جنگ جاری ہے اور اس کے رُکنے کے جتنے آثار نمایاں ہیں اُتنے ہی نہ رُکنے کے اشارے بھی مل رہے ہیں۔ گولہ بارود اور میزائل و ڈرون کے اس ماحول میں یہ جاننا ضروری ہے کہ عوامی زندگی کیسی ہے، عوام کیا کہہ رہے ہیں۔
ملککے معروف صحافی اشوتوش نے گزشتہ دنوں اپنے یو ٹیوب چینل پر ایران میں مقیم ایک ہندوستانی تحقیق کار (ریسرچر) سید عاکف زیدی کو انٹرویو کیلئے مدعو کیا تھا تاکہ ایران کے زمینی حالات سے اپنے ناظرین کو آگاہ کرسکیں ۔ سید عاکف زیدی نے بہت سی دوسری باتوں کے علاوہ اشوتوش کے سوالوں کے جواب میں یہ بھی بتایا کہ ایران میں اسرائیلی و امریکی بمباری سے، سب سے زیادہ نقصان تہران شہر کا ہوا ہے۔ سرکاری اطلاعات کے مطابق ساڑھے چار سو شہادتیں اب تک ہوچکی ہیں جبکہ چند ہزار افراد زخمی ہیں ۔ دیگر شہروں مثلاً قم، مشہد وغیرہ میں ایسا کوئی نقصان نہیں ہوا ہے جسے جنگی نقصان کے زمرے میں رکھا جاسکے۔
یہ بتاتے ہوئے اُنہوں نے ایک ایسی اطلاع دی جس سے ایرانی عوام کی جرأت اور بے خوفی کا اظہار ہوتا ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ تہران کے ہر بڑے چوراہے پر افطار کے بعد سے سحری تک مجمع ہوتا ہے جس کا ہر فرد ترانے پڑھتا ہے، نعرے لگاتا ہے اور اس طرح اپنے حکمرانوں اور فوجیوں کو اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ وہ ذرہ برابر بھی نہ ڈریں ، وہ اُن کے ساتھ ہیں ۔ اس دوران متعلقہ اہلکار اُن چوراہوں کا ٹریفک نظام تبدیل کردیتے ہیں تاکہ مظاہرہ کرنے والوں کو دشواری نہ ہو۔ سید عاکف زیدی کا کہنا تھا کہ تہران ہی میں سب سے زیادہ بم گرے ہیں ، سب سے زیادہ نقصان ہوا ہے اور تہران ہی میں سب سے زیادہ جو ش اور جذبہ بھی دیکھنے کو ملے گا۔
اس اطلاع کی توثیق کی ضرورت اس لئے بھی پیش نہیں آتی کہ ایران سے جو تصویریں ذرائع ابلاغ تک پہنچ رہی ہیں اُن کو دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ مجمع کو سڑک پر آتے دیر نہیں لگتی۔ مجمع میں شامل افرادکو یہ خوف نہیں ہے کہ اگر کوئی میزائل آگرا تو کیا ہوگا۔ سابق سپریم لیڈر خامنہ ای کی شہادت ہوئی تب بھی ہزاروں لوگ بے ساختہ سڑکوں پر نکل آئے۔ یہی کیفیت اُس وقت تھی جب نئے سپریم لیڈر کا انتخاب اور اعلان ہوا۔ ہزاروں لوگ اپنی جمایت کا اعلان کرنے کیلئے گھروں سے باہر آگئے۔ کل، جمعۃ الوداع پر بھی غیر معمولی جوش و خروش کا مظاہرہ ایران کی سڑکوں پر ہوا۔ ان سب باتوں سے ایرانی عوام کے جذبے کا اظہار ہوتا ہے۔ اس کی وجہ سے مغرب کا وہ پروپیگنڈہ پس پشت چلا گیا جس کے ذریعہ یہ باور کرایا جارہا تھا کہ ایران میں مخالفت اور بغاوت کے آثار و حالات ہیں اور بہت سے لوگ موجودہ حکومت سے ناراض ہیں ۔ یہ جنگ شروع ہونے سے پہلے کا قصہ ہے۔ جنگ شروع ہوئی اور ایران کے ایک طبقہ کے وہ ہنگامے، جن کو بغاوت کی لہر قرار دیا جارہا تھا، یکلخت تھم گئے اور پوری قوم نے خود کو ایک وحدت میں پرو لیا۔ اس پس منظر میں ، یہ فرق ملحوظ رکھنا چاہئے کہ جنگ کیلئے اسلحہ درکار ہوتا ہے مگر اسلحہ کا زور عوام کے جوش سے چلتا ہے۔ جاری جنگ میں ایران کو ایک اور معاملے میں بڑی سبقت حاصل ہے۔ آپ دیکھیں گے کہ امریکہ میں ٹرمپ کے خلاف عوامی رائے تیزی سے بدل رہی ہے اور اُن کی مخالفت میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہی حال اسرائیل کا ہے جہاں کے عوام نیتن یاہو سے شدید طور پر بدظن ہیں مگر ایران کا معاملہ قطعی مختلف ہے۔ وہاں کے عوام حکومت کے ساتھ ہیں اور اُسے ہمت اور حوصلہ دے رہے ہیں کہ وہ دشمنوں کا تعاقب جاری رکھے۔ امریکہ و اسرائیل اپنا نقصان چھپاتے ہیں ، ایران اپنا نقصان خود ظاہر کرتا ہے۔ امریکہ و اسرائیل کے جہاز گرتے ہیں تو وہ اُسے ’’دوستانہ لڑائی‘‘ (فرینڈلی فائٹ) کا نتیجہ قرار دیتے ہیں ، ایران اپنے ڈرونس اور میزائلوں کے روک دیئے اور تباہ کردیئے جانے کی خبرو ں کو روکتا نہیں ہے، امریکہ بار بار بیان بدلتا ہے ایران اپنے بیان پر قائم رہتا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل جنگ روکنے کی سرگرمی شروع کرچکے ہیں ، ایران اپنے فیصلے پر اٹل ہے کہ جب تک اس کی تین شرطیں منظور نہیں کرلی جاتیں اُسے جنگ روکنے میں دلچسپی نہیں ہوگی۔ ایران میں حکومت کی بے خوفی عوام کی بے خوفی سے پیدا ہورہی ہے اور امریکہ و اسرائیل میں عوام کی بے چینی سے حکومتوں کی بے چینی بڑھ رہی ہے۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایران اتنے سخت تیور اپنائے گا۔ کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایران، جو مذاکرات میں تعاون کررہا تھا، جب مسلط کی ہوئی جنگ میں اُترے گا تو دو بڑی حربی طاقتوں کے چھکے چھڑا دے گا۔ ایسی بہت سی باتوں کا جائزہ لیں تو اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہا جاسکتا کہ ایران کو صرف جنگی سطح پر سبقت حاصل نہیں ہے، عوامی، اخلاقی اور سفارتی سطح پر بھی اُس کا پلڑا بھاری ہے۔
اگر آج، جبکہ جنگ کا پندرہواں دن ہے، جنگ لڑنے والے ملکوں کا محاسبہ کیا جائے اور محاسبہ کرنے والا غیر جانبدار ہو تو مذکورہ ہر سطح پر ایران کے حق میں رائے دے گا کہ اتنے دنوں میں ایران کا قد بڑھا ہے، اس کی حمایت کا دائرہ وسیع ہوا ہے، اس کی دھاک میں اضافہ ہوا ہے اور اس نے اپنے سیاسی شعور کو منوایا ہے یعنی اس نے اب تک کی جنگ جیت لی ہے۔ اس دوران، اِس ملک نے دُنیاکو اپنے منظم و مستحکم ہونے کا بھی احساس دلایا ہے۔ وہ بدحواس نہیں ہوا، پریشان نہیں ہوا بلکہ نہایت سنجیدگی اور تحمل کے ساتھ یہ سمجھانے کی کوشش کررہا ہے کہ اگر جنگ متبادل ہے تو جنگ ہی سہی، ہم اس کیلئے بھی کمربستہ ہیں اور لڑیں گے جب تک جیت نہیں جائینگے۔
گزشتہ دنوں ایک سوشل میڈیا پوسٹ پر نظر پڑی۔ اس میں بڑی پتے کی بات لکھی تھی کہ ’’تعلیم کہیں سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے مگر تہذیب ہمیشہ گھر سے ملتی ہے۔‘‘ ایرانی عوام کے جوش و خروش میں اُن کی تاریخ اور تہذیب کا دخل نہ ہو یہ ممکن نہیں ہے۔ ٹرمپ کیا جانیں کہ ایران کتنی پرانی تہذیب ہے۔ نیتن یاہو کو کیا علم کہ تہذیب کی جڑیں مضبوط ہوں تو اس کے ساتھ پروان چڑھنے والی نسلیں کن صفات کی حامل ہوتی ہیں ۔ مغرب کے اہل سیاست کو کیا پتہ کہ انسان کی اصل طاقت کیا ہوتی ہے اور ملکوں کا اصل سرمایہ کیا ہونا چاہئے۔یہ سب مادّی مفادات کے اسیر ہیں ۔ انہوں نے قوموں کے عروج و زوال کی داستانیں پڑھی بھی ہوں گی تو اُن سے کچھ نہیں سیکھا۔ انہیں گولہ بارود ہی میں کامیابی نظر آتی ہے۔ انہیں معلوم نہیں کہ گولہ بارود نے کسی کو کچھ نہیں دیا مگر تہذیب نے قوموں کا سربلند کیا ہے۔