Inquilab Logo Happiest Places to Work

صحافتی آزادی کے معاملے پر ہندوستان میں میری دلچسپی بڑھ رہی ہے: نارویجن صحافی

Updated: July 20, 2026, 10:03 PM IST | New Delhi

وزیراعظم نریندر مودی سے مئی میں ایک پریس کانفرنس کے دوران سخت سوال پوچھنے کے بعد عالمی توجہ حاصل کرنے والی نارویجن صحافی ہیلی لینگ سوینڈسن ایک مرتبہ پھر ہندوستان سے متعلق اپنے تبصروں کی وجہ سے خبروں میں ہیں۔ سونم وانگچک کی بھوک ہڑتال اور ہندوستان میں صحافتی آزادی سے متعلق ان کی حالیہ سوشل میڈیا پوسٹس پر شدید ردِعمل سامنے آیا، تاہم انہوں نے کہا ہے کہ ان کا مقصد کسی سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانا نہیں بلکہ سوالات اٹھانا اور آزادیٔ صحافت جیسے موضوعات پر گفتگو کرنا ہے۔

Helle Lyng Svendsen. Photo: INN
نارویجن صحافی ہیلی لینگ سوینڈسن۔ تصویر: آئی این این

وزیراعظم نریندر مودی سے مئی میں ناروے کے دارالحکومت اوسلو میں ایک پریس پروگرام کے دوران سخت سوال پوچھنے کے بعد عالمی سطح پر توجہ حاصل کرنے والی نارویجن صحافی ہیلی لینگ سوینڈسن ایک مرتبہ پھر ہندوستان سے متعلق اپنے تبصروں کی وجہ سے بحث کا مرکز بن گئی ہیں۔ ہیلی لینگ سوینڈسن گزشتہ چند ماہ سے سوشل میڈیا پر ہندوستان کی اندرونی صورتِ حال، آزادیٔ صحافت اور مختلف عوامی احتجاجوں سے متعلق مسلسل اظہارِ خیال کر رہی ہیں، جس پر انہیں سوشل میڈیا کے بعض حلقوں، قوم پرست صارفین اور چند ہندوستانی صحافیوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا ہے۔ حال ہی میں جب ماحولیاتی کارکن سونم وانگچک کو، جو مرکزی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے کے ساتھ بھوک ہڑتال کر رہے تھے، پولیس نے احتجاجی مقام سے ہٹا کر اسپتال منتقل کیا تو ہیلی لینگ سوینڈسن نے اس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ’’سب سے بڑے جمہوری ملک نے مظاہرین سے بات کرنے اور ان کے سوالوں کے جواب دینے کے بجائے یہ راستہ اختیار کیا۔ امید ہے کہ جمہوریت کے بچے اس سے سبق نہیں لیں گے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: مستقبل کی فلسطینی ریاست خطرہ میں، ۲؍ ممالک کی سابق سربراہوں کا انتباہ

ایک اور موقع پر انہوں نے ایک ہندوستانی صحافی کی اس پوسٹ کا جواب دیا، جس میں فیفا ورلڈ کپ کے ممکنہ فاتح کے بارے میں سوال کیا گیا تھا۔ ہیلی نے جواب میں لکھا، ’’آپ کے ملک میں بھوک ہڑتال جاری ہے۔‘‘ ان پوسٹس کے بعد سوشل میڈیا پر شدید ردِعمل دیکھنے میں آیا۔ بعض صارفین نے ان پر ہندوستان کے معاملات پر یک طرفہ تبصرے کرنے اور داخلی امور میں غیر ضروری دلچسپی لینے کا الزام عائد کیا۔ اسی تناظر میں دی ٹیلی گراف سے ای میل کے ذریعے گفتگو کرتے ہوئے ہیلی لینگ سوینڈسن نے کہا کہ وہ ہندوستان میں ان صحافیوں اور اداروں کی بھی کھل کر تعریف کرتی ہیں جو اقتدار سے مشکل سوالات پوچھتے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر ایسے کئی ہندوستانی صحافیوں اور اشاعتی اداروں کو نمایاں کیا ہے، کیونکہ وہ ان کے خیال میں انتہائی مشکل حالات میں پیشہ ورانہ ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: انادولو نےغزہ نسل کشی پر مبنی ’’غزہ ٹرائیلوجی‘‘ ثبوت اکٹھا کرنےکیلئے آئی سی سی پراسیکیوٹر کو پیش کی

ہیلی لینگ سوینڈسن نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ وہ جان بوجھ کر وزیراعظم نریندر مودی کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کسی کا تعاقب نہیں کیا بلکہ صرف اپنی آواز بلند کرکے ایک سوال پوچھا تھا، جبکہ بعد میں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں پیش آنے والی حالیہ پیش رفت کے بعد انہوں نے دوبارہ ہندوستان سے متعلق معاملات پر اظہارِ خیال شروع کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے حوالے سے ان کی دلچسپی کسی مخصوص سیاسی مقصد کے تحت نہیں بلکہ آزادیٔ صحافت اور جمہوری اداروں کے بارے میں بڑھتے ہوئے تجسس کی وجہ سے ہے۔ ان کے الفاظ میں، ’’مجھے ہندوستان اور خاص طور پر وہاں آزادیٔ صحافت میں بڑھتی ہوئی دلچسپی ہے۔ جتنا زیادہ میں اس موضوع کو سمجھتی ہوں، اتنا ہی اس پر بات کرنا چاہتی ہوں۔ لوگ میری باتوں کی جو چاہیں تشریح کریں، میں صرف سوالات پوچھ رہی ہوں۔ ہندوستان ایک بڑی اور طاقتور قوم ہے۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: وینزویلا: زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد ۵۰۰۰؍ سے تجاوز، آئ ایم ایف کا ۳۴۶؍ ملین ڈالر امداد کا اعلان

جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ وہ ہندوستان کے پیچیدہ سماجی اور سیاسی تناظر کو مکمل طور پر سمجھے بغیر تبصرے کرتی ہیں، تو انہوں نے جواب دیا کہ وہ خود کو ہندوستان کا ماہر قرار نہیں دیتیں۔ انہوں نے کہا کہ اختلافِ رائے جمہوری بحث کا حصہ ہے اور وہ مختلف آراء کا احترام کرتی ہیں۔ ہندوستان پر اپنی مسلسل توجہ کی وجہ بیان کرتے ہوئے ہیلی لینگ سوینڈسن نے کہا کہ عالمی سطح پر ہندوستان کا بڑھتا ہوا سیاسی اور معاشی اثر و رسوخ قدرتی طور پر بین الاقوامی میڈیا کی دلچسپی کا باعث بنتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف ہندوستان ہی نہیں بلکہ چین سمیت دیگر ممالک کے معاملات پر بھی اظہارِ خیال کرتی رہی ہیں، تاہم اس وقت ان کے سوشل میڈیا پر موجود زیادہ تر افراد ہندوستان میں آزادیٔ صحافت سے متعلق ان کی رائے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: اسرائیل غزہ کے بچوں کو روز مرہ کے معمول کے طور پر قتل کر رہا ہے: رپورٹ

انہوں نے مزید کہا کہ یورپی میڈیا اکثر یورپی یونین اور ہنگری جیسے ممالک کے مسائل پر تفصیل سے رپورٹنگ کرتا ہے، لیکن ان کے خیال میں عالمی ذرائع ابلاغ میں ہندوستان کو اس نوعیت کی جانچ پڑتال نسبتاً کم ملی ہے، حالانکہ ایک بڑی جمہوریت ہونے کے ناطے وہ بھی اسی سطح کی توجہ کا مستحق ہے۔ اس سوال پر کہ کیا ان کی سوشل میڈیا سرگرمی انہیں خود ایک خبر بنا رہی ہے، انہوں نے کہا کہ ایکس پر ہونے والی بحثوں کو خبر بنانا یا نہ بنانا میڈیا اداروں کا فیصلہ ہوتا ہے، نہ کہ ان کا۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف اپنی رائے اور سوالات عوام کے سامنے رکھتی ہیں، جبکہ ان پر رپورٹنگ کرنا مختلف اشاعتی اداروں کی صوابدید ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK