ہندوستان میں مارکیٹ کے مطابق تیل کی قیمت خود کمپنیاں طے کرتی ہیں اس لئے حکومت کے اس اعلان کے باوجود کہ اسٹینڈرڈ پیٹرول کی قیمتیں نہیں بڑھی ہیں پریمیم پیٹرول اور انڈسٹریل ڈیزل کا بوجھ صارفین پر ہی پڑ رہا ہے۔
آبنائے ہرمز پر ایران کا قبضہ ہے اور یہاں روس، چین وغیرہ کے جہازوں کو چھوٹ دینے اور ہندوستان کے بھی چند جہازوں کو جانے دینے کے باوجود جہازوں کی آمد و رفت رکی ہوئی ہے جس سے ہندوستان ہی نہیں دنیا کی معیشت بھی خطرے میں ہے۔ عالمی حالات کو بہانہ بنا کر مقامی ڈیلرس بھی کھیل کھیل رہے ہیں اس سے مہنگائی بھی بڑھ رہی ہے اور تیل و گیس کی سپلائی بھی متاثر ہے۔ خلیجی ممالک میں برسر روزگار ہندوستانی وہاں سے اپنے ملک آنے کی فکر میں ہیں اس لئے ان کے ذریعہ بھیجی جانے والی رقوم میں بھی حد درجہ کمی ہو رہی ہے اور ان سب کا مجموعی اثر یہ ہو رہا ہے کہ ہندوستانی کرنسی یعنی روپے پر دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ ہندوستان اپنی ضرورت کا تقریباً ۸۰؍ فیصد کچا مال درآمد کرتا ہے۔ اس کی قیمت بڑھنے سے اس کے چالو کھاتہ یعنی کرنٹ اکاؤنٹ میں خسارہ بھی بڑھتا ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ میں خسارہ بڑھنے سے کرنسی کی قیمت میں کمی ہوتی ہے۔ یہاں یہ باٹ ذہن میں ہونا ضروری ہے کہ چونکہ ہندوستان کی تیل و گیس کی ضرورتوں کا زیادہ تر انحصار (کم و بیش ۸۵؍ فیصد) درآمدات پر ہے لہٰذا روپے پر دباؤ پڑنا ضروری تھا۔ اس پر ستم یہ ہوا کہ خلیجی ممالک سے ہندوستان میں آنے والی رقوم میں بھی کمی ہوگئی لہٰذا دباؤ بھی بڑھ گیا۔ اس کا مطلب ہے کہ اشیاء کی قیمتیں بڑھی اور روپے کی قیمت کم ہوئی ہے۔ حکومت کے جاری کئے ہوئے اعداد و شمار کے مطابق بھی پھٹکر یعنی خوردہ مہنگائی دو فروری کے مقابلے ۳ء۲۱؍ بڑھی ہے۔ اگر طویل عرصے تک کچے تیل کی قیمت فی بیرل ۱۰۰؍ ڈالر سے زیادہ رہتی ہے تو یقیناً ہندوستانی معیشت بھی پٹری سے اتر سکتی ہے۔ ایسے میں عالمی ریٹنگ ایجنسی آئی سی آر اے کا اندازہ ہے کہ ۲۷- ۲۰۲۶ء میں ہندوستان کا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کا ۱ء۹؍ سے ۲ء۲؍ فیصد تک ہوسکتا ہے۔
روپیہ یعنی ہندوستانی کرنسی حال ہی میں گراوٹ دیکھ کر بہتری کی طرف بڑھی ہے مگر بڑھی ہوئی قیمت پر کچا تیل درآمد کرنے سے کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ بڑھ سکتا ہے ایسی صورت میں روپے کی قیمت مزید کم ہونے کا اندیشہ غلط بھی نہیں ہے۔
اس بحران کی اصل وجہ وہ جنگ ہے جو امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر مسلط کی ہے اور جو اب پورے مغربی ایشیاء کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔ اسی سبب چند ملکوں کے علاوہ تیل و گیس کے ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزر نہیں پا رہے ہیں ۔ ہندوستان کا تقریباً ۹۰؍ فیصد امپورٹ یعنی درآمد اسی راہ سے ہوتی ہے۔ حکومت نے اقدام تو کئے ہیں مگر مقامی ڈیلرس بھی اپنا کھیل کھیل رہے ہیں اسلئے حکومت کی ایجنسیوں کو مستعد ہونے کے علاوہ حکومت کو متبادل کی سہولت پیدا کرنا بھی ضروری ہے۔ یہ بات یوں ہی نہیں ہے۔ وزیراعظم کی ’پردھان منتری اجولا یوجنا‘ کے تحت ملک کے ۳۲ء۹۹؍ کروڑ گھروں کو ایل پی جی سے جوڑا گیا ہے۔ اسی میں ۱۰ء۳۳؍ فیصد رعایتی کنکشن بھی ہیں لیکن آج بھی ملک کے تقریباً ۵۰؍ کروڑ لوگ ایل پی جی کے بجائے گوبر اور لکڑی سے اپنے ایندھن کی ضرورت پوری کرتے ہیں ۔ ایسے بھی گھر ہیں جو اپنی ساری ضرورتیں ایل پی جی سے نہیں پوری کرسکتے لہٰذا وہ گوبر اور لکڑی کا بھی استعمال کرتے ہیں ۔ ایسے لوگ دیہی علاقوں میں زیادہ ہیں ۔ ایسے میں حکومت کے لئے ضروری ہے کہ وہ چور بازاری کرنے یا کسی اور طرح سے سپلائی متاثر کرنے والوں کے خلاف اپنے اقدام سخت کرنے کے علاوہ متبادل کی سہولت بھی فراہم کرے۔ ہندوستانی حکومت کو بدلتی ضرورتوں کا احساس ہے اسی لئے وہ اپنے امپورٹ میں تنوع پیدا کر رہی ہے لیکن کچے تیل کی بڑھتی قیمت اس کے لئے بھی مصیبت بنی ہوئی ہے۔ یہی کیا کم تھا کہ موجودہ قیمت ۱۰۰؍ ڈالر سے زیادہ بنی ہوئی تھی کہ سعودی عرب نے متنبہ کیا ہے کہ کچے تیل کی قیمت ۱۸۰؍ ڈالر فی بیرل سے بھی زیادہ ہوسکتی ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہو رہا ہے کہ ڈالر کے مقابلے روپے کی قیمت مزید کم ہونے کا اندیشہ پیدا ہوگیا ہے۔ جنگ نہیں رکی تو ہندوستان کے زر مبادلہ میں مزید کمی ہوسکتی ہے۔ ہندوستان میں مارکیٹ کے مطابق تیل کی قیمت خود کمپنیاں طے کرتی ہیں اس لئے حکومت کے اس اعلان کے باوجود کہ اسٹینڈرڈ پیٹرول کی قیمتیں نہیں بڑھی ہیں پریمیم پیٹرول اور انڈسٹریل ڈیزل کا بوجھ صارفین پر ہی پڑ رہا ہے۔ انڈسٹریل ڈیزل کا استعمال صنعتوں میں لگی ہوئی بڑی مشینوں میں کیا جاتا ہے۔ اس میں اضافہ کا مطلب پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہے۔ اس سے صنعتوں کی پیداوار کا کم ہونا اور مصنوعات کا مہنگا ہونا یقینی ہے۔ کمرشیل ایل پی جی بحران پہلے ہی بڑھ چکا ہے۔ اس صورتحال سے دُنیا لاعلم بھی نہیں ہے شاید اسی لئے جاپان، فرانس، برطانیہ، جرمنی وغیرہ ۶؍ ممالک جو جنگ سے دور تھے اور اب تک دور ہیں ، نے آبنائے ہرمز کو جہازوں کی آمد و رفت کو محفوظ بنانے کی بات کہی ہے۔ ان کی اپنی ضرورتیں انہیں آبنائے ہرمز کو محفوظ بنانے کی بات کرنے پر مجبور کر رہی ہیں مگر مسئلہ کا اصل حل امریکہ، اسرائیل اور ایران کے پاس ہے جو جنگ ختم کرکے دُنیا کو راحت دے سکتے ہیں ۔ امریکی صدر نے ۴۸؍ گھنٹے میں آبنائے ہرمز پر قبضہ چھوڑنے کا الٹی میٹم دیا ہے مگر جواب میں ایران نے جو کہا اس سے لگتا ہے کہ آئندہ وہ خلیج کے ملکوں میں امریکی تنصیبات اور اڈوں پر حملہ کرنے کے علاوہ خلیج کے ملکوں کے تیل اور پانی کے ذخیروں کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔
ایران نے چینی کرنسی میں قیمت ادا کرنے والے ملکوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے دینے کی بات کہی ہے۔ ہندوستان پہلے ایران سے سستا تیل خریدتا تھا جو اس نے ختم کر دیا۔ ظاہر ہے یہ کسی دباؤ کا نتیجہ تھا اس کے باوجود ایران نے ہندوستان کے چند جہازوں کو گزرنے دیا ہے لیکن ایسا کب تک ہوسکتا ہے؟ اچھا ہوتا کہ ہندوستان جنگ کے خاتمہ کی مہم میں شریک ہوتا۔ یوں بھی امریکہ اور اسرائیل ایران کے شہریوں کو نشانہ بنانے کی دہائی دے کر اس جنگ کو ختم کرنے کی گہار لگائی ہے جو انہوں نے خود شروع کی تھی۔ ایسا اس لئے ہو رہا ہے کہ غزہ کے شہیدوں کا خون رنگ لارہا ہے اور عالمی رائے عامہ کی فکر نہ کرنے والا اسرائیل عالمی رائے عامہ ہموار کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس پر شکست کا خوف بھی سوار ہے اور اپنے فوجیوں کے مارے جانے کے خوف سے ہی امریکہ نے ایران کے خلاف اپنے فوجی نہیں بھیجے ہیں ۔ بھیجتا تو وہی ہوتا جو افغانستان میں ہوچکا ہے۔