بہار میں نئے وزیر اعلیٰ کا اعلان بھی ہوگیا، انہوں نے حلف بھی لے لیا مگر سمراٹ چودھری اور ان کی کابینہ کا اصل امتحان ریاستی عوام کے اعتماد پر پورا اُترنے کا ہے۔
بہار حکومت۔ تصویر:آئی این این
ریاست بہار میں وزیر اعلیٰ سمراٹ چودھری کی قیادت والی اتحادی حکومت جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی اور جنتا دل متحدہ شامل ہے اس کی نئی کابینہ کے تمام نئے ۳۲؍ وزراء کو ۷؍ مئی ۲۰۲۶ء کو حلف دلایا گیا ۔ اس تاریخی سیاسی تقریب میں وزیر اعظم نریندر مودی ، وزیر داخلہ امیت شاہ ، بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی صدر نتن نوین ، ریاستی بھاجپا صدر سنجئے سراوگی، سابق وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے ساتھ ساتھ تمام اتحادی یعنی جیتن رام مانجھی اور چراغ پاسوان بھی شامل تھے۔ بہار کے گورنر لفٹنٹ سید عطا حسنین نے تاریخی گاندھی میدان میں ان تمام وزرا کو حلف دلایا جن میں نتیش کمار کے صاحبزادہ نشانت کمار اور اوپندر کشواہا کے بیٹے دیپک پرکاش جو فی الوقت اسمبلی یا کونسل کے رکن نہیں ہیں وہ بھی شامل کئے گئے۔ نئی کابینہ میں کل ۱۹؍پرانے چہرے ہیں اور ۷؍ بالکل نئے شامل کئے گئے ہیں ۔پانچ خواتین کو بھی کابینہ میں جگہ ملی ہے۔
سمراٹ چودھری کی نئی کابینہ کو صرف اقتدار کی تبدیلی کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا، بلکہ یہ بہار میں نئی سیاسی حکمت عملی، سماجی توازن، ذات پات کے فارمولے، نوجوان قیادت اور ہندوتوا سیاست کے نئے تجربے کی علامت بھی ہے۔ اس نئی حکومت سے عوام کی توقعات بھی وابستہ ہیں اور سیاسی حلقوں کی نظریں بھی اسی پر مرکوز ہیں ۔ سمراٹ بہار کی سیاست میں ایک تجربہ کار اور سرگرم لیڈر کے طور پر جانے جاتے ہیں۔ وہ شکونی چودھری سابق وزیر کے فرزند ہیں اور سیاسی وراثت انہیں اپنے خاندان سے ملی۔ ابتدا میں وہ راشٹریہ جنتا دل کے ساتھ رہے، بعد ازاں جے ڈی یو اور پھر بی جے پی میں شامل ہوئے۔ ان کی سیاست کا بنیادی مرکز پسماندہ طبقات، خصوصاً کشواہا برادری رہی ہے۔بی جے پی نے انہیں آگے لا کر یہ پیغام دینے کی کوشش کی ہے کہ پارٹی اب بہار میں صرف اعلیٰ ذاتوں کی جماعت نہیں بلکہ پسماندہ طبقات کی قیادت کو بھی مرکزی حیثیت دینا چاہتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سمراٹ چودھری کا انتخاب ایک سیاسی حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔بہار کی سیاست میں کابینہ کی تشکیل ہمیشہ ذات پات کے توازن کے گرد گھومتی رہی ہے۔ سمراٹ کی کابینہ میں بھی مختلف ذاتوں، طبقات اور علاقوں کو نمائندگی دی گئی ہے۔ کابینہ میں راجپوت، بھومیہار، یادو، کشواہا، دلت، مہادلت اور انتہائی پسماندہ طبقات کے نمائندے شامل ہیں۔ البتہ اقلیتی طبقہ کے ایک واحد وزیر زماں خاں کے علاوہ اور کوئی نہیں ہے۔
بہار میں بی جے پی کی سیاست طویل عرصہ تک اتحادی سیاست کے سہارے چلتی رہی مگر اب پارٹی خود قیادت کے مرکز میں آنا چاہتی ہے۔ سمراٹ کی تاج پوشی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ پارٹی سمجھتی ہے کہ اگر یوپی کی طرح بہار میں بھی مضبوط ہندوتوا اور پسماندہ طبقات کے اتحاد کو کامیاب بنایا گیاتو وہ طویل عرصے تک اقتدار میں رہ سکتی ہے۔اسی لیے کابینہ میں نظریاتی وفاداری اور سماجی نمائندگی دونوں کو مدنظر رکھا گیا۔ پارٹی چاہتی ہے کہ آر ایس ایس کے نظریاتی حلقے بھی خوش رہیں اور زمین پر سماجی توازن بھی قائم رہے۔
راشٹریہ جنتا دل نے اس نئی کابینہ کو محض سیاسی تجربہ قرار دیا ہے۔ اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اصل مسائل بدستور موجود ہیں اور چہرے بدلنے سے عوامی مشکلات ختم نہیں ہوں گی۔ تیجسوی یادو مسلسل بے روزگاری، مہنگائی اور خصوصی ریاستی درجہ جیسے مسائل کو اٹھا رہے ہیں۔ اپوزیشن اس بات پر بھی زور دے رہی ہے کہ بی جے پی بہار کی علاقائی سیاسی شناخت کو کمزور کر رہی ہے۔ ان کے مطابق دہلی کی قیادت اب براہ راست بہار کی سیاست کو کنٹرول کرنا چاہتی ہے۔ بہار میں مسلم آبادی ایک اہم سیاسی طاقت ہے۔ نئی کابینہ کے حوالے سے اقلیتی طبقے کے ذہن میں کئی سوالات موجود ہیں۔ وہ یہ دیکھنا چاہتے ہیں کہ حکومت تعلیم، روزگار، امن و امان اور سماجی انصاف کے معاملات میں کس حد تک سنجیدہ ہے۔اگر حکومت سب کے ساتھ انصاف اور ترقی کے اصول پر عمل کرتی ہے تو اقلیتوں میں اعتماد پیدا ہو سکتا ہے، لیکن اگر سیاست صرف اکثریتی جذبات کے گرد گھومتی رہی تو سماجی ہم آہنگی متاثر ہونے کا خطرہ موجود رہے گا۔
بہار آج بھی ملک کی پسماندہ ریاستوں میں شمار ہوتا ہے۔ صنعتی ترقی نہ ہونے کے برابر ہے، لاکھوں نوجوان روزگار کیلئے دوسری ریاستوں کا رخ کرتے ہیں، صحت اور تعلیم کا نظام شدید دباؤ کا شکار ہے۔ نئی کابینہ کیلئے یہ سب سے بڑا امتحان ہوگا۔حکومت اگر انفراسٹرکچر ، زراعت، چھوٹی صنعتوں اور آئی ٹی سیکٹر پر توجہ دیتی ہے تو بہار کی معیشت کو نئی رفتار مل سکتی ہے۔ گنگا کے کنارے صنعتی راہداری، سیاحت کے فروغ، بودھ سرکٹ اور مکھانہ صنعت جیسے شعبے ترقی کے نئے دروازے کھول سکتے ہیں۔بہار کی شناخت صرف سیاسی کشمکش نہیں بلکہ تہذیبی تنوع بھی ہے۔ یہاں بودھ، جین، صوفی اور گنگا جمنی تہذیب کی گہری روایت موجود ہے۔ نئی حکومت کیلئے ضروری ہے کہ وہ سماجی اتحاد اور بھائی چارے کو فروغ دے۔نتیش کمار کے دور میں خواتین کو پنچایتوں میں ریزرویشن، سائیکل اسکیم اور شراب بندی جیسے اقدامات کے ذریعے سیاست اور سماج میں نمایاں مقام ملا۔ نئی کابینہ کو یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ خواتین کے مسائل کو بھی سنجیدگی سے لے رہی ہے۔ سمراٹ کی نئی کابینہ بہار کی سیاست میں ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتی ہے۔ یہ حکومت ایک طرف بی جے پی کی نئی سیاسی حکمت عملی کی نمائندہ ہے تو دوسری طرف عوامی توقعات کے ایک بڑے بوجھ کی حامل بھی ہے۔ نوجوان روزگار چاہتے ہیں، کسان بہتر قیمت چاہتے ہیں، خواتین تحفظ اور خودمختاری کی خواہاں ہیں اور اقلیتیں انصاف و اعتماد کی متلاشی ہیں۔ اگر یہ حکومت سماجی انصاف، ترقی، شفافیت اور ہم آہنگی کے اصولوں پر عمل کرتی ہے تو بہار میں ایک نئے دور کا آغاز ممکن ہے لیکن اگر اقتدار صرف سیاسی مفادات اور انتخابی حساب کتاب تک محدود رہا تو عوامی بے چینی مزید بڑھے گی۔ بہار کی تاریخ گواہ ہے کہ یہاںکے عوام خاموش ضرور رہتے ہیں مگر وقت آنے پر واضح فیصلہ سناتے ہیں۔ سمراٹ اور ان کی کابینہ کا اصل امتحان عوام کے اعتماد پر پورا اُترنے کے علاوہ کچھ نہیں۔