلے ہی نمبر ۴؍ پر کھیل رہے ہیں، جو زخمی شریاس ایرکی جگہ ہے۔
دریں اثنا ٹی ۔۲۰؍ ورلڈ کپ کو مدنظر رکھتے ہوئے جسپریت بمراہ اور ہاردک پانڈیا کو ون ڈے سیریز سے آرام دیا جانا یقینی ہے۔ ایسی صورت میں ہرشت رانا اور عرشدیپ سنگھ کو موقع مل سکتا ہے۔ چمپئن ٹرافی کے بعد محمد سمیع کی واپسی پر بھی بحث جاری ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سلیکشن کمیٹی ماضی کی طرف دیکھنا چاہتی ہے یا نہیں۔ اسپن شعبے میں رویندر جڈیجہ، واشنگٹن سندر اور کلدیپ یادو کے ساتھ ٹیم متوازن نظر آتی ہے۔